وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ اور وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری نے بھوجپور میں انٹیگریٹڈ ایکوا پارک کا سنگِ بنیاد رکھا اور پٹنہ میں این ایف ڈی بی کے علاقائی مرکز کا افتتاح کیا
اکتیس کروڑ21 لاکھ روپے مالیت کا انٹیگریٹڈ ایکوا پارک، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت معیاری مچھلی کے بیج کی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور ویلیو ایڈیشن کو تقویت دے گا
پٹنہ میں نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) کا علاقائی مرکز مشرقی بھارت میں ماہی پروری کی ترقی کے لیے علم، تحقیق اور ادارہ جاتی معاونت کا اہم مرکز بنے گا
یہ دونوں اقدامات بہار کے اندرونی حصوں میں ماہی پروری کے نظام کو مضبوط بنانے اور سمندری و آبی معیشت کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
15 JUN 2026 9:52PM by PIB Delhi
ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے اور حکومتِ ہند کے جامع اور پائیدار بلیو اکانومی کے وژن کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر، ماہی پروری، مویشی پروری، ڈیری اور پنچایتی راج کےمرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے بہار کے معزز وزیرِ اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری کے ہمراہ 15 جون 2026 کو بہار کے ضلع بھوجپور میں واقع وناسور فش سیڈ فارم میں انٹیگریٹڈ ایکوا پارک کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر انہوں نے پٹنہ میں نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) کے علاقائی مرکز کا بھی افتتاح کیا۔

پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت 31.21 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور شدہ انٹیگریٹڈ ایکوا پارک ایک جدید اور جامع آبی زراعتی مرکز کے طور پر قائم کیا جائے گا۔ اس میں کارپ اور اسٹرائپڈ کیٹ فش ہیچریز، بروڈر انکیوبیشن سہولیات، بایوفلاک ٹینکس، ری سرکولیٹری ایکوا کلچر سسٹم (آراےا یس) یونٹس، مچھلیوں کے چارے کی تیاری کی سہولیات، پانی کے معیار اور بیماریوں کی تشخیص کے لیے جدید تجربہ گاہیں، قرنطینہ سہولیات اور 50 بستروں پر مشتمل رہائشی تربیتی ہاسٹل شامل ہوں گے۔یہ منصوبہ معیاری مچھلی کے بیج کی دستیابی کو یقینی بنانے، جدید آبی زراعتی ٹیکنالوجیز کے عملی مظاہرے، مچھلی پالنے والے کسانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ اور اہم آبی زراعتی وسائل کے لیے پڑوسی ریاستوں پر انحصار کم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیداوار میں اضافہ ہوگا اور ماہی پروری سے وابستہ کسانوں کی آمدنی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

پٹنہ میں نو قائم شدہ نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) علاقائی مرکز بہار اور مشرقی بھارت کی پڑوسی ریاستوں کے لیے ایک مرکزی ادارہ جاتی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ اس کے ذریعے تکنیکی مہارت، مختلف سرکاری اسکیموں کا باہمی ربط، صلاحیت سازی، ڈیجیٹل رسائی اور زمینی سطح پر منصوبوں کے نفاذ میں معاونت براہِ راست مستفیدین تک پہنچائی جائے گی۔یہ مرکز جدید آبی زراعتی نظاموں، جن میں بایوفلاک، ری سرکولیٹری ایکوا کلچر سسٹم (آراےا یس)، کیج کلچر اور پریسیژن ایکوا کلچر شامل ہیں، کو فروغ دے گا۔ ساتھ ہی ماہی گیروں، معاون تنظیموں اور کاروباری افراد کو مسلسل تکنیکی رہنمائی اور معاونت بھی فراہم کرے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ماہی پروری، مویشی پروری، ڈیری اور پنچایتی راج کےمرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ یہ دونوں منصوبے بہار کے ماہی پروری کے مستقبل میں براہِ راست سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتے ہیں اور اندرونی حصوں میں ماہی پروری کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتِ ہند کے عزم کا اعادہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بہار میں مچھلی کی پیداوار 2005 میں 3.18 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2025 میں 10.2 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گئی ہے، جو اندرونِ ملک ماہی پروری کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کے مثبت اور انقلابی اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے مزید زور دیا کہ پٹنہ میں قائم نئے این ایف ڈی بی علاقائی مرکز کے ذریعے تربیت، صلاحیت سازی، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات پر مبنی آبی زراعت کے فروغ کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

بہار کے وزیرِ اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری نے کہا کہ ریاست میں اندرونِ ملک ماہی پروری کے شعبے میں بے پناہ اور ابھی تک غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے، جسے بروئے کار لانے کے لیے ریاستی حکومت بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ اور نیپال بہار کی ماہی پروری کی پیداوار کے لیے اہم مارکیٹ مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پیداوار کو بڑھتی ہوئی صارفین کی ترجیحات اور مارکیٹ کی مانگ کے مطابق بنانا ضروری ہے، جس میں اعلیٰ قیمت والی اور ہڈیوں سے پاک مچھلی کی اقسام بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انٹیگریٹڈ ایکوا پارک ایک منفرد مقام ہے جسے مستقبل میں ماحولیاتی سیاحت کے مرکز کے طور پر بھی ترقی دی جائے گی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حکومتِ ہند کے تحت ماہی پروری کے محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر ابھلکش لکھِی نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بہار کو پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور نیلگوں انقلاب کے تحت تقریباً 900 کروڑ روپے کی امداد فراہم کی گئی ہے، جن میں صرف پی ایم ایم ایس وائی کے تحت تقریباً 600 کروڑ روپے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پٹنہ میں نیا این ایف ڈی بی علاقائی مرکز قائم ہونے کے بعد تربیت، صلاحیت سازی، تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر) کی تیاری اور منصوبوں میں معاونت جیسے اہم امور اب مقامی سطح پر ہی فراہم کیے جائیں گے، جس سے بہار کو اندرونِ ملک ماہی پروری کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر ترقی دینے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انٹیگریٹڈ ایکوا پارک اور این ایف ڈی بی علاقائی مرکز مل کر ایک مکمل پیداواری اور ادارہ جاتی نظام تشکیل دیتے ہیں-ایک طرف جدید ٹیکنالوجی، معیاری فش سیڈ اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گا، جبکہ دوسری طرف علم، تربیت اور نفاذ کی معاونت مہیا کرے گا۔یہ دونوں اقدامات جدید آبی زراعتی طریقوں کے فروغ، ماہی پروری کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور بہار میں آمدنی، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
پس منظر:
بہار ملک کے سب سے امیر اندرونِ ملک آبی وسائل رکھنے والے خطوں میں سے ایک ہے، جہاں 1.22 لاکھ ہیکٹر تالاب اور آبی ذخائر، 9.5 لاکھ ہیکٹر سیلابی میدان اور غیر استعمال شدہ آبی علاقے، 0.64 لاکھ ہیکٹر آبی ذخائر اور 21,354 کلومیٹر سے زائد دریا اور نہرکے نظام موجود ہیں، جو پائیدار ماہی پروری پر مبنی معاشی ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کرتے ہیں۔
گزشتہ گیارہ برسوں میں حکومتِ ہند کی 902 کروڑ روپے سے زائد سرمایہ کاری نے بہار کے ماہی پروری کے شعبے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مچھلی کی پیداوار15-2014 میں 4.79 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر26-2025 میں 10.28 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث بہار ملک کی اندرونِ ملک مچھلی پیدا کرنے والی ریاستوں میں نویں سے چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔بہار اب پڑوسی ریاستوں کو سالانہ 89,600 میٹرک ٹن مچھلی فراہم کرنے والا ایک بڑا خالص سپلائر بھی بن چکا ہے۔
*****
ش ح۔ ع ح– ف ر
Uno-8670
(रिलीज़ आईडी: 2273434)
आगंतुक पटल : 4