ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مشترکہ طور پر لکھنؤ میں نئے علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح کیا

گزشتہ ایک دہائی میں موسم کی پیشگوئی سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں بے مثال توسیع ہوئی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

اتر پردیش کے موسمیاتی بنیادی ڈھانچےمیں گزشتہ دہائی میں بڑی توسیع ہوئی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

اتر پردیش میں 2014 میں صرف ایک ڈوپلر ویدر راڈار تھا، اب تین فعال ہیں اور چھ مزید جلد ہی نصب کیے جا رہے ہیں، آٹومیٹک ویدر اسٹیشن 59 سے بڑھ کر 107 ہو گئے، آٹومیٹک رین گیج اسٹیشن 132 سے بڑھ کر 140 اور لائٹننگ سینسر صفرسے بڑھ کر 7 ہو گئے

مرکزی وزیر نے کہا کہ مشن موسم کے تحت اگلے دو سال میں بھارت کے پاس 100 ڈوپلر ویدر راڈار ہوں گے، انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ پیشگی انتباہات کے تئیں سنجیدگی برتیں

प्रविष्टि तिथि: 08 JUN 2026 5:04PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ مشترکہ طور پر لکھنؤ میں نئے علاقائی موسمیاتی مرکز (آر ایم سی) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے موسمیاتی بنیادی ڈھانچے میں بے مثال توسیع ہوئی ہے، جس سے ملک بھر میں زیادہ درست، مقام سے مخصوص اور اثرات پر مبنی موسم کی پیشگوئی کی خدمات فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں موسم کی پیشگوئی اور مشاہداتی نظام میں حاصل ہونے والی ترقی نے شہریوں، آفات کے بندوبست سے متعلق ایجنسیوں، کسانوں، سیاحوں اور ایوی ایشن کے شعبے کو موسمیات سے متعلق خدمات فراہم کرنے کے طریقے کو یکسر بدل دیا ہے۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ 2014 میں بھارت کے پاس صرف 17 ڈوپلر ویدر راڈار تھے، جبکہ جموں و کشمیر، پنجاب اور اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں ایک بھی راڈار موجود نہیں تھا۔ انہوں نے اطلاع دی کہ اب یہ نیٹ ورک بڑھ کر 50 ڈوپلر ویدر راڈاروں تک پہنچ چکا ہے اور مشن موسم کے تحت مزید 50 راڈار نصب کرنے کی تجویز ہے، جس سے اگلے دو سال میں کل راڈاروں کی تعداد تقریباً 100 ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس توسیع سے ملک بھر میں موسم کی ریئل ٹائم نگرانی اور پیشگوئی کی صلاحیتیں نمایاں طور پر مضبوط ہوں گی۔

پیشگوئی کی خدمات میں ہونے والی پیشرفت کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نوٹ کیا کہ موسم کی پیشگوئی اب وسیع علاقائی پیشگوئیوں سے ترقی کر کے انتہائی مقامی اور وقت سے مخصوص پیشگوئیوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری اب قلیل مدتی درست پیشگوئی حاصل کر سکتے ہیں، جس میں اگلے چند گھنٹوں کے موسم کی صورتحال بھی شامل ہے، جو بہتر منصوبہ بندی اور تیاری میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موسم کی پیشگوئی پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مشاہداتی نیٹ ورکس، فورکاسٹنگ ماڈلز اور معلومات کی ترسیل کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

خصوصی طور پر اتر پردیش کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ریاست کا جغرافیائی تنوع اور موسمیاتی تبدیلیاں اسے جدید موسمیاتی خدمات کے لیے سب سے اہم خطوں میں سے ایک بناتی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اتر پردیش میں سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، گرج چمک کے ساتھ طوفان اور دیگر شدید موسمی حالات کا خطرہ بہت زیادہ رہتا ہے، جس کی وجہ سے عوامی تحفظ اور قدرتی آفات کے بندوبست سے متعلق تیاریوں کے لیے بروقت پیشگوئی اور انتباہی نظام انتہائی اہم ہیں۔

