وزارت دفاع
ہندوستانی فضائیہ کے وارفیئر اینڈ ایرو اسپیس اسٹریٹجی پروگرام (ڈبلیو اے ایس پی)کا پانچواں ایڈیشن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
प्रविष्टि तिथि:
29 JUN 2026 8:43PM by PIB Delhi
وارفیئر اینڈ ایرو اسپیس اسٹریٹجی پروگرام(ڈبلیو اے ایس پی) کی کامیاب تکمیل کے موقع پر 29 جون کو نئی دہلی میں’’کیپ اسٹون سیمینار‘‘کا پانچواں ایڈیشن منعقد ہوا۔ اس تقریب میں ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے بطور مہمان خصوصی شر کت کی۔ اس کانفرنس کو ہندوستان کے سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس)، جنرل انیل چوہان (ریٹائرڈ)، ہندوستانی فضائیہ کے سابق سربراہوں اور کئی معزز ریٹائرڈ فوجی افسران کی موجودگی نے اس اقدام کی اسٹریٹیجک اہمیت اور بڑھتے ہوئے وقار کو اجاگر کیا۔
یہ کیپ اسٹون سیمینار مرکز برائے ایرو اسپیس پاور اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز(سی اے پی ایس ایس) نئی دہلی اور کالج آف ایئر وارفیئر(سی اے ڈبلیو)حیدرآباد کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقد کیے گئے چھ ماہ کے گہرے فکری اور علمی پروگرام کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سال حصہ لینے والی ٹیموں نے دو اہم موضوعات پر تفصیلی اور گہرائی سے مطالعہ پیش کیا۔ پہلا تھا ’’ایرو اسپیس پاور کا ارتقاء:روایتی حکمت عملی سے موجودہ محدود تنازعات تک‘‘جبکہ دوسرا موضوع’’مستقبل کے لیے ایرو اسپیس پاور کی تیاری:جدت، انضمام اور قوت کا ڈھانچہ ‘‘تھا۔
ڈبلیواے ایس پی ایک منفرد پروگرام ہے جو ہندوستانی فضائیہ کے درمیانے درجے کے افسران کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ تینوں سروسز کے افسران اور وزارت دفاع کے سویلین اہلکاروں کو بھی شرکت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ مستقبل میں عالمی تعاون کے جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پروگرام میں شرکت کے لیے ہندوستان کے دوست ممالک کے افسران کو مدعو کرنے کا تصور ہے۔
مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور میں بھی ڈبلیو اے ایس پی وسیع مطالعہ گہرائی سے سمجھنے اور اہم تحریروں اور تحقیقی مقالوں کے تنقیدی تجزیے کے ذریعے اپنی منفرد شناخت کو برقرار رکھتا ہے۔ دنیا بھر کے نامور ماہرین کے ساتھ اعلیٰ سطحی مکالمے اور بات چیت پروگرام کی علمی وسعت کو مزید تقویت بخشتی ہے۔ جس میں فوجی تاریخ، فضائی اور خلائی طاقت، ٹیکنالوجی، فوجی نظریے اور بین الاقوامی تعلقات جیسے اہم موضوعات پر توجہ مرکوز ہوتی ہے۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد ملک کی مستقبل کی قیادت میں اسٹریٹیجک سوچ کو فروغ دینا، ان کے نقطہ نظر کو وسیع کرنا اور قومی سلامتی کی بات چیت کو ادارہ جاتی بنانا ہے۔ اس اقدام کی کامیابی اس کے سابق شرکاء کی کامیابیوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ جو آج حکومت، اہم پالیسی ریسرچ اداروں اور فوجی تعلیمی اداروں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ چیف آف دی ایئر اسٹاف نے شرکاء کو ان کی شاندار لچک، لگن اور تعلیمی نظم و ضبط کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے سروس کے دوران مسلسل علم حاصل کریں۔ اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو مسلسل ترقی دیں، اور مستقبل کی آپریشنل ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے کے لیے ملک بھر میں اسٹریٹجک سوچ اور اختراع کے کلچر کو فروغ دیں۔ سیمینار کے دوران پہلا ڈبلیو اے ایس پی-سی اے ڈبلیو جرنل بھی جاری کیا گیا۔
4IJU.jpeg)
SGES.jpeg)
AP01.jpeg)
FLRE.jpeg)
**********
) ش ح ۔ م ح۔ن م)
U.No.9327
(रिलीज़ आईडी: 2279268)
आगंतुक पटल : 4