بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بی سی ایس ایل کے ساتھ مفاہمت نامےکے ذریعے مودی حکومت کی ‘آتم نربھر کنٹینر مہم’ نے عملی شکل اختیارکی

प्रविष्टि तिथि: 03 FEB 2026 8:09PM by PIB Delhi
  • مرکزی وزراء سربانند سونووال اور اشونی ویشنو نے ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، جہاں قومی کنٹینر لائن منصوبہ سی ایم اے ایس ترغیبی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا۔
  • مجوزہ 59,000 کروڑ روپے کا فلیٹ اور گھریلو کنٹینر مینوفیکچرنگ منصوبہ ہندوستان کی برآمدی و درآمدی (ای ایکس آئی ایم) لاجسٹکس حکمت عملی کی بنیاد فراہم کرے گا۔
  • آئی آر ایف سی اور ایس ایم ایف سی ایل نے وی او سی پورٹ کے ساتھ 15,000 کروڑ روپے کے آؤٹر ہاربر توسیعی منصوبے کے لیے معاہدہ کیا۔

 

مرکزی حکومت نے ایک مربوط اور ملکی سطح پر قائم کنٹینر نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جس کے تحت ہندوستان کنٹینر شپنگ لائن (بی سی ایس ایل) کے قیام کے لیے ایک مفاہمت نامے پر پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کی تقریب میں بندگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال اور مرکزی وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو موجود تھے، جو جہازرانی، بندرگاہوں اور ریلوے سے منسلک لاجسٹکس کے شعبوں میں مربوط کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر مملکت جناب شانتنو ٹھاکر نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

بی سی ایس ایل سے متعلق یہ مفاہمت نامہ شپنگ کارپوریشن آف انڈیا(ایس سی آئی)، کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا(سی او این سی او آر)، جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی، وی او چندر شیکھرن پورٹ اتھارٹی(وی او سی پی اے)، چنئی پورٹ اتھارٹی اور ساگرمالا فنانس کارپوریشن لمیٹڈ (ایس ایم ایف سی ایل) کے درمیان بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں(ایم او پی ایس ڈبلیو) کے تحت دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ مرکزی بجٹ 27-2026 میں اعلان کردہ کنٹینر مینوفیکچرنگ اسسٹنس اسکیم(سی ایم اے ایس) کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔

اسی کے ساتھ وی او چندر شیکھرن پورٹ اتھارٹی(وی او سی پی اے)، ٹوٹیکورین میں آؤٹر ہاربر منصوبے کی مالی معاونت کے لیے ایک علیحدہ سہ فریقی مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے، جووی او سی پی اے ، انڈین ریلوے فنانس کارپوریشن لمیٹڈ(آئی آر ایف سی) اورایس ایم ایف سی ایل کے درمیان طے پائے۔

اس معاہدے کے تحت ساگرمالا پروگرام اور پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت بندرگاہوں کی گنجائش میں توسیع کے لیے 15,000 کروڑ روپے تک کی مشترکہ مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس مالیاتی فریم ورک کی توجہ مرکز پانی کو روکے جانے سے متعلق کی تعمیر اور متعلقہ ساحلی و سمندری سہولیات کے لیے قرض کی بنیاد پر مالی امداد فراہم کرنا ہے، جو بنیادی طور پر ہائبرڈ اینیٹی ماڈل (ایچ اے ایم) کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔

بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ یہ اقدامات، جن میں بی سی ایس ایل اور آؤٹر ہاربر فنانسنگ شامل ہیں، کنٹینر شعبے میں قومی سطح پر شپنگ صلاحیت کو مضبوط بنانے، بندرگاہی ڈھانچے کو بہتر کرنے اور آتم نربھر بھارت اور میری ٹائم امرت کال 2047 کے وژن سے ہم آہنگ کرنے کی جانب اسٹریٹجک اقدامات ہیں۔

سربانند سونووال نے کہاکہ یہ مفاہمت نامہ ہمارے متحرک وزیر اعظم نریندر مودی جی کے آتم نربھر بھارت کے وژن کو عملی اور ٹھوس بحری صلاحیت میں تبدیل کرنے کی علامت ہیں۔ بھارت کنٹینر شپنگ لائن، جو بجٹ27-2026 میں اعلان کردہ کنٹینر مینوفیکچرنگ اسسٹنس اسکیم (سی ایم اے ایس)کے ساتھ ہم آہنگ ہے، ہندوستان کی کنٹینر تجارت کو ہندوستانی کنٹرول میں مضبوط بنائے گی، جبکہ بیرونی بندرگاہوں کی مالی معاونت ہمارے بندرگاہی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرے گی۔ یہ اقدام انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔سی او این سی او آر کے ساتھ شراکت میں تیار کی جانے والی نئی شپنگ اور کنٹینر لائن کے ذریعے ہم تقریباً 15,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ پورے  ہندوستان میں ایک مضبوط اور عالمی معیار کا کنٹینر نظام قائم کر سکتے ہیں۔ جہاز کو بنانے میں مالی معاونت، جہازوں کی تجدید نو اور وسیع بحری ترقی کے اقدامات کے بعد، اس کنٹینر لائن کا آغاز ایک مضبوط اور اہم اگلا قدم ہے۔

ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی  کے مرکزی وزیراشونی ویشنو نے کہاکہ یہ ایک فخر کا لمحہ ہے کہ ایک طویل عرصے سے زیر التوا وژن حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ معزز وزیراعظم نریندر مودی جی کی رہنمائی میں ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ منظوریوں میں تاخیر نہ ہو اور منصوبے تیزی اور مؤثریت کے ساتھ آگے بڑھیں۔ یہ اقدام انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ سی او این سی او آر کے ساتھ شراکت میں تیار کی جانے والی نئی شپنگ اور کنٹینر لائن کے ذریعے ہم ہندوستان بھر میں تقریباً 15,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ ایک مضبوط اور عالمی معیار کا کنٹینر نظام قائم کر سکتے ہیں۔ شپ بلڈنگ مالی معاونت، شپ ری سائیکلنگ اور وسیع بحری ترقی کے اقدامات کے بعد، اس کنٹینر لائن کا آغاز ایک اہم اور مضبوط اگلا قدم ہے۔

اس موقع پر بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر مملکت جناب شانتنو ٹھاکر نے کہاکہ یہ دونوں مفاہمت نامے عزت مآب وزیراعظم جناب نریندر مودی جی کی غیر معمولی بصیرت کی عکاسی کرتی ہیں، جن کی قیادت ہندوستان کی بحری نشاۃِ ثانیہ کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے اور ملک کو نہ صرف زمینی بلکہ بحری سطح پر بھی ایک عالمی طاقت بنا رہی ہے۔ میں تمام شراکت داروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس اجتماعی وژن کو عملی شکل دینے کے لیے ان کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

اس وقت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت  ہندوستان کے بارے میں اندازہ ہے کہ 2030 تک اس کی جی ڈی پی تقریباً 7.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی اور یہ رجحان برآمدات و درآمدات کے حجم اور کنٹینرائزڈ کارگو ٹریفک میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مضبوط ہندوستانی کنٹینر کیریئرز کی عدم موجودگی کے باعث برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو مال برداری کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی سپلائی چین میں اچانک پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔

****

ش ح۔م ع ن۔ م ش

U. No .8808


(रिलीज़ आईडी: 2274518) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी