صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ‘ٹی بی مکت بھارت ابھیان’ کی اعلیٰ سطحی ورچوئل جائزہ میٹنگ کی صدارت کی؛ ٹی بی سے پاک بھارت کے ہدف کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور


‘‘ٹی بی کے چھوٹے ہوئےہرمریض  کی تلاش کی جانی چاہیے’’: جناب جے پی نڈا نے ریاستوں سے آخری سطح تک کارروائی میں تیزی لانے کی اپیل کی

دسمبر 2024 میں شروع کیے گئے تیز رفتار ‘ٹی بی مکت بھارت ابھیان’ کے تحت اب تک 28 کروڑ سے زائد افراد کی جانچ کی جا چکی ہے، 20 لاکھ افراد کو ٹی بی مکت بھارت ابھیان کا علاج فراہم کیا گیا ہے، اور 5.7 لاکھ نئے ‘نکشے متر’  شامل کیے گئے ہیں

سو روزہ ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے آغاز کے بعد، ملک بھر میں ہینڈ ہیلڈ ایکس رے مشینوں کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کے باعث ایکس رے اسکریننگ میں 34 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے دوسرے مرحلے میں، جو 24 مارچ 2026 سے شروع ہوا، 1.2 لاکھ سے زائد زیادہ خطرے والے دیہات، وارڈز اور اجتماعی بستیوں کا احاطہ کرتے ہوئے 1.7 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ شیوِر  منعقد کیے گئے

ٹی بی سے ہونے والی اموات میں کمی، تمام اقدامات کا بنیادی مرکز ہونا چاہیے: مرکزی وزیرِ صحت

ٹی بی کے خاتمے کی قومی مہم کو تیز کرنے کے لیے 1.9 لاکھ سے زائد ‘مائی بھارت’ رضاکار اس ملک گیر مہم میں شامل ہوئے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 19 JUN 2026 7:41PM by PIB Delhi

صحت و خاندانی بہبودکے مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا نے آج ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے صحت اور سینئر حکام کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس کا مقصد ‘‘ٹی بی مکت بھارت ابھیان’’ کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور ٹی بی سے پاک بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے آئندہ حکمتِ عملی طے کرنا تھا۔

مرکزی وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ100 روزہ ٹی بی مکت بھارت ابھیان کا دوسرا مرحلہ، جو جولائی 2026 کے پہلے ہفتے میں مکمل ہونے والا ہے، ٹی بی کے ان تمام معاملات کی نشاندہی کرنے کی ایک اہم اور فیصلہ کن کوشش ہے جو اب تک سامنے نہیں آئے اور یہ یقینی بنانے کے لیے ہے کہ کوئی بھی کمزور یا خطرے سے دوچار فرد اس مہم سے محروم نہ رہ جائے۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ بھارت نے تپِ دق (ٹی بی) کے خلاف جنگ میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ٹی بی کے مریضوں کی شرح 2014 میں فی ایک لاکھ آبادی پر 243 تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 187 رہ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹی بی سے ہونے والی اموات کی شرح میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور یہ 2014 میں فی ایک لاکھ آبادی پر 34 سے گھٹ کر 2024 میں 21 ہو گئی ہے۔جناب نڈا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دسمبر 2024 سے شروع کی گئی خصوصی مہمات کے تحت اب تک 28.1 کروڑ سے زائد افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، 20 لاکھ افراد کو ٹی بی سے بچاؤ کا علاج  فراہم کیا گیا ہے اور 5.7 لاکھ نئے نکشے متر شامل کیے گئے ہیں، جو حکومت کی کوششوں کے وسیع دائرۂ کار اور مؤثر رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001I5HJ.jpg

جناب نڈا نے کہا کہ یہ مہم ہماری ٹی بی کنٹرول حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اب ہم مریضوں کے صحت مراکز تک آنے کا انتظار نہیں کر رہے، بلکہ خطرے سے دوچار افراد کی شناخت اور بیماری کی بروقت تشخیص کے لیے خود کمیونٹیز، دیہات، شہری وارڈز اور اجتماعی بستیوں تک پہنچ رہے ہیں۔

جناب نڈا نے زور دیا کہ اگرچہ خاطر خواہ پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے، تاہم مہم کے دوسرے مرحلے کے باقی ماندہ دن انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے آخری مرحلے میں مزید تیز رفتار اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خاص طور پر ان ریاستوں سے اپیل کی جنہیں اضافی توجہ درکار ہے کہ وہ ضلع وار جائزہ لیں اور حساس آبادیوں اور محروم طبقات کے درمیان اسکریننگ سرگرمیوں میں تیزی لائیں۔

انہوں نے ٹی بی سے ہونے والی اموات میں کمی اور علاج کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے غذائی معاونت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں سے کہا کہ وہ عوامی شمولیت کے ذریعے اپنے اپنے حلقوں میں ٹی بی کے خاتمے کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے ارکانِ پارلیمان اور ارکانِ اسمبلی کو فعال طور پر شامل کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ریاستی وزرائے صحت پر زور دیا کہ وہ ضلع سطح پر تجزیہ کریں تاکہ خامیوں کی نشاندہی ہو سکے اور بروقت اصلاحی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر جناب جے پی نڈا نے 100 روزہ ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے اہداف کو آگے بڑھانے میں تمام ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں، صحت کارکنوں، رضاکاروں، ترقیاتی شراکت داروں اور کمیونٹی کے نمائندوں کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے ٹی بی کے خاتمے کے لیے حکومتِ ہند کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے تصور کردہ ‘‘ٹی بی مکت بھارت’’کا خواب صرف مسلسل اجتماعی کوششوں اور معاشرے کے ہر طبقے کی بھرپور شمولیت سے ہی حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مشن اسی وقت اپنی حقیقی کامیابی حاصل کرے گا جب ملک کی ہر ریاست، ہر مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ اور ہر ضلع ٹی بی سے مکمل طور پر پاک ہو جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002KF1S.jpg

جائزے کے دوران یہ معلومات سامنے آئیں کہ 100 روزہ ٹی بی مکت بھارت مہم کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے بعد اب تک 1.7 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ شیورمنعقد کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے 1.20 لاکھ سے زیادہ اعلیٰ خطرے والے دیہات، وارڈز اور اجتماعی آبادی والے علاقوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔اس مہم میں غیر معمولی عوامی شمولیت بھی دیکھنے میں آئی، جس کے تحت اسکولوں اور کالجوں کے تقریباً 32 لاکھ نوجوانوں اور تقریباً 1.9 لاکھ ‘‘مائی بھارت’’ رضاکاروں نے بیداری پیدا کرنے اور اسکریننگ سرگرمیوں میں فعال تعاون کیا۔ جائزے میں یہ بھی پایا گیا کہ یہ وسیع سماجی تحریک ٹی بی  مکت  بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے حکومت کے ‘‘مکمل حکومتی نظام’’ اور ‘‘پورے معاشرے’’ کے نقطۂ نظر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003UO2G.jpg

اجلاس میں بتایا گیا کہ 100 روزہ ٹی بی مکت بھارت مہم کے آغاز کے بعد ملک بھر میں ہینڈ ہیلڈ ایکس رے مشینوں کی وسیع پیمانے پر تعیناتی کے نتیجے میں ایکس رے اسکریننگ میں 34 گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت نے ٹی بی کے فعال مریضوں کی بروقت شناخت کی کوششوں کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔جناب جے پی نڈا نے کہاکہ حقیقی وقت  میں پیش رفت کی نگرانی کے لیے ٹی بی مکت بھارت ایپ کے ساتھ مربوط ایک خصوصی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔

جائزے کے دوران ٹی بی مکت بھارت ایپ کے اجراء پر بھی روشنی ڈالی گئی، جس میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹ ‘‘خوشی’’ کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد شہریوں کی شمولیت کو آسان بنانا اور ٹی بی سے متعلق معلومات اور خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔یہ پلیٹ فارم ابتدائی سطح کے اسمارٹ فونز پر بھی مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور علامات، مریضوں کے حقوق اور قریبی تشخیصی مراکز کے بارے میں فوری رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس سے بروقت علاج حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور کمیونٹی میں آگاہی مزید مضبوط ہوتی ہے۔

تشخیص اور اسکریننگ کی صلاحیت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے وزارت نے پہلے سے موجود 13,702 آسامیوں کے علاوہ ریڈیوگرافرز کی اضافی آسامیوں کی منظوری دی ہے۔مرکزی سیکریٹری صحت، محترمہ پُنیا سلیلا شریواستو نے ریاستوں کو آگاہ کیا کہ اضافی ریڈیوگرافرز کی تعیناتی قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ مزید ہینڈ ہیلڈ ایکس رے آلات، ٹرونیٹ اور سی بی این اے اے ٹی مشینوں سے متعلق ضروریات کو بھی جلد پورا کیا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0041BH9.jpg

ریاست وار پیش رفت کے جائزے کے دوران مدھیہ پردیش، تمل ناڈو، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، میزورم، اوڈیشہ، اروناچل پردیش، دہلی، تلنگانہ، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش، ہماچل پردیش اور دیگر ریاستوں کے وزرائے صحت اور سینئر حکام نے اسکریننگ سرگرمیوں، تشخیصی بنیادی ڈھانچے، غذائی معاونت اور کمیونٹی کی شمولیت سے متعلق تازہ معلومات پیش کیں۔

متعدد ریاستوں نے دور دراز اور حساس آبادیوں میں اسکریننگ کی رفتار بڑھانے کے لیے اضافی ہینڈ ہیلڈ ایکس رے مشینوں، سی بی این اے اے ٹی اور ٹرونیٹ تشخیصی آلات، اور ریڈیوگرافرز کی ضرورت پر زور دیا۔

ریاستوں نے اپنے جدید اور مؤثر طریقہ کار بھی شیئر کیے۔کیرالہ نے مقامی خود حکومتی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون اور کنّور ضلع میں نافذ کیے گئے ‘‘صفر تباہ کن اخراجات’’ ماڈل کو اجاگر کیا، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹی بی کے مریضوں کو علاج کے دوران مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میزورم نے بتایا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری  پروگراموں کے تحت سرکاری شعبے کے اداروں کے تعاون سے ‘‘نکشے متر’’ اقدام کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

مرکزی سیکریٹری صحت نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ مستقبل قریب میں بڑی تعداد میں مصنوعی ذہانت سے لیس ایکس رے حل  دستیاب کرائے جائیں گے، جس سے اسکریننگ کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔جن ریاستوں کو ‘‘نکشے متر’’ کے لیے رضاکاروں اور معاونین کو متحرک کرنے میں مدد درکار تھی، انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ سرکاری شعبے کے اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے صحت، چیف سیکریٹریز اور صحت سیکریٹریز کے علاوہ، ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ان میں مرکزی سیکریٹری صحت محترمہ پُنیا سلیلا شریواستو، ایڈیشنل سیکریٹری اور قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کی مشن ڈائریکٹر محترمہ آرادھنا پٹنائک اور دیگر سینئر افسران شامل تھے۔

**************

ش ح۔ ع ح۔ م ش

U-NO 9067


(रिलीज़ आईडी: 2276916) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी