ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب بھوپندر یادو نے الور، راجستھان میں شیروں کی ازسر نو آبادکاری سے متعلق قومی ورکشاپ کا آغاز کیا



شیروں کے تحفظ سے جنگلات ، آبی ذخائر اور مالا مال حیاتیاتی تنوع کا تحفظ بھی ہوتا ہے: وزیر ماحولیات

وزیر نے بھارت میں شیروں کی سرگرمی کے ساتھ دیکھ بھال کا منصوبہ، اور بھارت میں شیروں کی ازسر نو آبادکاری اور بحالی پر کتابچہ جاری کیا، اس کے علاوہ پروجیکٹ چیتا کی سالانہ رپورٹ بھی جاری کی

प्रविष्टि तिथि: 28 JUN 2026 2:28PM by PIB Delhi

ماحولیات جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپندر یادو نے آج راجستھان کے شہر الوَر میں ’’شیروں کا ازسر نو تعارف: مواقع چنوتیاں‘‘ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا آغاز کیا، ساتھ ہی شیروں کے تحفظ اور پروجیکٹ چیتا کے موضوع پر تین اشاعتوں کا اجراء بھی کیا۔

ماحولیات، جنگلا اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے ماتحت نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے)  کے زیرِ اہتمام، حکومتِ راجستھان کے اشتراک سے منعقدہ اس ورکشاپ میں بھارت بھر میں شیروں کے قدرتی مسکن سے فیلڈ ڈائریکٹرز، چیف وائلڈ لائف وارڈنز اور جنگلی حیات کے ماہرین نے شرکت کی تاکہ شیروں کی دوبارہ آباد کاری اور فعال انتظام کاری کے لیے سائنس پر مبنی حکمتِ عملیوں پر غور و خوض کیا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0011SYD.jpg

سریسکا ٹائیگر ریزرو میں شیروں کی ازسر نو آبادکاری کے18 برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ اس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ شیروں کے تحفظ سے مراد صرف ایک واحد جانور کا تحفظ  نہیں ہے، بلکہ اس سے جنگلات، آبی ذخائر اور مالامال حیاتیاتی تنوع کا بھی تحفظ ہوتا ہے جو شیروں کے مسکن کا حصہ ہیں۔

شیروں کی ازسر نو آباد کاری کے پروگرام کو جنگلی حیات کے تحفظ میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے، جناب یادو نے کہا کہ یہ دنیا میں پہلی مرتبہ سائنسی طریقے سے شیروں کو ایسے قدرتی مسکن میں کامیابی سے دوبارہ آباد کرنے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں یہ نسل مقامی طور پر ختم ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام سائنسی انتظام کاری، انتھک تحفظاتی کوششوں اور عوامی شمولیت کے ذریعے جانوروں کی نسل کی کامیاب بحالی کی ایک عالمی مثال بن کر ابھرا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سریسکا نے غیر معمولی بازبحالی ملاحظہ کی ہے جہاں 2005 میں مقامی طور پر معدوم ہوچکے شیروں کی آبادی آج 56 تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا آج سریسکا جانوروں کی نسل کی کامیاب بازبحالی کی ایک عالمی مثال بن چکا ہے  اور جانوروں کے تحفظ سے متعلق مستقبل کی پہل قدمیوں کے لیے بیش قیمتی تجربات فراہم کرتا ہے۔

شیروں کے تحفظ میں ملک کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران ٹائیگر ریزرو کی تعداد 46 سے بڑھ کر 58 ہو گئی ۔ انہوں نے یہ بتایا کہ بھارت نے 2022 تک جنگلی شیروں کی آبادی کو دگنا کرنے کے سینٹ پیٹرزبرگ ڈیکلریشن  کے ہدف کو کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0029KU6.jpg

وزیر موصوف نے کہا کہ پنا اور سریسکا میں کامیابی کے ساتھ شیروں کی ازسر نو آباد کاری مقامی آبادیوں کے تعاون اور شمولیت کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عوامی تعاون کی کمی کی وجہ سے اوڈیشہ کے ستکوشیا ٹائیگر ریزرو میں ویسی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی۔

جناب یادو نے کہا کہ پروجیکٹ چیتا کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ مقامی برادریوں کی سرگرمی شراکت داری ہے۔

محترم وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں کی گئی ہیں تاکہ ملک اور بیرونِ ملک سے سیاحوں کو راغب کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی برادریوں کی فلاح و بہبود اور مفادات کو بھی اُتنی ہی اہمیت دی جانی چاہئے۔

جناب یادو نے یہ بھی کہا کہ ایسے قدرتی مساکن جہاں شیروں اور ہاتھیوں کی آبادی ایک ہی جگہ پائی جاتی ہے، وہاں مساکن کے درمیانی رابطے کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے پر زور دیا جانا چاہیے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ورکشاپ میں جانوروں کے لیے سازگار اور غیر سازگار علاقوں کا تجزیہ کیا جانا چاہیے اور ان عوامل پر غور و خوض کرنا چاہیے جنہوں نے شیروں کی دوبارہ آباد کاری کے کامیاب پروگراموں میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ورکشاپ شیروں کی دوبارہ آباد کاری کی سائنسی انتظام کاری پر بھی توجہ مرکوز کرے گی۔

متوازن تحفظاتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، جناب یادو نے کہا، ’’ہماری ترجیح اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارے شیر محفوظ رہیں، ہمارے جنگلات سرسبز، صحت مند رہیں اور مقامی برادریاں مسلسل پھلتی پھولتی رہیں۔‘‘

