زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
وزیراعظم 20 جون 2026 کو مغربی بنگال کے ہگلی میں واقع تارکیشورسے پی ایم -کسان کی 23ویں قسط جاری کریں گے
نو کروڑ44 لاکھ سے زائد کسانوں کے کھاتوں میں 18,880 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم منتقل کی جائے گی
प्रविष्टि तिथि:
18 JUN 2026 4:06PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی 20 جون 2026 کو مغربی بنگال کے ضلع ہگلی میں واقع تارکیشور سے 'پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم –کسان)اسکیم کے اہل مستفیدین کے لیے 23ویں قسط جاری کریں گے۔ اس تقریب کا اہتمام حکومتِ ہند کی وزارتِ زراعت کی جانب سے حکومتِ مغربی بنگال کے تعاون سے کیا جائے گا۔
اس 23ویں قسط کے تحت 18,880 کروڑ روپے سے زائد کی رقم براہِ راست 9.44 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ اس قسط کے دوران 2.18 کروڑ سے زائد خواتین کسانوں کو بھی اس اسکیم کا فائدہ ملے گا۔
اس باوقار تقریب میں مغربی بنگال کے گورنر جناب آر این روی، مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری، پنچایتی راج اور ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ، ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیرِ مملکت جناب شانتنو ٹھاکر، تعلیم اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیرِ مملکت جناب سکانتا مجمدار اور رکنِ پارلیمنٹ جناب سمیک بھٹاچاریہ سمیت دیگر ممتاز شخصیات شرکت کریں گی۔
اس موقع پر، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اسکیموں کے بارے میں بیداری بڑھانے کے لیے، کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) اور مقامی زرعی دفاتر کے تعاون سے ریاستی، ضلعی/بلاک اور گرام پنچایت کی سطحوں پر خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں گے اور اس دن کو "پی ایم- کسان اتسو دیوس" کے طور پر منایا جائے گا۔
کرشی وگیان کیندروں، آئی سی اے آر کے اداروں اور یونیورسٹیوں، کسان پروڈیوسر تنظیموں ، زرعی منڈیوں، پی ایم کسان سمردھی کیندروں، پرائمری زرعی کوآپریٹو سوسائٹیوں اور ریاستی/ضلعی/گرام پنچایت و گاؤں کی سطح پر ہونے والی تقاریب سے ایک کروڑ سے زائد کسانوں کے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس اہم پروگرام سے جڑنے کی امید ہے۔
اس 23ویں قسط کے جاری ہونے کے ساتھ ہی، 24 فروری 2019 کو اس اسکیم کے آغاز سے لے کر اب تک تقسیم کی جانے والی کل رقم 4.46 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گی۔
مغربی بنگال میں اس 23ویں قسط کے تحت 45.35 لاکھ سے زیادہ مستفیدین کو 907.21 کروڑ روپے سے زائد کی رقم منتقل کی جائے گی، جس سے 2019 میں اسکیم کے آغاز سے لے کر اب تک ریاست میں مجموعی طور پر تقسیم کی گئی رقم 15,055 کروڑ روپے سے زیادہ ہو جائے گی۔
پی ایم کسان کی 23ویں قسط جاری کرنے کے ساتھ ہی، تقریب کے دوران وزیرِ اعظم کی جانب سے درج ذیل اسکیموں/پروگراموں کا آغاز اور افتتاح بھی کیا جائے گا۔
پردھان منتری فصل بیما یوجنا(پی ایم ایف بی وائی) / ری اسٹرکچرڈ ویدر بیسڈ کراپ انشورنس اسکیم(آر ڈبلیو بی سی آئی ایس)
سال 2016 میں شروع کی گئی پردھان منتری فصل بیما یوجنا (پی ایم ایف بی وائی)/ری اسٹرکچرڈ ویدر بیسڈ کراپ انشورنس اسکیم(آر ڈبلیو بی سی آئی ایس) حکومت کی ایک ایسی فصل بیمہ اسکیم ہے جس کا مقصد قدرتی آفات، کیڑوں اور بیماریوں کی وجہ سے فصلوں کے نقصان پر کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم انتہائی سستی (سبسیڈائزڈ) پریمیم شرحیں پیش کرتی ہے، جبکہ باقی اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔ یہ اسکیم فصلوں کے نقصان کے خطرات سے نمٹنے میں کسانوں کی مدد کر کے ان کی آمدنی کو مستحکم رکھتی ہےاور قدرتی آفتوں و خراب موسم کے خلاف تحفظ فراہم کر کے ان کے روزگار کو مضبوط بناتی ہے۔
وزیرِ اعظم مغربی بنگال میں بھی پردھان منتری فصل بیما یوجنا( پی ایم ایف بی وائی) / ری اسٹرکچرڈ ویدر بیسڈ کراپ انشورنس اسکیم(آر ڈبلیو بی سی آئی ایس) کا آغاز کریں گے، جس سے دنیا کی اس سب سے بڑی فصل بیمہ اسکیم کے فوائد ریاست کے کسانوں تک پہنچیں گے۔ سال 27-2026 کے دوران، اس اقدام کا مقصد تقریباً 30 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی پر پھیلے ہوئے قریب 1.10 کروڑ کسانوں کو انشورنس کور فراہم کرنا ہے؛ جس کے تحت 28,140 کروڑ روپے کی متوقع مالیت کی فصلوں کو تحفظ دیا جائے گا اور پریمیم پر بھاری سبسیڈی کے ذریعے کسانوں کی مدد کی جائے گی۔ کسانوں پر پریمیم کا بوجھ کم رکھنے کے لیے، مرکزی اور ریاستی حکومتیں تقریباً 777 کروڑ روپے کی پریمیم سبسیڈی فراہم کریں گی۔
ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن
ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن حکومتِ ہند کی طرف سے کسانوں کے فائدے کے لیے شروع کیا گیا ایک جامع نظام ہے، جس کے لیے 2,817 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ یہ مشن اسپیس ٹیکنالوجی (خلائی ٹیکنالوجی)، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کا استعمال کرتا ہے تاکہ کسانوں کو قرض، فصل کے بیمہ اور ان کی ضرورت کے مطابق مشوروں تک براہِ راست رسائی فراہم کی جا سکے اور ساتھ ہی سرکاری پروگراموں میں شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
اسی ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کے ایک حصے کے طور پر، وزیرِ اعظم مغربی بنگال میں 'ایگری اسٹیک' کا آغاز کریں گے۔ یہ ایک ایسا متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو زراعت سے متعلق تصدیق شدہ خدمات جیسے کھاد کی تقسیم، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی)، ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (براہِ راست کھاتوں میں رقم کی منتقلی) اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے تحت اناج کی خریداری کی سہولت فراہم کرے گا۔ یہ اقدام زراعت کے شعبے میں ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط کرے گا اور کسانوں سے جڑی خدمات کی بہتر اور آسان فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا۔
نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ (این ایم این ایف)
25 نومبر 2024 کو ایک آزاد 'مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم' کے طور پر شروع کیا گیا 'نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ(این ایم این ایف) ، روایتی ہندوستانی طریقوں پر مبنی کیمیکل سے پاک اور پائیدار زراعت کو فروغ دیتا ہے۔ یہ اسکیم مٹی کی صحت کو بہتر بنانے، لاگت کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کھیت میں ہی تیار حیاتیاتی کھادوں (بائیو ان پٹس)، مویشی پروری اور متنوع فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ 33 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں نافذ یہ مشن کلسٹر پر مبنی کاشتکاری، کسانوں کی تربیت اور قدرتی طور پر اگائی جانے والی پیداوار کی تصدیق (سرٹیفیکیشن) پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ کسانوں کو مارکیٹ کے بہتر مواقع مل سکیں اور ان کا روزگار مضبوط ہو۔
وزیرِ اعظم روایتی ہندوستانی طریقوں سے جڑی پائیدار اور کیمیکل سے پاک زراعت کو فروغ دینے کے لیے مغربی بنگال میں بھی 'نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ' کا آغاز کریں گے۔ سال 27-2026 کے منظور شدہ سالانہ ایکشن پلان کے تحت، ریاست میں 17,300 ہیکٹر رقبے پر محیط 346 نیچرل فارمنگ کلسٹر قائم کیے جائیں گے، جس سے 43,250 کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ہی، ماحول دوست کاشتکاری کے طریقوں کو مضبوط بنانے کے لیے بائیو- اِن پٹ ریسورس سینٹرز بنائے جائیں گے اور کرشی سکھیوں کو متحرک کیا جائے گا۔
پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا(پی ایم ڈی ڈی کے وائی)
مرکزی کابینہ کی طرف سے 16 جولائی 2025 کو منظور شدہ اور 11 اکتوبر 2025 کو شروع کی گئی 'پردھان منتری دھن-دھانیہ کرشی یوجنا' (پی ایم ڈی ڈی کے وائی)ایک ایسا اقدام ہے جس کا مقصد ملک کے ان 100 اضلاع میں زرعی ترقی کو تیز کرنا ہے جہاں پیداواری صلاحیت کم، فصلوں کی کاشت کی شرح دھیمی اور بینکوں سے قرض کی سہولت محدود ہے۔ یہ اسکیم فصلوں میں تنوع لانے اور پائیدار کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دے کر زرعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جبکہ پنچائت اور بلاک کی سطح پر فصل کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے (پوسٹ ہارویسٹ انفراسٹرکچر) کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اس کا مقصد آبپاشی (کھیتوں کو پانی دینے) کی سہولیات کو بہتر بنانا اور طویل مدتی و قلیل مدتی دونوں طرح کے سرکاری و نجی بینکوں کے قرضوں تک کسانوں کی آسان رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ مجموعی طور پر، پی ایم ڈی ڈی کے وائی کا مقصد پسماندہ علاقوں میں زرعی کارکردگی کو بڑھانا اور کسانوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
مربوط زرعی ترقی کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، وزیرِ اعظم مغربی بنگال میں 'پردھان منتری دھن-دھانیہ کرشی یوجنا' (پی ایم ڈی ڈی کے وائی)کے نفاذ کا آغاز بھی کریں گے۔ یہ اسکیم ریاست کے پورولیا، دارجلنگ، علی پور دوار اور جھارگرام اضلاع کااحاطہ کرے گی، جس کا بنیادی مقصد زرعی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا، فصلوں کے تنوع اور پائیدار کھیتی باڑی کو فروغ دینا، کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے اور آبپاشی کی سہولیات کو مضبوط کرنا، بینکوں سے قرض ملنے کے عمل کو آسان بنانا اور دیہی علاقوں کی مکمل ترقی کے لیے مرکز اور ریاست کی متعدد اسکیموں کو ایک ساتھ ملا کر کام کرنا ہے۔
***
ش ح ۔ م م۔ ج
Uno-8826
(रिलीज़ आईडी: 2274647)
आगंतुक पटल : 12