مرکزی وزیر نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اتر پردیش میں موسمیاتی بنیادی ڈھانچے کی قابلِ ذکر مضبوطی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اطلاع دی کہ جہاں 2014 میں ریاست کے پاس صرف ایک ڈوپلر ویدر راڈار تھا، وہیں اب تین فعال ہیں اور کئی مزید نصب کیے جا رہے ہیں۔ ریاست کے آٹومیٹک ویدر اسٹیشن 59 سے بڑھ کر 107، آٹومیٹک رین گیج اسٹیشن 132 سے بڑھ کر 140 اور لائٹننگ سینسر صفر سے بڑھ کر 7 ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید نوٹ کیا کہ اب اتر پردیش کے گیارہ ہوائی اڈوں پر ایوی ایشن کی موسمیاتی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جو ریاست میں ایوی ایشن کے بنیادی ڈھانچے کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اتراکھنڈ میں موسمیاتی خدمات کی نمایاں توسیع کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ اچانک آنے والے سیلاب، بادل پھٹنے ، مٹی کے تودے گرنےاور برفانی طوفانوں کے خطرات سے دوچار ہونے کے باوجود، ماضی میں اس ریاست کے پاس کوئی ڈوپلر ویدر راڈار نہیں تھا۔ آج، وہاں ایسے تین راڈار نصب کیے جا چکے ہیں اور مشن موسم کے تحت اضافی نظام نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ہمالیائی خطے میں موسم کی نگرانی کی صلاحیتوں کو مضبوط کرتے ہوئے آٹومیٹک ویدر اسٹیشنوں، ایئرپورٹ میٹرولوجیکل آبزرویٹریز اور بجلی کا پتہ لگانے والےنظام کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

لکھنؤ میں نئے نامزد کردہ علاقائی موسمیاتی مرکز (آر ایم سی) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ مرکز موسمیاتی خدمات کو غیر مرتکز کرنے اور علاقائی پیشگوئی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مرکز اتر پردیش، اتراکھنڈ اور ملحقہ علاقوں کی ضروریات کو پورا کرے گا، جس سے موسم کی معلومات کی زیادہ توجہ مرکوز نگرانی، پیشگوئی اور ترسیل ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ریاستی حکومت کے تعاون سے جدید ڈوپلر ویدر راڈار اور ونڈ پروفائلر سسٹم سمیت مخصوص بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موسم کی پیشگوئی کے بہتر نظام اچانک آنے والے سیلاب، بادل پھٹنے ، گرج چمک کے ساتھ طوفان، آسمانی بجلی، برفانی چٹانیں کھسکنے اور دیگر شدید موسمی حالات کے بارے میں قبل پیشگی معلومات فراہم کر کے قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے میں نمایاں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ پیشگوئی کی درستی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، لیکن موسمیاتی خدمات کی تاثیر کا دارومدار بالاخر مقامی انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی اور موسمیاتی ایجنسیوں کے ذریعہ جاری کردہ ایڈوائزریز اور انتباہات پر عوام کے عمل کرنے پر ہے۔

مرکزی وزیر نے شہریوں، مقامی حکام اور قدرتی آفات کے بندوبست سے متعلق ایجنسیوں سے زور دے کر کہا کہ وہ موسم کی پیشگوئیوں کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور پیشگی انتباہ کے ساتھ ساتھ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دستیاب اثرات پر مبنی انتباہات کے تئیں سنجیدگی برتیں۔ انہوں نے کہا کہ موسم کی معلومات اب اضلاع، مقامی انتظامیہ اور پنچایتوں تک بروقت میں پہنچ رہی ہیں اور اسے منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔

لکھنؤ میں علاقائی موسمیاتی مرکز کا یہ اعلان بھارت کے موسم اور ماحولیاتی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ امید ہے کہ یہ مرکز پیشگوئی کی صلاحیتوں کو بڑھائے گا، موسمیاتی ایڈوائزریز کی ترسیل کو بہتر بنائے گا اور پورے خطے میں قدرتی آفات کے بندوبست، زراعت، ایوی ایشن اور عوامی تحفظ کے شعبوں کو مدد فراہم کرے گا۔

****

 

 

 

ش ح۔ک ح۔م ا

U-8117

                          


(रिलीज़ आईडी: 2270351) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil