بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ کے خطاب میں سمندری توسیع اور اندرونی آبی گزرگاہوں کے بارے میں واضح پالیسی سمت کا خاکہ پیش کیا گیا ہے: سربانند سونووال

بندرگاہوں اور لاجسٹکس میں مرکوز سرمایہ کاری بھارت کو ایک عالمی میری ٹائم ہب بنانے کے طویل مدتی پالیسی وژن کی عکاسی کرتی ہے: سونووال

प्रविष्टि तिथि: 28 JAN 2026 8:41PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 28 جنوری، 2026: بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر (ایم او پی ایس ڈبلیو) سربانند سونووال نے پارلیمنٹ میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب کو بصیرت افروز قرار دیا ہے، جس نے بھارت کے سمندری شعبے،  اندرونی آبی گزرگاہوں اور بحری معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے طویل مدتی پالیسی عزم کو مزید تقویت دی ہے۔ انہوں نے اسے عالمی سطح پر مسابقتی لاجسٹکس اور جہاز رانی کی صلاحیتیں پیدا کرنے کی قومی حکمتِ عملی کا ایک واضح ثبوت قرار دیا۔

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر (ایم او پی ایس ڈبلیو) سربانند سونووال نے کہا، ’’عزت مآب صدرِ جمہوریہ کے خطاب نے بھارت کے سمندری شعبے، اندرونی آبی گزرگاہوں اور بحری معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کی واضح طور پر تجدید کی ہے۔ قومی آبی گزرگاہوں کی توسیع، جہاز رانی کی بڑی اصلاحات اور بندرگاہوں و لاجسٹکس میں مرکوز سرمایہ کاری سے طویل مدتی پالیسی وژن کا اظہار ہوتا ہے جس کامقصد بھارت کو ایک عالمی میری ٹائم ہب بنانا نیز پائیدار ترقی، روزگار کی فراہمی اور علاقائی ترقی کو فروغ دینا ہے۔‘‘

اس سے قبل، بھارت کی صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھارت کے سمندری شعبے، اندرونی آبی گزرگاہوں اور بحری معیشت کو مضبوط بنانے پر حکومت کی نئی توجہ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی آبی گزرگاہوں کی توسیع اور بڑی پالیسی اصلاحات لاجسٹکس، تجارت اور ساحلی معیشت کو ایک نئی شکل دے رہی ہیں۔ بجٹ اجلاس کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں محترمہ مرمو نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اندرونی آبی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنے میں اہم پیشرفت کی ہے۔

صدرِ جمہوریہ نے کہا، ’’میری حکومت نے اندرونی آبی گزرگاہوں کی ترقی کے لیے بھی کئی اقدامات کیے ہیں۔ پہلے بھارت میں صرف پانچ قومی آبی گزرگاہیں تھیں، جو اب 100 کا ہندسہ عبور کر چکی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس توسیع نے مشرقی بھارت کی ریاستوں بشمول اتر پردیش، مغربی بنگال اور بہار کو لاجسٹکس ہب کے طور پر ابھرنے میں مدد دی ہے، جس سے سڑک اور ریل نیٹ ورک پر دباؤ کم ہوا ہے اور ساتھ ہی نقل و حمل کے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔

صدرِ جمہوریہ مرمو نے علاقائی معیشتوں میں کروز ٹورازم کے بڑھتے ہوئے تعاون پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، ’’کروز ٹورازم دریاؤں اور ساحلوں کے قریبی علاقوں میں سیاحت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جس سے مقامی معیشتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ صدرجمہوریہ کا خطاب حکومت کی ترقیاتی ترجیحات اور مستقبل کی پالیسی کی سمت کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا آغاز آج دونوں ایوانوں کے سامنے راشٹرپتی جی کے متاثر کن خطبے کے ساتھ ہوا۔ ہماری پارلیمانی روایتوں میں اس خطاب کی ایک خاص اہمیت ہے، کیونکہ یہ اس پالیسی سمت اور اجتماعی عزم کو واضح کرتا ہے جو آنے والے مہینوں میں ہمارے ملک کے ترقیاتی سفر کی رہنمائی کرے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطاب مستقبل کا روڈ میپ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے حالیہ ترقیاتی سفر کی عکاسی کرتا ہے۔

صدرِ جمہوریہ نےبحری معیشت کو مضبوط بنانے اور زراعت و اس سے منسلک شعبوں سے جڑے روزگار کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے حکومت کی کوششوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی۔ صدرجمہوریہ نے کہا، ’’آج اناج کی پیداوار کے ساتھ ساتھ کسانوں کو اقتصادی ترقی کے نئے راستوں کے طور پر مویشی پروری، ماہی پروری اور شہد کی مکھیاں پالنے کے شعبوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ساحلی پٹی پر رہنے والے ماہی گیروں تک خصوصی اقتصادی زون کے فوائد پہنچانے اور کھلے سمندر میں وسائل کے استعمال کو ممکن بنانے کے لیے نئی پالیسیاں وضع کی گئی ہیں۔

جہاز رانی کے شعبے میں ساختی چیلنجوں کو اجاگر کرتے ہوئے، محترمہ مرمو نے کہا کہ نوآبادیاتی دور کے بعد کئی دہائیوں کی غفلت کے باعث بھارت نے اپنی سمندری بالادستی کا ایک بڑا حصہ کھو دیا تھا۔ صدر جمہوریہ نے کہا، ’’آج، بھارت کی 95 فیصد تجارت غیر ملکی جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے، جس پر سالانہ 6 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت جہازرانی کے شعبے کے لیے تقریباً 70,000 کروڑ روپے کے تاریخی پیکیج، بڑے جہازوں کو بنیادی ڈھانچےکا درجہ دینے اور پرانے سمندری قوانین میں ترمیم کے ذریعے اس رجحان کو بدلنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر (ایم او پی ایس ڈبلیو) سربانند سونووال نے کہا کہ صدرِ جمہوریہ کے خطاب نے بھارت کی اقتصادی ترقی کے لیے سمندری ترقی کی اسٹریٹجک اہمیت کی دوبارہ توثیق کی ہے۔ سونووال نے کہا، ’’پانچ سے بڑھ کر 100 سے زیادہ قومی آبی گزرگاہوں کی توسیع نے نئی اقتصادی راہداریوں کو کھولا ہے اور ملٹی موڈل لاجسٹکس کو مضبوط کیا ہے۔‘‘

سونووال نے مزید کہا کہ مودی حکومت کے تحت اندرونی آبی گزرگاہیں نقل و حمل کے ایک پائیدار اور سستے ذریعے کے طور پر ابھری ہیں، جو علاقائی ترقی میں مدد گار ثابت ہو رہی ہیں اور لاجسٹکس کے اخراجات کو کم کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بندرگاہوں، جہاز رانی اوربحری سیاحت میں مرکوز سرمایہ کاری روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے اور ساحلی معیشتوں کو فروغ دے رہی ہے۔

سونووال نے کہا، ’’بڑے پیمانے پر اصلاحات، بنیادی ڈھانچےمیں سرمایہ کاری اور جدید سمندری قوانین کے ساتھ، بھارت ایک عالمی میری ٹائم نیشن کے طور پر اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی سمت میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘

****

 

 

 

ش ح۔ک ح۔م ا

U-8115

                          


(रिलीज़ आईडी: 2270324) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी