اسٹیل کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این ایم ڈی سی کی سینئر انتظامیہ نے کرناٹک میں واقع اپنے ڈونیملائی کمپلیکس میں ڈیجیٹلائزیشن، صلاحیت میں توسیع اور پائیدار کان کنی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا


این ایم ڈی سی  نے اپنے 100 ایم ٹی پی اے ہدف کی جانب   ڈونیملائی میں ڈیجیٹائزیشن اور پائیدار کان کنی کے اقدامات کو مزید تیز کیا

प्रविष्टि तिथि: 20 JUN 2026 6:47PM by PIB Delhi

ڈونیملائی کمپلیکس کے ایک حالیہ دورے کے دوران، این ایم ڈی سی کی سینئر انتظامیہ نے کئی اسٹریٹجک اقدامات کا جائزہ لیا جن کا مقصد آپریشنل کارکردگی کو مضبوط بنانا، ذمہ دارانہ کان کنی کے طریقوں کو فروغ دینا اور ملازمین و آس پاس کی برادریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ اس دورے نے اہم منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا، جو ڈونیملائی کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک جدید کان کنی کمپلیکس میں تبدیل کرنے میں مدد کر رہے ہیں، اور این ایم ڈی سی کو ہندوستان کے سب سے بڑے اور ذمہ دار لوہا پیدا کرنے والے ادارے کے طور پر مزید مستحکم کر رہے ہیں۔

دورے کے دوران انتظامیہ نے جاری صلاحیت میں توسیع اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا، جن کا مقصد کمارسوامی کان سے 10 ایم ٹی پی اے اور ڈونیملائی کمپلیکس سے 17 ایم ٹی پی اے کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ توقع ہے کہ یہ اقدامات این ایم ڈی سی کے 100 ایم ٹی پی اے پیداواری صلاحیت والی کان کنی کمپنی بننے کے وژن کی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

انتظامیہ نے لوہے کے ایسے وسائل کے استعمال سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا جن میں 35 فیصد تک لوہا موجود ہے، نیز لوہے کے فضلے اور کم درجے کے لوہ دار مواد جیسے بینڈڈ ہیمیٹائٹ جیسپر (بی ایچ جے) اور بینڈڈ ہیمیٹائٹ کوارٹزائٹ (بی ایچ کیو) شامل ہیں۔ روایتی طور پر ان وسائل کا استعمال محدود رہا ہے اور قیمتی لوہے کے مواد پر مشتمل ہونے کے باوجود انہیں اکثر ضائع کر دیا جاتا تھا۔ بینیفیشی ایشن اور سائنسی معدنی پروسیسنگ کے ذریعے، این ایم ڈی سی ان کم استعمال شدہ وسائل کو قیمتی خام مال میں تبدیل کر رہا ہے، جس سے موجودہ کانوں سے مزید لوہے کی بازیافت ممکن ہو رہی ہے اور ساتھ ہی فضلہ کی پیداوار میں بھی کمی آ رہی ہے۔ یہ اقدام پائیدار کان کنی کے طریقوں کو فروغ دیتا ہے، معدنی وسائل کے تحفظ کو بہتر بناتا ہے، کان کنی کی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرتا ہے اور ہندوستان کے فولاد کے شعبے کی بڑھتی ہوئی خام مال کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

کمارسوامی کان میں حال ہی میں نافذ کیا گیا خودکار گیٹ مینجمنٹ سسٹم بھی اس دورے کے دوران جائزے کا ایک اہم موضوع تھا۔ اس ڈیجیٹل نظام نے خام لوہے کی ترسیل میں شفافیت اور کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے مواد کی  ترسیل و نقل و حرکت کی حقیقی وقت میں نگرانی اور توثیق ممکن ہوئی ہے۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتا ہے کہ معدنی وسائل محفوظ طریقے سے اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچیں، جبکہ دستی مداخلت میں کمی آئے اور آپریشنل نگرانی مزید مؤثر بنے۔

این ایم ڈی سی کے سی ایم ڈی جناب امیتابھ مکھرجی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹروں کے ساتھ مل کر حال ہی میں تیار کی گئی بنیادی ڈھانچے کی سہولیات، بشمول بلند و بالا ٹاورز(کثیر منزلہ رہائشی ٹاورز)، کا افتتاح کیا، جو ملازمین کی فلاح و بہبود اور کمیونٹی کی ترقی کے لیے این ایم ڈی سی کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہندوستان کے سب سے بڑےخام  لوہا پیدا کرنے والے ادارے کے طور پر، این ایم ڈی سی کا ماننا ہے کہ پائیدار ترقی محض پیداواری اہداف تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ملازمین کے لیے بہتر معیارِ زندگی کی فراہمی، مقامی برادریوں کی معاونت اور ماحولیاتی تحفظ پر مسلسل توجہ بھی شامل ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، این ایم ڈی سی کے سی ایم ڈی جناب امیتابھ مکھرجی نے کہا:

"ہمارا وژن ایسے کان کنی کے منصوبے قائم کرنا ہے جن پر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں۔ ہندوستان کے سب سے بڑے خام  لوہا پیدا کرنے والے ادارے کے طور پر، ہم ڈونیملائی کو ایک مثالی کان کنی کمپلیکس بنانا چاہتے ہیں، جو ذمہ دارانہ کان کنی، اختراع اور آپریشنل عمدگی کے اعلیٰ ترین معیارات کی عکاسی کرے۔ این ایم ڈی سی کے 100 ایم ٹی پی اے وژن کی جانب پیش رفت کے ساتھ، ہم ہندوستان کی فولاد صنعت کو اعلیٰ معیار کے خام لوہے کی مسلسل فراہمی کے لیے پُرعزم ہیں۔ ساتھ ہی، ہم ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے ہر وسائل کی قدر کو زیادہ سے زیادہ بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ کم درجے کے خام لوہے کو بھی کارآمد اثاثوں میں تبدیل کرتے ہوئے پائیدار اور ذمہ دارانہ کان کنی کے طریقوں کو فروغ دے رہے ہیں۔"

 

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-8943


(रिलीज़ आईडी: 2276088) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी