کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشل انٹیلی جنس اینڈ اسٹیٹسٹکس نے اشیاء کی تجارت کے اشاریوں کے لیے بنیادی سال کو مالی سال 2022–23 میں تبدیل کر دیا ہے، تاکہ موجودہ تجارتی ڈھانچے اور عالمی تجارتی رجحانات کی بہتر عکاسی کی جا سکے
प्रविष्टि तिथि:
20 FEB 2026 6:35PM by PIB Delhi
مرچنڈائز ٹریڈ انڈیکسز (اشیائی تجارت کے اشاریے) ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشل انٹیلی جنس اینڈ اسٹیٹسٹکس (ڈی جی سی آئی اینڈ ایس) وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت تیار اور شائع کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد وقت کے ساتھ بھارت کی برآمدات اور درآمدات کی یونٹ ویلیوز (قیمتوں) میں ہونے والی تبدیلیوں کی پیمائش کرنا ہے۔یہ اشاریے بیرونی شعبے میں قیمتوں کے رجحانات کی اہم عکاسی کرتے ہیں اور انہیں معاشی تجزیے، قومی کھاتوں کی تیاری، اور تجارت کے توازن (ٹرمس آف ٹریڈ )کے جائزے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔وقت کے ساتھ ان اشاریوں کے بنیادی سال (بیس ایئر) میں باقاعدگی سے نظرِ ثانی کی جاتی ہے تاکہ بھارت کی تجارتی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں اور عالمی تجارتی رجحانات کو بہتر طور پر ظاہر کیا جا سکے۔تازہ ترین نظرِ ثانی کے تحت انڈیکس کا بنیادی سال مالی سال 2022–23 (2022–23 = 100) مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل بنیادی سال 2012–13 تھا۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ اشاریے بھارت کی موجودہ اشیائی تجارت کی درست اور تازہ ترین تصویر پیش کریں۔
بھارت کے مرچنڈائز ٹریڈ انڈیکسز کے بنیادی سال میں 2022–23 تک نظرِ ثانی
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشل انٹیلی جنس اینڈ اسٹیٹسٹکس (ڈی جی سی آئی اینڈ ایس )، وزارتِ تجارت و صنعت نے بھارت کے مرچنڈائز ٹریڈ انڈیکسز کا بنیادی سال مالی سال 2012–13 سے تبدیل کر کے مالی سال 2022–23 (2022–23 = 100) مقرر کر دیا ہے۔یہ تبدیلی معیشت میں ہونے والی ساختی تبدیلیوں، اشیاء کی ساخت (کموڈیٹی کمپوزیشن) میں رد و بدل، بدلتے ہوئے عالمی تجارتی رجحانات، اور جدید معاشی اشاریوں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
یہ نظرِ ثانی ڈی جی سی آئی اینڈ ایس کی جانب سے قائم کردہ ایک کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کی گئی ہے، جس کی صدارت پروفیسر نچیکیتا چٹرجی، پروفیسر انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ، کولکاتا نے کی۔اس کمیٹی نے موجودہ طریقۂ کار، ڈیٹا کی دستیابی، وزن دینے کے نظام (ویٹنگ اسٹرکچر) اور اشاریوں کی تیاری کے طریقوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق مناسب بہتریوں کی سفارش کی۔
نظرِ ثانی شدہ سیریز (بنیادی سال: مالی سال 2022–23) کی اہم خصوصیات
- نیا بنیادی سال:
نیا بنیادی سال مالی سال 2022–23 مقرر کیا گیا ہے، جس سے بھارت کی بیرونی تجارت کی موجودہ ساخت کی زیادہ درست عکاسی ممکن ہو گئی ہے۔
- نظرِ ثانی شدہ کموڈیٹی باسکٹ:
اشیاء کے دائرہ کار اور درجہ بندی کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی اور کم ہوتی ہوئی تجارتی اشیاء کو بہتر طور پر شامل کیا جا سکے۔
- نظرِ ثانی شدہ ویٹنگ اسٹرکچر:
وزن کو نئے بنیادی سال کی تجارت کی قدروں کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا گیا ہے، تاکہ برآمدات اور درآمدات میں تازہ ترین حصے داری ظاہر ہو سکے۔
- بہتر طریقۂ کار:
طریقہ کار میں درج ذیل پہلوؤں میں بہتری لائی گئی ہے:
- بنیادی سال کے لیے مشترکہ کموڈیٹی باسکٹ کے انتخاب کا طریقہ کار (تفصیلی وضاحت کمیٹی رپورٹ میں دی گئی ہے)
- یونٹ ویلیوز میں کمی/خامی کی صورت میں ڈیٹا کی تکمیل (Imputation) کا بہتر طریقہ (جس کی تفصیل بھی کمیٹی رپورٹ میں شامل ہے)
- نئے انڈیکسز کی تیاری:
نظرِ ثانی شدہ سیریز میں درج ذیل اشاریے شامل ہیں:
- ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ اشاریے (برآمدات اور درآمدات کے یونٹ ویلیو انڈیکس)
- پرنسپل کموڈیٹی (پی سی) درجہ بندی کے مطابق تجارتی اشاریے
- معیاری بین الاقوامی تجارتی درجہ بندی(ایس آئی ٹی سی) کے مطابق اشاریے
- وسیع اقتصادی زمروں(بی ای سی) کے مطابق اشاریے
- بھارت کے سرفہرست 20 تجارتی شراکت دار ممالک کے لیے دوطرفہ اور علاقائی اشاریے
- تجارت کی شرائط : مجموعی، خالص اور آمدنی کی بنیاد پر اشاریے
نظرِ ثانی کی وجوہات
گزشتہ دہائی کے دوران بھارت کے تجارتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جن کی بڑی وجوہات نئی اشیاء کا ابھرنا، تکنیکی ترقی، عالمی سپلائی چین کی تنظیمِ نو، اور قیمتوں کے نسبتی ڈھانچے میں تبدیلیاں ہیں۔
پرانا بنیادی سال (مالی سال 2012–13) اب موجودہ تجارتی ڈھانچے کی درست عکاسی نہیں کرتا تھا۔ اس لیے یہ نظرِ ثانی انڈیکسز کی افادیت، درستگی اور تجزیاتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہے، تاکہ پالیسی سازوں، محققین اور دیگر متعلقہ فریقین کے لیے زیادہ مؤثر معلومات فراہم کی جا سکیں۔
نظرِ ثانی شدہ سیریز کا استعمال
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشل انٹیلی جنس اینڈ اسٹیٹسٹکس (ڈی جی سی آئی اینڈ ایس ) کے تیار کردہ مرچنڈائز ٹریڈ انڈیکسز کو مختلف اہم سرکاری ادارے معاشی تجزیے اور پالیسی سازی کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کرتے ہیں۔
وزارتِ شماریات و پروگرام عمل درآمد(ایم او ایس پی آئی) کا نیشنل اکاؤنٹس ڈویژن برآمدات اور درآمدات کے یونٹ ویلیو انڈیکس کوجی ڈی پی کی حقیقی قدروں کے تخمینے کے لیے ڈیفلیٹرز کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا ان اشاریوں کو بیرونی شعبے کے تجزیے، ادائیگیوں کے توازن اور قیمتوں میں مسابقت کی جانچ کے لیے استعمال کرتا ہے۔مزید برآں، مختلف وزارتیں اور سرکاری ادارے ان اشاریوں کی مدد سے تجارتی پالیسیوں کی تشکیل اور جائزہ لیتے ہیں، جبکہ تعلیمی ادارے، تحقیقی تنظیمیں اور معاشی ماہرین انہیں تجارتی رجحانات، ماڈلنگ اور معیشت میں تبدیلیوں کے تجزیے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ڈیٹا کی دستیابی
نظرِ ثانی شدہ مرچنڈائز ٹریڈ انڈیکسز (بنیادی سال: 2022–23) ڈی جی سی آئی اینڈ ایس کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیے جائیں گے۔ تفصیلی طریقۂ کار کمیٹی کی رپورٹ میں دستیاب ہے جو بنیادی سال کی نظرِ ثانی سے متعلق ہے۔
2022–23 اور 2023–24 کے لیے نئے (2022–23 = 100) اور پرانے (2012–13 = 100) بنیادی سال پر مبنی انڈیکسز کا تقابلی ڈیٹا بھی فراہم کیا گیا ہے۔
#بی وائی کا مطلب بنیادی سال ہے۔
|
جدول: مالی سال 2025-26 (اپریل-نومبر) کے دوران یونٹ ویلیو انڈیکس (یو وی آئی) اور کوانٹیٹی انڈیکس (کیوآئی) مالی سال 2022-23 کو بنیادی سال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے
|
|
|
مہینہ
|
اپریل_25
|
مئی_25
|
جون_25
|
پہلی سہ ماہی 25- 26
|
جولائی_25
|
اگست_25
|
ستمبر_25
|
دوسری سہ ماہی 25-26
|
اکتوبر_25
|
نومبر_25
|
|
یونٹ ویلیو انڈیکس
|
برآمد
|
105.31
|
99.73
|
96.31
|
100.33
|
99.31
|
100.55
|
104.08
|
101.23
|
103.78
|
105.32
|
|
درآمد
|
92.33
|
97.97
|
91.74
|
94.08
|
96.34
|
100.81
|
108.69
|
101.93
|
110.17
|
106.59
|
|
مقدار کا اشاریہ
|
برآمد
|
107.85
|
104.76
|
93.88
|
101.91
|
103.41
|
102.64
|
111.04
|
105.57
|
116.19
|
113.06
|
|
درآمد
|
138.16
|
126.61
|
112.58
|
125.17
|
122.47
|
124.06
|
126.45
|
124.32
|
137.04
|
121.75
|
کیو ٹی آر کا مطلب سہ ماہی ہے۔
انڈیکس کے معنی اور تشریح
یہ اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ موجودہ مہینے میں تجارت ہونے والی اشیاء کی اوسط یونٹ ویلیو (یعنی اوسط قیمت) میں بنیادی سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔
مثال کے طور پر اگر یونٹ ویلیو انڈیکس 120 ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر موجودہ مہینے میں تجارت ہونے والی وہی اشیاء بنیادی سال کے اسی مہینے میں بھی تجارت کی جاتیں، اور اُس وقت ان کی اوسط قیمت 100 روپے ہوتی، تو موجودہ مہینے میں ان کی اوسط قیمت 120 روپے ہو گئی ہے۔ یعنی بنیادی سال کے مقابلے میں اوسط یونٹ ویلیو میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اگر ہم مثال لیں کہ موجودہ مہینے میں 30 اشیاء (تین مختلف پرنسپل کموڈیٹی گروپس سے 10، 10 اشیاء) تجارت میں شامل ہیں، تو اگر یہی اشیاء بنیادی سال میں اوسطاً 100 روپے میں فروخت ہوتی تھیں، تو موجودہ سال میں ان کی اوسط قیمت 120 روپے شمار کی جائے گی۔
یہ بات اہم ہے کہ یہاں اوسط نکالنے کے دو مرحلے ہوتے ہیں:پہلے مرحلے میں ہر پرنسپل کموڈیٹی گروپ کی تمام اشیاءیا (ایچ ایس –آئی ٹی سی اشیاء) کا اوسط نکالا جاتا ہے تاکہ اس گروپ کا انڈیکس بنایا جا سکے۔دوسرے مرحلے میں تمام پرنسپل کموڈیٹی گروپس کے انڈیکس کو ملا کر مجموعی انڈیکس تیار کیا جاتا ہے جو پورے ملک کی ماہانہ تجارت کی مجموعی تصویر پیش کرتا ہے۔دونوں مراحل میں وزن کے ساتھ اوسط نکالی جاتی ہے، جہاں ہر شے اور ہر کموڈیٹی گروپ کی اہمیت کے مطابق وزن مقرر کیا جاتا ہے، اور اس کے لیے لاسپائریس فارمولا استعمال کیا جاتا ہے۔
مقداری اشاریے کا مطلب اور تشریح
کوانٹیٹی انڈیکس، مثال کے طور پر اگر 200 ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بنیادی سال میں اوسطاً 100 یونٹس کی تجارت ہوئی تھی، تو موجودہ سال میں اوسطاً 200 یونٹس کی تجارت ہوئی ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ مقداروں کا اوسط نکالنا قیمتوں کے اوسط سے مختلف ہوتا ہے، کیونکہ مختلف اکائیوں میں موجود اشیاء کو براہِ راست جمع نہیں کیا جا سکتا۔اسی لیے کوانٹیٹی انڈیکس کو یونٹ ویلیو انڈیکس اور ویلیو انڈیکس کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔
یعنی: Quantity Index = Value Index ÷ Unit Value Index
مثال کے طور پر اگر برآمدات کی مجموعی مالیت 10,000 روپے سے بڑھ کر 24,000 روپے ہو جائے تو ویلیو انڈیکس 240 ہوگا (یعنی 24000/10000 × 100 = 240)۔ اگر اسی دوران یونٹ ویلیو انڈیکس 120 ہو تو کوانٹیٹی انڈیکس 200 بنے گا (یعنی 240/120 × 100 = 200)۔اس کو آسان لفظوں میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر برآمدات کی مالیت 2.4 گنا بڑھ گئی ہو اور قیمتیں 1.2 گنا بڑھیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مقدار تقریباً دو گنا ہو گئی ہے۔
تاہم یہ بھی یاد رہے کہ بہت زیادہ یا بہت کم کوانٹیٹی انڈیکس بعض اوقات بیس ایفیکٹ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
دو طرفہ اور علاقائی اشاریے
ان کی تشریح بھی اسی بنیادی اصول کی توسیع ہے:
اگر کسی ملک، مثلاً بنگلہ دیش کے ساتھ یونٹ ویلیو انڈیکس 120 ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ بنیادی سال کے مقابلے میں ان اشیاء کی اوسط قیمت 20 فیصد بڑھ گئی ہے جو اس ملک کے ساتھ تجارت میں شامل ہیں۔اسی طرح اگر بنگلہ دیش کے ساتھ کوانٹیٹی انڈیکس 200 ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ بنیادی سال کے مقابلے میں اس ملک کے ساتھ تجارت کی مقدار دو گنا ہو گئی ہے۔یعنی یہ اشاریے مختلف ممالک اور خطوں کے ساتھ تجارت میں قیمتوں اور مقدار کی تبدیلی کو واضح طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔وقت کے ساتھ اشاریوں کا موازنہ کیسے کیا جائے؟ یہ بات اہم ہے کہ انڈیکس نمبر کے فارمولے میں استعمال ہونے والے وزن وقت کے ساتھ تبدیل نہیں کیے جاتے بلکہ ایک ہی سال کے مختلف مہینوں کے لیے بارہ مختلف سیٹ آف ویٹس استعمال ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے اشاریوں کا درست موازنہ صرف اسی صورت میں بامعنی ہوتا ہے جب ایک ہی مہینے کے اشاریے مختلف سالوں میں آپس میں ملائے جائیں۔
اگر مختلف مہینوں کے اشاریوں کا موازنہ کیا جائے تو یہ زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتا، کیونکہ مختلف مہینوں میں ایک ہی شے کو مختلف وزن دیا جا سکتا ہے، جس سے نتیجہ کم واضح یا غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔مزید یہ کہ اگر کسی مخصوص مہینے میں کوئی شے تجارتی باسکٹ میں موجود نہ ہو، تو اس شے کا وزن اسی مہینے میں موجود دیگر اشیاء میں ان کے تناسب کے مطابق تقسیم کر دیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر:فرض کریں تین اشیاء A، B اور C تجارت میں شامل ہیں۔بنیادی سال کے مئی مہینے میں: A کی قیمت = 50 روپے، B کی قیمت = 100 روپے، C کی قیمت = 50 روپے۔اس صورت میں آئندہ سالوں کے مئی مہینے کے لیے وزن کا تناسب ہوگا: A : B : C = 50 : 100 : 50یعنی A اور B کا تناسب 1:2 بنتا ہے۔اب اگر موجودہ مہینے میں C تجارت میں شامل نہ ہو، تو C کا وزن A اور B میں ان کے تناسب کے مطابق تقسیم کر دیا جائے گا۔ اس صورت میں A اور B کے وزن دوبارہ 1:2 کے تناسب سے ایڈجسٹ ہو جائیں گے۔
اس طریقۂ کار کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر مہینے کے انڈیکس میں شامل اشیاء اور ان کے وزن مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے دو مختلف مہینوں کے انڈیکس کا موازنہ تبھی زیادہ درست ہوگا جب ان مہینوں میں تجارت کی جانے والی اشیاء اور ان کا ڈھانچہ ایک دوسرے سے کافی حد تک ملتا جلتا ہو۔
خالص تجارتِ تبادلہ
خالص تجارتِ تبادلہ، جسے کموڈیٹی ٹرمز آف ٹریڈ بھی کہا جاتا ہے، برآمدی قیمتوں اور درآمدی قیمتوں کے تناسب کو ظاہر کرتا ہے۔فرض کریں مالی سال 2022–23 بنیادی سال ہے اور 2023–24 آخری سال ہے۔ اگر دونوں سالوں میں قیمتوں کے اشاریے 2022–23 کی بنیاد پر 100 رکھے جائیں، تو مثال کے طور پر: برآمدی قیمتوں کا اشاریہ 2023–24 میں کم ہو کر 90 ہو جائے جبکہ درآمدی قیمتوں کا اشاریہ بڑھ کر 150 ہو جائےتو خالص تجارتِ تبادلہ اس طرح ہوگا:90/150 × 100 = 60۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تجارت کی شرائط میں تقریباً 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، یعنی ملک کی تجارتی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو گئی ہے۔اگر اس کے برعکس برآمدی قیمتوں کا اشاریہ 150 اور درآمدی قیمتوں کا اشاریہ 120 ہو جائے تو:150/120 × 100 = 125اس کا مطلب ہے کہ تجارت کی شرائط میں 25 فیصد بہتری آئی ہے۔
مجموعی تجارتِ تبادلہ :
مجموعی تجارتِ تبادلہ درآمدات اور برآمدات کی جسمانی مقدار کے تناسب کو ظاہر کرتا ہے۔فرض کریں 2022–23 بنیادی سال ہے اور اس سال برآمدات اور درآمدات دونوں کی مقدار 100 ہے۔ اگر 2023–24 میں: درآمدات کی مقدار کا اشاریہ 150 ہو برآمدات کی مقدار کا اشاریہ 120 ہوتو مجموعی تجارتِ تبادلہ ہوگا:150/120 × 100 = 125اس کا مطلب ہے کہ مجموعی تجارتِ تبادلہ میں 25 فیصد بہتری آئی ہے۔
آمدنی پر مبنی تجارتِ تبادلہ:
آمدنی پر مبنی تجارتِ تبادلہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: نیٹ ٹرمس آف ٹریڈ × برآمدات کی مقدار
یہ اشاریہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں اور مقدار میں تبدیلی کے بعد ملک کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طور پر کیا اثر پڑا ہے۔
**********
(ش ح ۔ ش ت۔ت ا(
U.No.8823
(रिलीज़ आईडी: 2274760)
आगंतुक पटल : 21