قومی انسانی حقوق کمیشن
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے قومی انسانی حقوق اداروں، ریاستی اداروں اور انسانی حقوق و بنیادی آزادیوں کے تحفظ سے وابستہ دیگر تنظیموں کے پہلے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی
چیئرمین جسٹس وی راماسبرامنین نے اسے خطے میں انسانی حقوق سے متعلق مکالمے کے لیے بروقت اور اہم اقدام قرار دیا
انہوں نے قومی انسانی حقوق کمیشن کے آئی ٹی ای سی (انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن) کے صلاحیت سازی پروگرام برائے قومی انسانی حقوق اداروں کو اجاگر کرتے ہوئے ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے منظم تربیت، بامعنی مکالمے اور سرحد پار اشتراک و تبادلۂ خیال کی اہمیت پر زور دیا
प्रविष्टि तिथि:
23 JUN 2026 7:39PM by PIB Delhi
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)نے اپنے چیئرمین جسٹس وی رامسبرامنیم کی قیادت میں آج جمہوریہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے قومی انسانی حقوق اداروں، ریاستی اداروں اور انسانی حقوق و بنیادی آزادی کے تحفظ کے ذمہ دار دیگر تنظیموں کے پہلے مشاورتی اجلاس میں ورچوئل طور پر شرکت کی۔اس موقع پر این ایچ آر سی کے سکریٹری جنرل جناب بھرت لال اور جوائنٹ سکریٹری جناب سمیر کمار بھی موجود تھے۔اجلاس میں جمہوریہ کرغزستان کے محتسب اعلی، شنگھائی تعاون تنظیم کے ڈپٹی سکریٹری جنرل، روس، چین، ایران، پاکستان، ازبکستان، قزاخستان، تاجکستان اور بیلاروس کے قومی انسانی حقوق اداروں(این ایچ آر آئی) اور متعلقہ اداروں کے سربراہان و چیئرمین کے علاوہ ممتاز مندوبین اور ماہرین نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس وی رامسبرامنیم نے جمہوریہ کرغزستان کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی اپنی صدارت کے دوران اس پہلے مشاورتی اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور اس کی قیادت کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ قومی انسانی حقوق اداروں (این ایچ آر آئی) اور متعلقہ اداروں کے درمیان باقاعدہ مشاورتی روابط کے قیام کی تجویز نہایت بروقت، دور اندیش اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اس کے ذریعے بامعنی مکالمے، باہمی افہام و تفہیم اور عملی تعاون کو فروغ ملے گا، جس سے عصر حاضر کے سماجی، اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد حاصل ہوگی۔جسٹس راما سبرامنیم نے اس بات پر زور دیا کہ قومی انسانی حقوق کے ادارے ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانے، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور معاشرتی استحکام کو یقینی بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تعاون کو ریاستی خودمختاری کے احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت، مساوات اور قومی مفادات کے باہمی احترام و رعایت جیسے بنیادی اصولوں کی رہنمائی میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔جسٹس رامسبرامنیم نے مسودۂ پروٹوکول میں شامل ان مقاصد کا خیرمقدم کیا جو معلومات کے تبادلے، بہترین تجربات کی تشہیر، ماہرین کے مابین تعاون اور انسانی حقوق سے متعلق امور پر مشترکہ و ہم آہنگ نقطۂ نظر کی تشکیل سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے درمیان باقاعدہ تبادلۂ خیال اور روابط سے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے اور ادارہ جاتی کارکردگی مزید مؤثر ہوگی۔
انہوں نے قومی انسانی حقوق اداروں (این ایچ آر آئی) کے لیے قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹی ای سی) صلاحیت سازی پروگرام کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ منظم تربیت، تعمیری مکالمے اور سرحدوں سے ماورا اشتراکِ عمل اداروں کی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جسٹس رامسبرامنیم نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے فریم ورک کے تحت مزید گہرے اور مؤثر تعاون کے لیے این ایچ آر سی، بھارت کے عزم کا اعادہ کیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ مشاورتی نظام مستقبل میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ و تحفظ کے لیے سرگرم اداروں کے درمیان مکالمے، تعاون اور تجربات کے تبادلے کا ایک اہم اور مؤثر پلیٹ فارم بن کر ابھرے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تحت موجود عدالتی تعاون کے نظام کی طرز پر مشاورتی تعاون کے امکانات سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس وی. رامسبرامنیم نے تجویز پیش کی کہ قومی انسانی حقوق ادارے (این ایچ آر آئی) بہترین تجربات کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے باقاعدگی سے سیمینار، تربیتی پروگرام اور آن لائن، آف لائن و ہائبرڈ طرز کی باہمی نشستوں کا انعقاد کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 1993 میں قائم ہونے والے قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت (این ایچ آر سی) نے گزشتہ 32 برسوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق تقریباً 23 لاکھ 70 ہزار مقدمات کی سماعت اور ان پر کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں کمیشن کو قیمتی ادارہ جاتی تجربات حاصل ہوئے ہیں، جنہیں دیگر رکن ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیا جا سکتا ہے۔جسٹس رامسبرامنیم نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک کے اداروں کے پاس بھی گراں قدر تجربات اور کامیاب عملی نمونے موجود ہیں، جن سے مسلسل رابطے اور تعاون کے ذریعے سبھی مستفید ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ پہلا مشاورتی اجلاس باہمی احترام، تجربات کے تبادلے اور انسانی وقار کے تحفظ کے مشترکہ عزم کی بنیاد پر علاقائی سطح پر انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے مضبوط، پائیدار اور عملی تعاون پر مبنی فریم ورک کی بنیاد ثابت ہوگا۔
******
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
UR No-9107
(रिलीज़ आईडी: 2277298)
आगंतुक पटल : 7