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت کا مقصد نہ صرف شیروں کا تحفظ کرنا ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی نسل معدوم  نہ ہو، اور خطرے سے دوچار نسلوں کی بحالی اور انہیں دوبارہ بحال کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ فطر کے محافظ ہونے کے ناطے، ہماری تحفظاتی کوششوں کی رہنمائی سائنسی نقطہ نظر اور انسانی اقدار دونوں کے ذریعے ہونی چاہیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0034R5I.jpg

اس موقع پر جناب یادو نے تین اہم اشاعتوں: بھارت میں شیروں کی سرگرم دیکھ بھال پر روڈ میپ، بھارت میں شیروں کی ازسر نو آبادکار اور بحالی پر کتابچے اور پروجیکٹ چیتا  کی سالانہ رپورٹ (ستمبر 2024 سے دسمبر 2025 تک) کا اجراء کیا۔

اس موقع پر موجود معززین میں راجستھان کے وزیر جنگلات جناب سنجے شرما؛ انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) کے ڈائرکٹر جنرل، جناب ایس پی یادو؛ جنگلات کے ڈائرکٹر جنرل اور ماحولیات جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی  کی وزارت کے اسپیشل سکریٹری جناب سشیل کمار اوستھی اور این ٹی سی اے کے رکن سکریٹری جناب سنجے کمار شامل تھے۔

اپنے خطاب میں، جناب ایس پی یادو نے کہا کہ شیروں کی دوبارہ آباد کاری اور نقل مکانی  ماحولیاتی توازن کو بحال کرنے کے طاقتور وسیلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سریسکا میں شیروں کی ازسر نو کامیاب آباد کاری نے دنیا بھر میں امید کی کرن پیدا کی اور یہ ثابت کیا کہ سائنسی تحفظاتی کوششوں کے ذریعے موزوں مساکن میں شیروں کی آبادی کو دوبارہ بحال کرنا ممکن ہے۔

جناب اوستھی نے کہا کہ سریسکا، جہاں شیر مقامی طور پر معدوم ہو چکے تھے، اب یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ دوسرے موزوں مساکن میں شیروں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے ایک 'سورس پاپولیشن' کے طور پر کام کر سکے۔

نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) کے ممبر سکریٹری نے کہا کہ سریسکا میں شیروں کی کامیاب دوبارہ آباد کاری 'پروجیکٹ ٹائیگر' میں ایک بڑا سنگِ میل تھی اور اس نے اس پروگرام کی کامیابی میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔

بھارت میں شیروں کی سرگرمی کے ساتھ دیکھ بھال کا روڈ میپ ماحولیاتی حالات کی بنیاد پر ممکنہ ’سورس‘ اور ’سِنک‘ علاقوں اور انتظام کاری کے اقدامات کی نشاندہی کر کے تمام ٹائیگر ریزرو اور قدرتی مساکن میں شیروں کی آبادی کے انتظام کا ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ بھارت میں شیروں کی دوبارہ آباد کاری اور بحالی پر مبنی کتابچہ منصوبہ بند دوبارہ آباد کاری اور آبادی بڑھانے کے  پروگراموں کے ذریعے شیروں کی آبادی کو بحال کرنے کے بھارت کے تجربات کو دستاویزی شکل دیتا ہے، جس میں سریسکا اور پنا ٹائیگر ریزرو کے اسباق بھی شامل ہیں۔ پروجیکٹ چیتا کی سالانہ رپورٹ  بھارت کے چیتے کی دوبارہ آباد کاری کے پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت کو پیش کرتی ہے، جس میں چیتوں کی نقل مکانی، مساکن کا انتظام، طبی مداخلتیں، عوامی شمولیت اور مستقبل کی ترجیحات شامل ہیں۔

اس ورکشاپ میں مساکن کی بحالی، شکار کی افزائش، جنگلی حیات کی نقل مکانی، مساکن کے درمیانی رابطے ، نگرانی کے پروٹوکولز اور فعال انتظام کاری کی حکمتِ عملیوں پر تکنیکی سیشن شامل تھے۔ شرکاء نے سریسکا، پنا اور دیگر ٹائیگر ریزرو میں شیروں کی دوبارہ آباد کاری کے پروگراموں سے حاصل ہونے والے تجربات کا تبادلہ کیا، جبکہ شیروں کی کمی کا سامنا کرنے والے ریزرو نے اپنی تیاریوں اور مستقبل کی بحالی کی حکمتِ عملیوں کو پیش کیا۔

اس ورکشاپ میں 'پروجیکٹ چیتا' پر ایک خصوصی سیشن اور ایک دوسرا سیشن 'گور' (جنگلی بھینسا) اور 'بارہ سنگھا' جیسی نسلوں کی نقل مکانی کے ذریعے شکار کی افزائش  کے کردار پر بھی شامل تھا تاکہ ماحولیاتی نظام کی بحالی اور شیروں کی آبادی بڑھانے میں مدد مل سکے۔

اس ورکشاپ سے سامنے آنے والی بات چیت اور سفارشات سے یہ امید کی جاتی ہے کہ ان سے سائنس پر مبنی شیروں کی دوبارہ آباد کاری، آبادی بڑھانے، شکار کے وسائل میں اضافے، مساکن کی بحالی اور فعال انتظام کاری کے ذریعے شیروں کی کمی کا سامنا کرنے والے قدرتی مساکن کے لیے مستقبل کے تحفظاتی منصوبوں کی رہنمائی ہوگی۔ ساتھ ہی یہ سفارشات نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی ، ریاستی محکمہ جاتِ جنگلات اور سائنسی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی مضبوط بنائیں گی۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:9261


(रिलीज़ आईडी: 2278620) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil