کامرس اور صنعت کی وزارتہ
محکمۂ تجارت نے ممبئی میں فارمیسل کے ریجنل دفتر میں ایک علاقائی آؤٹ ریچ پروگرام اور پریس انٹریکشن کا انعقاد کیا
اس موقع پر گزشتہ 12 سالوں کے دوران بھارت کے برآمدی فروغ اور خاص طور پر دواسازی کے شعبے میں حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
09 JUN 2026 8:36PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کے محکمۂ تجارت نے ممبئی میں فارماسیوٹیکل ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا کے ریجنل دفتر میں ایک آؤٹ ریچ پروگرام کا انعقاد کیا، جس کا مقصد گزشتہ 12 سالوں کے دوران محکمہ کی اہم کامیابیوں، اصلاحات اور پالیسی اقدامات کو اجاگر کرنا تھا۔
اس پروگرام میں صنعت سے وابستہ اہم تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی، جن میں انڈین ڈرگ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، انڈین فارماسیوٹیکل الائنس اور انٹرنیشنل فارماسیوٹیکل ایکسی پیئنٹس کونسل آف انڈیا شامل تھے۔ اس کے علاوہ اے سی جی،ایف ڈی سی لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جناب موہت یادو، جوائنٹ سیکریٹری، محکمۂ تجارت نے ہندوستان کی مضبوط برآمدی رفتار، منڈیوں کی بڑھتی ہوئی تنوع پذیری اور اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے برآمدی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، مسابقت میں اضافہ کرنے اور ہندوستان کو مقدار پر مبنی برآمدات سے قدر پر مبنی برآمدات کی طرف منتقل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

جناب جوائنٹ سیکریٹری نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں کے دوران ہندوستانی ادویہ سازی کا شعبہ ایک اسٹریٹیجک صنعت اور قومی فخر کی علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ آج ہندوستان کو دنیا بھر میں’’فارمیسی آف دی ورلڈ‘‘کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جو اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار، معیار، سستی قیمت اور قابلِ اعتماد سپلائی کی بدولت حاصل ہونے والا اعزاز ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ 2014 میں تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2026 میں تقریباً 60 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور توقع ہے کہ 2030 تک یہ 130 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ ہندوستان کی ادویہ سازی کی برآمدات مالی سال 2015 میں 14 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں تقریباً 31 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو 7.4 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ 2030 تک 50 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سستی ادو یہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہندوستان جنیرک ادویات نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو علاج تک رسائی فراہم کی ہے۔ ہندوستان حجم کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا دوا ساز ملک ہے، عالمی جنیرک ادویات کی تقریباً 20 فیصد طلب پوری کرتا ہےاور200 سے زائد ممالک کو دوا سازی کی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ہندوستان کی دوا سازی کی برآمدات کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ انتہائی سخت ریگولیٹری معیار رکھنے والی منڈیوں میں جاتا ہے۔
جوائنٹ سیکریٹری نے کہا کہ آج دنیا صحت کے شعبے میں سپلائی چینز میں معیار، تسلسل اور سستی قیمت کی متلاشی ہے اور ہندوستان یہ تینوں خصوصیات فراہم کرتا ہے۔ معیار کا اظہار ہندوستان کے مضبوط ریگولیٹری نظام سے ہوتا ہے۔ جس میں تقریباً 1,000 امریکی ایف ڈی اے سے رجسٹرڈ سائٹس شامل ہیں، جو امریکہ کے باہر سب سے زیادہ ہیں۔ تسلسل کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ ہندوستان نے وبائی امراض اور حالیہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے دوران بھی ادویات کی فراہمی کو برقرار رکھا۔ جبکہ سستی قیمت کا اظہار ہندوستانی جنیرک ادویات کی عالمی سطح پر وسیع رسائی سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر ہندوستان کے دوا سازی کے سفر میں ایک خصوصی مقام رکھتا ہے۔ ممبئی، پونے، چھترپتی سمبھاجی نگر، ترپور اور اس کے قریبی صنعتی کلسٹرز دوا سازی کی پیداوار، تحقیق، برآمدات اور ہنر مند افرادی قوت کے اہم مراکز کے طور پر ابھرے ہیں۔ مہاراشٹر کی فارماسیوٹیکل صنعت دو لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ جن میں فارماسسٹ، سائنسدان اور ہنر مند مینوفیکچرنگ ورکرز شامل ہیں اور یہ ہندوستانی کی دوا سازی کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
صنعتی نمائندگان نے حکومتِ ہند کی گزشتہ 12 سالوں کی کوششوں کو سراہا۔جن کے ذریعہ کاروبار میں آسانی اور برآمدی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ ان اقدامات میں رجسٹریشن کم ممبرشپ سرٹیفکیٹس کا ڈیجیٹل اجرا، ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس آف اوریجن، ٹریڈ کنیکٹ ای پلیٹ فارم، ٹریڈ انفراسٹرکچر فار ایکسپورٹ اسکیم پورٹل، ایکسپورٹ پروموشن مشن، تحقیق و ترقی سے منسلک معاونت اور معیار، تعمیل اور منڈی تک رسائی کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
جوائنٹ سکریٹری نے بائیوفرما شکتی ، علم ، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال میں ترقی کے لیے باضابطہ حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی ۔ ہندوستان کو بائیوفرماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لیے پانچ سالوں میں 10,000 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ یہ پہل تجویز کی گئی ہے ۔ یہ حیاتیاتی اور بائیوسیملرز کی گھریلو پیداوار کے لیے ایک ماحولیاتی نظام بنانے ، تحقیق اور ترقی کو مضبوط کرنے ، کلینیکل ٹرائل انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے ، تعلیمی اداروں ، تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دینے اور عالمی حیاتیاتی سپلائی چین میں ہندوستان کی مسابقت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان دواسازی سے متعلق معلومات کی خدمات کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے ۔ کثیر ملکی دوا ساز کمپنیاں تیزی سے ہندوستان میں عالمی صلاحیت کے مراکز قائم کر رہی ہیں ، 100,000 سے زیادہ پیشہ ور افراد کو ملازمت دے رہی ہیں اور 1 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو راغب کر رہی ہیں ۔ یہ مراکز تجزیات ، طبی کارروائیوں ، ریگولیٹری سائنس ، فارماکو ویجیلنس ، ڈیجیٹل صحت اور تحقیق میں مدد کرتے ہیں ۔
جوائنٹ سیکریٹری نے کہا کہ ہندوستان کے تجارتی معاہدے فارماسیوٹیکل شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، برطانیہ،یورپییونین، ای ایف ٹی اے، سلطنت عمان اور نیوزی لینڈ جیسے شراکت داروں کے ساتھ معاہدے اور جاری مذاکرات مارکیٹ تک رسائی، ریگولیٹری تعاون، سرمایہ کاری شراکت داری اور ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دیں گے۔ ہندوستان-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدہ، جو 15 سال میں 100 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے سے تقویت یافتہ ہے، لائف سائنسز، تحقیق، مینوفیکچرنگ اور جدید صحت ٹیکنالوجیز میں مزید مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ترقی کا مرحلہ ہندوستان کے حجم سے قدر کی طرف سفر سے متعین ہوگا۔ جنیرک ادویات اس شعبے کی بنیاد رہیں گی، تاہم مستقبل کی ترقی بایوسیمیلرز، بایولوجکس، جین تھراپیز،خصوصی ادویات، ویکسینز، پیچیدہ جنیرکس، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، میڈیکل ڈیوائسز اور فعال دوا ساز اجزاء (اے پی آئیز)اور کلیدی ابتدائی مواد (کے ایس ایم ایز) میں خود کفالت کے ذریعے زیادہ نمایاں ہوگی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی صحت کے نظام کو پیمانہ، مہارت ، سائنس، معیار اور سماجی وابستگی فراہم کرتا ہے۔ محکمۂ تجارت صنعت کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ تجارتی معاہدوں کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جا سکے، ریگولیٹری اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز کا حل نکالا جا سکے اور ہندوستان کو اعلیٰ قدر والی دوا سازی، سستی جدت اور جدید ادویات کے عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کیا جا سکے۔
*****
(ش ح ۔ م ح۔ش ب ن)
U. No. 8201
(रिलीज़ आईडी: 2271037)
आगंतुक पटल : 9