ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارتِ ٹیکسٹائل  کی جانب سے ’’عالمی منڈیوں کے لیے ٹیکسٹائل‘‘ کے موضوع پر محکمہ جاتی سربراہی اجلاس کا انعقاد  

प्रविष्टि तिथि: 23 JUN 2026 7:35PM by PIB Delhi

وزارتِ ٹیکسٹائل نے آج نئی دہلی میں ’’عالمی منڈیوں کے لیے ٹیکسٹائل: 2030 تک 100 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات کے ہدف کے حصول کی حکمتِ عملی‘‘ کے موضوع پر دو روزہ محکمہ جاتی سربراہی اجلاس کا افتتاح کیا۔ یہ اجلاس قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تال میل  کو مضبوط بنانے اور اشتراکی وفاقیت کو فروغ دینے کی غرض سے کابینہ سکریٹریٹ کے محکمہ جاتی سربراہی اجلاسوں کے اقدام کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان کو عالمی سطح پر ٹیکسٹائل کے ایک طاقتور مرکز میں تبدیل کرنے کے  وزیر اعظم نریندر مودی کے  وژن کے مطابق، اس اجلاس کا مقصد مربوط لائحۂ عمل تیار کرنا اور ملک کی ٹیکسٹائل و ملبوسات کی برآمدات کو موجودہ تقریباً 37 ارب امریکی ڈالر سے بڑھا کر 2030 تک 100 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانا ہے۔وزیر اعظم کے تصور ’’فارم سے فائبر، فائبر سے فیکٹری، فیکٹری سے فیشن اور فیشن سے فارن منڈیوں تک‘‘ سے رہنمائی پاکر  اس اجلاس کا مقصد ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں ہندوستان کی عالمی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے مربوط، قابلِ عمل اور مؤثر روڈ میپ تیار کرنا ہے۔

اس اجلاس میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (یو ٹی)، ضلعی انتظامیہ، برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسل، صنعتی تنظیموں، برآمد کنندگان، مالیاتی اداروں، ماہرینِ تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں کے نمائندے شریک ہوئے۔یہ سربراہی اجلاس ایک وسیع مشاورتی عمل کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 36 ریاستوں اور یو ٹی میں مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے، تقریباً 200 ضلعی سطح کی مشاورتیں ہوئیں اور 5,000 سے زائد متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اس عمل کے نتیجے میں 36 ریاستی برآمداتی ایکشن پلان (ایس ای اے پی) اور 200 ضلعی برآمداتی ایکشن پلان (ڈی ای اے پی) تیار کیے گئے ہیں۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر ٹیکسٹائل گری راج سنگھ نے قومی برآمدی ہدف کے حصول کے لیے ضلع کی سطح پر برآمدات میں اضافے، مصنوعات میں تنوع، ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافہ)، چیمپئن اور آرزومند اضلاع کے لیے اہداف کے تعین، تکنیکی ٹیکسٹائل، برانڈڈ مصنوعات کی تیاری، پائیداری، مہارت سازی اور بہتر منڈی رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔مرکزی وزیر مملکت برائے ٹیکسٹائل و امورِ خارجہ پبتر مارگریٹا اور وزارتِ ٹیکسٹائل کی سکریٹری نیلم شامی راؤ نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے برآمدات کے فروغ میں ریاستی حکومتوں کے کلیدی کردار، غیرمرکزی منصوبہ بندی، ویلیو ایڈیشن، مصنوعات میں تنوع اور برانڈ سازی کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔اجلاس کے دوران دو اہم کتابچوں کا بھی اجرا کیا گیا، جن کے عنوانات ’’بھارت کے حالیہ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) سے فائدہ اٹھانا: ٹیکسٹائل کے تناظر میں‘‘ اور ’’برآمدات کیسے کی جائیں: ٹیکسٹائل کے تناظر میں‘‘ تھے۔

سربراہی اجلاس کے پہلے دن تین مختلف نشستیں منعقد کی گئیں۔ پہلا اجلاس ضلع اور کلسٹر کی بنیاد پر برآمداتی حکمتِ عملی، مسابقتی صلاحیت اور برآمداتی نظامِ کار سے متعلق گہرے پالیسی مباحث پر مشتمل تھا۔اس اجلاس میں ملک کے چار بڑے ٹیکسٹائل کلسٹروںلدھیانہ، تروپور، سورت اور بھدوہی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ مختلف مقررین نے ان کلسٹروں کی کامیابیوں، امکانات اور چیلنجوں  پر روشنی ڈالی۔مقررین میں برآمد کنندگان، برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسلوں کے سینئر نمائندے اور متعلقہ ریاستوں کے اعلیٰ سرکاری افسران شامل تھے، جنہوں نے ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈی میں مسابقتی برتری حاصل کرنے کے مختلف پہلوؤں پر اپنے تجربات اور آراء پیش کیں۔

مباحثے کے دوران مختلف اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جن میں ان ٹیکسٹائل کلسٹروں کی ترقی کا سفر، درپیش چیلنجز اور بھارت کے 2030 کے ٹیکسٹائل برآمدی ہدف کے مطابق برآمدات میں اضافے کے لیے حکمتِ عملی شامل تھی۔اجلاس کی ایک نمایاں بات یہ رہی کہ عالمی منڈی میں تیزی سے بدلتی ہوئی طلب کے رجحانات کے مطابق خود کو ہم آہنگ بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا، خصوصاً کپاس پر مبنی پیداوار سے مصنوعی ریشوں (مین میڈ فائبر/ایم ایم ایف) پر مبنی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی عالمی کھپت کی جانب تیزی سے پیش رفت کی اہمیت اجاگر کی گئی۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ برآمدی کارکردگی میں بہتری، ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور بھارت کے ٹیکسٹائل شعبے کی مجموعی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے ضلع کی سطح پر ہدفی اقدامات ناگزیر ہیں۔

دوسرا اجلاس مصنوعات اور ڈیزائن میں بہتری، ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافہ)، صارفین کی ضروریات سے ہم آہنگی، مٹیریل میں جدت، تکنیکی ٹیکسٹائل کے مواقع اور برانڈ شناخت جیسے موضوعات پر مرکوز رہا۔اس اجلاس میں شمال مشرقی خطے کی منفرد ٹیکسٹائل شناخت کو نمایاں کیا گیا، جہاں جغرافیائی اشاریہ (جی آئی) مصنوعات کو ثقافتی ورثے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ تکنیکی ٹیکسٹائل، پشمینہ جیسے اعلیٰ معیار کے لگژری شعبوں اور دیہی کوآپریٹو اداروں کی کامیاب کاروباری کاوشوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔اجلاس میں ڈیزائن اور برانڈنگ کو مضبوط بنانے، مصنوعات میں جدت پیدا کرنے، صارفین کی ضروریات کے مطابق مصنوعات کی تیاری، خام مال کی جدیدیت اور سراغ رسانی (ٹریس ایبلٹی) کو بہتر بنانے، مقامی اجتماعی اداروں کے فروغ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے ایک منفرد، مضبوط اور مسابقتی مارکیٹ شناخت قائم کرنے کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا۔

تیسرے اجلاس میں ٹیکسٹائل برآمدات کے فروغ کے لیے اہم معاون عوامل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جن میں قرضہ سہولت، لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچہ، پی ایم-مترا پارکس، ریاستی سطح کی پالیسی اور ترغیباتی معاونت، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، لیبر قوانین کی تعمیل اور مہارتوں کی ترقی شامل تھے۔اجلاس میں بھارت کے ٹیکسٹائل شعبے کی مسابقتی صلاحیت اور ترقی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس سلسلے میں پیداواری لاگت سے متعلق مسائل کے حل، لاجسٹکس اور رابطہ کاری کے نظام کو مضبوط بنانے اور مربوط مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام (انٹیگریٹڈ مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم) کے فروغ پر زور دیا گیا۔مباحثوں کے دوران مختلف ریاستوں اور صنعتوں کے کامیاب ماڈلز کو بھی اجاگر کیا گیا، جو اس بات کی مثال ہیں کہ مربوط پالیسی سازی، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور مؤثر صنعتی ماحولیاتی نظام کے ذریعے برآمدی مسابقت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں (یو ٹی ز) کے نمائندوں نے مختلف موضوعاتی گروپ اجلاسوں میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے ریاستی اور ضلعی برآمداتی ایکشن پلانز کی روشنی میں خطے سے متعلق مواقع، چیلنجز اور ترجیحی اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

سربراہی اجلاس سے حاصل ہونے والی سفارشات کو یکجا کرکے ’’قومی ٹیکسٹائل برآمدی روڈ میپ 2030‘‘ تیار کیا جائے گا، جو بھارت کی ٹیکسٹائل برآمدات میں توسیع، ضلعی اور کلسٹر سطح کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے، پائیدار اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے فروغ، تجارتی معاہدوں سے زیادہ مؤثر استفادے اور بھارت کو عالمی سطح پر ترجیحی سورسنگ مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کے لیے ایک جامع اور اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گا۔

******

 

(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)

UR No-9106

 

 

 


(रिलीज़ आईडी: 2277297) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , English