راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
azadi ka amrit mahotsav

بھاری صنعت کی وزارت (ایم ایچ آئی) سے متعلق 332ویں رپورٹ پر پریس ریلیز

प्रविष्टि तिथि: 11 MAR 2026 4:28PM by PIB Delhi

پارلیمانی صنعت سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی برائے شعبہ (ایوان بالا-راجیہ سبھا)، جس کی صدارت جناب ترچی شیوا کر رہے ہیں، نے بتاریخ 11 مارچ 2026 کو پارلیمنٹ میں بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) کے مطالباتِ زر (2026-27) پر اپنی تین سو بتیسویں (332ویں) رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں وزارت کی بجٹ مختصات اور اہم اسکیموں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کا تعلق آٹوموٹییو صنعت، کیپٹل گُڈز سیکٹر، مرکزی سرکاری اداروں (سی پی ایس ایز) اور خود مختار اداروں سے ہے۔

کمیٹی نے بھاری صنعتوں کی وزارت کے مطالباتِ زر 2026-27 (ڈیمانڈ نمبر 48) کا آئینِ ہند کی دفعہ 272 کے تحت کونسل آف اسٹیٹس (ایوان بالا-راجیہ سبھا) کے قواعد و ضوابط کے مطابق جائزہ لیا۔ کمیٹی نے وزارت کے سکریٹری اور دیگر افسران کے علاوہ اس کے زیرِ انتظام سی پی ایس ایز s اور اداروں کے نمائندوں سے زبانی شواہد بھی حاصل کیے۔ رپورٹ میں شامل اہم سفارشات کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بجٹ  الاٹمنٹ : حقیقت پسندانہ بجٹنگ اور متوازن اخراجات کی ضرورت

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ وزارت کے لیے بجٹ تخمینے(بی ای) 2026-27 میں 7,939.90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وزارت کی متوقع ضرورت 9,484.32 کروڑ روپے تھی، جس سے تقریباً 16 فیصد کی نمایاں کمی ظاہر ہوتی ہے۔ کل اخراجات میں ریونیو اخراجات کا حصہ 99.96 فیصد (7,937.08 کروڑ روپے) ہے، جبکہ کیپیٹل اخراجات کو کم کرکے نہایت معمولی 2.82 کروڑ روپے (0.04 فیصد) کر دیا گیا ہے، جو کہ بی ای  2025-26 کے 502 کروڑ روپے کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔

کمیٹی نے بار باربی ای سے آر ای (نظرثانی شدہ تخمینے) میں کمی پر تشویش ظاہر کی ہے—2024-25 اور 2025-26 میں تخمینوں کو نظرثانی کے مرحلے پر تقریباً ایک تہائی تک کم کیا گیا—جو کہ مسلسل زائد اندازوں اور اخراجاتی منصوبہ بندی کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔آر ای کے استعمال میں کمی کا رجحان بھی باعثِ تشویش قرار دیا گیا: 2022-23 میں 84.23 فیصد، 2023-24 میں 76.87 فیصد، اور 2024-25 میں 58.90 فیصد۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

  • وزارت کو درمیانی مدت میں ریونیو اور کیپیٹل اخراجات کے درمیان ایک زیادہ متوازن تناسب بحال کرنا چاہیے اور پائیدار صنعتی اثاثوں، ٹیسٹنگ اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، اور مشکلات کا شکار سی پی ایس ایز کی وقت مقررہ تنظیمِ نو کے لیے کیپیٹل الاٹمنٹ میں اضافہ کرنے کے امکانات تلاش کرنے چاہییں۔
  • ان اسکیموں کے لیے، جن میں مستقل طور پر کم استعمال کا رجحان پایا جاتا ہے، اسکیم-مخصوص اخراجاتی ہم آہنگی کے منصوبے تیار کیے جائیں، جن میں منظوریوں کو ابتدائی مرحلے میں مکمل کرنا اور اہداف کی حقیقت پسندانہ مرحلہ بندی شامل ہو۔
  • وزارت کو اپنی اندرونی وسائل کے تخمینے کے طریق کار کو مزید مضبوط بنانا چاہیے اور وزارت خزانہ کے ساتھ ابتدائی اور ڈیٹا پر مبنی مشاورت کرنی چاہیے تاکہ اہم کثیر سالہ اسکیموں کو پیش گوئی کے قابل اور مناسب فنڈنگ کا تسلسل فراہم کیا جا سکے۔
  • پی ایم ای-ڈرائیو: برقی نقل و حرکت میں طبقاتی/طبقہ جاتی عدم توازن کی اصلاح

 

پی ایم الیکٹرک ڈرائیو ریولوشن ان انوویٹیو وہیکل امپروومنٹ (پی ایم ای-ڈرائیو) اسکیم، جس کا مجموعی تخمینہ 10,900 کروڑ روپے ہے (اپریل 2024 سے مارچ 2028 تک مؤثر)، کو مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینے ( بی ای) میں 1,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 31 جنوری 2026 تک مجموعی طور پر 16,56,335 برقی گاڑیوں (ای ویز) کو ترغیبات دی جا چکی ہیں، جو کہ نظرثانی شدہ ہدف 28,26,634 کے مقابلہ میں تقریباً 58.6 فیصد پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔

پیش رفت زیادہ تر برقی دو پہیہ گاڑیوں(14,31,133: ڈبلیو-ای یونٹس) اور برقی تین پہیہ ایل5(ای3ڈبلیوایل5) 2,21,600 یونٹس تک محدود ہے۔ اس کے برعکس برقی ٹرکوں (ای- ٹرکس) اور برقی بسوں (ای-بسیز) میں پیش رفت صفر رہی ہے، جبکہ برقی رکشہ/کارٹ (ای-رکشہ-ای کارٹ) کے شعبے میں صرف 3,602 یونٹس حاصل ہوئے ہیں، جو نظرثانی شدہ ہدف 39,034 کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ برقی ایمبولینسز (ای-ایمبولینسز) میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

* پی ایم ای-ڈرائیو(پی ایم ای- ڈرائیو) کے تحت برقی دو پہیہ گاڑیوں(ای-2ڈبلیوز) کے لیے مراعات کو 31 مارچ 2028 تک، یعنی اسکیم کے اختتامی سال تک جاری رکھا جائے۔ تاہم اس میں ایک متوازن اور مرحلہ وار کمی (ایم سی ٹی) شامل کی جائے تاکہ کسی اچانک پالیسی تبدیلی کے جھٹکے سے بچا جا سکے، کیونکہ اس شعبہ میں بڑے پیمانے پر اپنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

  • برقی رکشہ/ای-کارٹ  کا اصل ہدف 1,10,596 بحال کیا جائے اور مراعات 31 مارچ 2028 تک بڑھائی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشترکہ اور سخت نفاذی اقدامات کیے جائیں تاکہ غیر مجاز اور غیر معیاری گاڑیوں کی پیداوار اور استعمال کو روکا جا سکے۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ تقریباً 4.75 لاکھ غیر رجسٹرڈ ای-رکشے بغیر سرٹیفکیشن، رجسٹریشن یا انشورنس کے چل رہے ہیں۔
  • *ای-3ڈبلیو ایل5 کے لیے نظرثانی شدہ اور بڑھا ہوا ہدف مقرر کیا جائے اور مراعات کو 31 مارچ 2028 تک دوبارہ بحال کیا جائے، کیونکہ این سی آر(نیشنل کیپٹل ریجن) اور بڑے شہروں میں اب بھی ڈیزل تھری وہیلرز کا استعمال جاری ہے۔
  • ای-ایمبولینسز اور ای-ٹرک کے لیے رہنما خطوط، ماڈل منظوریوں اور مینوفیکچرر آن بورڈنگ کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے واضح اور لازمی ٹائم لائنز مقرر کی جائیں اور اس کے لیے ایک منظم نگرانی کا نظام اور تفصیلی ایکشن پلان تیار کیا جائے۔
  • ٹینڈرز کی حتمی منظوری کے بعدای-بس کی تعیناتی کے عمل میں مقررہ وقت کی سخت پابندی یقینی بنائی جائے اور واضح مراحل کے ساتھ ایک مضبوط مانیٹرنگ فریم ورک قائم کیا جائے۔

الیکٹرک وہیکل پبلک چارجنگ انفراسٹرکچر: نجی شعبے کی شمولیت میں توسیع

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پی ایم ای-ڈرائیو کے تحت الیکٹرک وہیکل پبلک چارجنگ اسٹیشنز (ای وی پی سی ایس) جزو کے لیے ابتدائی اقدامات مکمل ہو چکے ہیں، جن میں بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ ( بی ایچ ای ایل-بھیل) کو پروجیکٹ امپلیمنٹیشن ایجنسی مقرر کرنا اور بیورو آف انرجی ایفیشنسی (بی ای ای) کی جانب سے بینچ مارک لاگت کی نظرثانی شامل ہے۔ تاہم فنڈز کا استعمال اب بھی محدود ہے۔

کمیٹی نے نشاندہی کی کہ موجودہ مختلف سطحی سبسڈی ڈھانچہ کیٹیگری سی (حکومتی/ پی سی یوسے منسلک مقامات کے علاوہ تمام مقامات) اور کیٹیگری  ڈی (بیٹری سوئاپنگ اور بیٹری چارجنگ اسٹیشنز) کے لیے محدود معاونت فراہم کرتا ہے، جس سے نجی سرمایہ کاری محدود ہو سکتی ہے اور تجارتی طور پر اہم اور زیادہ طلب والے مقامات پر چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع سست پڑ سکتی ہے۔

اہم سفارشات:

  • چارجرز کے لیے کیٹیگری  سی  اور ڈی میں سبسڈی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
  • ایک مقررہ مدت پر مبنی رول آؤٹ پلان تیار کیا جائے جس میں قابل پیمائش اہداف ہوں اور ریاستوں سمیت دیگر اداروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی قائم کی جائے۔

ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی اپ گریڈیشن: سرٹیفکیشن میں رکاوٹوں سے بچاؤ

تقریباً 622.45 کروڑ روپے مالیت کے ٹینڈرز چار قومی ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی اپ گریڈیشن کے لیے جاری کیے گئے ہیں، جن میں آٹوموٹییو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی)، پونے؛ انٹرنیشنل سینٹر فار آٹوموٹییو ٹیکنالوجی (آئی سی اے ٹی)، منیسار؛ گلوبل آٹوموٹییو ریسرچ سینٹر (جی اے آر سی)، چنئی اور نیشنل آٹوموٹییو ٹسٹ ٹریکس ( این اے ٹی آر اے ایکس-ناٹریکس)، اندور شامل ہیں۔ تاہم اب تک بجٹ کا کوئی استعمال نہیں ہوا۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

وزارت اس بات کو یقینی بنائے کہ خریداری کا عمل تیزی سے مکمل ہو اور اپ گریڈیشن کے کام جلد شروع ہوں تاکہ ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر الیکٹرک وہیکل ایکو سسٹم کی توسیع کے ساتھ ہم آہنگ رہے اور سرٹیفکیشن و منظوری کے عمل میں رکاوٹ نہ بنے۔

زیر التوا او ای ایم دعوے: مراعات کی ادائیگی میں تیزی

مورخہ 31 جنوری 2026 تک 2,32,588 برقی گاڑیوں کے دعوے اصل سازوسامان بنانے والی کمپنیوں (او ای ایمز) کو ری ایمبرسمنٹ کے لیے زیر عمل ہیں، جن میں زیادہ ترای-2ڈبلیو سیکشن سے متعلق ہیں۔ تاخیر کی وجوہات میں بعض ریاستی گاڑی رجسٹریشن پورٹلز کا نیشنل وہیکل رجسٹریشن پورٹل(وی اے ایط اے این-واہن) سے عدم انضمام اور ماسکڈ کسٹمر ڈیٹا کی دستیابی شامل ہے، جس سے تصدیق کا عمل متاثر ہوا۔

اہم سفارشات:

  • تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ایک مضبوط اور مکمل طور پر مربوط ڈجیٹل ویریفکیشن نظام قائم کیا جائے تاکہ گاڑی رجسٹریشن ڈیٹا کی حقیقی وقت میں تصدیق ممکن ہو۔
  • ایک وقت مقررہ فریم ورک بنایا جائے جس کے تحت اہل دعوؤں کی ادائیگی تیزی سے کی جائے، تاکہ او ای ایمز کو ورکنگ کیپیٹل کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

برقی چار پہیہ گاڑیوں کے لیے صارفین کو سبسڈی کا تعارف

کمیٹی نے تشویش ظاہر کی کہ پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم میں برقی چار پہیہ گاڑیاں(ای-4ڈبلیوز) شامل نہیں ہیں، حالانکہ ان کی ابتدائی قیمت اندرونی دہن انجن (آئی سی ای) گاڑیوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے، جو صارفین کے لیے رکاوٹ بنتی ہے۔

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم کے تحت مینوفیکچرنگ سے منسلک مراعات موجود ہیں، لیکن یہ براہِ راست صارفین کے لیے قابلِ برداشت قیمت کے فرق کو کم نہیں کرتیں۔ صارف مرکوز سبسڈی نہ ہونے کی صورت میں خاص طور پر متوسط طبقے اور نجی خریداروں میں برقی چار پہیہ گاڑیوں کی منتقلی سست رہ سکتی ہے۔

اہم سفارشات:

  • پی ایم ای-ڈرائیو کے تحت یا کسی علیحدہ ذیلی اسکیم کے ذریعے برقی چار پہیہ گاڑیوں کے لیے ہدفی اور وقت محدود صارف مراعات فوری طور پر متعارف کرائی جائیں۔
  • مراعات کو بیٹری کی گنجائش، گاڑی کی کارکردگی اور قیمت کی حد سے منسلک ایک متوازن ڈھانچے میں رکھا جائے تاکہ مالی نظم برقرار رہے اور لاگت کا فرق مؤثر طور پر کم ہو سکے۔
  • وقتا فوقتاً اثرات کا جائزہ لیا جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا پی ایل آئی مراعات حقیقی طور پر ریٹیل قیمتوں میں کمی اور صارفین کی رسائی بہتر بنا رہی ہیں یا نہیں۔

آٹوموٹییو برآمدات: عالمی مسابقت کی حکمت عملی

بھارت عالمی سطح پر تھری وہیلرز میں پہلے، ٹو وہیلرز میں دوسرے، مسافر گاڑیوں میں چوتھے اور کمرشل گاڑیوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔ آٹوموٹییو سیکٹر معیشت میں تقریباً 240 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 20 لاکھ کروڑ روپے) کا حصہ ڈالتا ہے، جو بھارت کی جی ڈی پی کا تقریباً  سات اعشاریہ ایک  فیصد اور مینوفیکچرنگ جی ڈی پی کا تقریباً 49 فیصد ہے۔

اہم سفارشات:

ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن، عالمی معیار کے ساتھ ہم آہنگی اور بہتر مارکیٹ رسائی کے ذریعے خاص طور پر مسافر اور کمرشل گاڑیوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک جامع اور  منظم حکمت عملی اپنائی جائے۔ مسلسل پالیسی معاونت کے ذریعے بھارت کو برقی گاڑیوں کی عالمی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کا مرکز بنانے کی سمت پیش رفت کی جائے۔

پی ایم ای بس سروس — پیمنٹ سکیورٹی میکانزم: مالی تحفظ کو یقینی بنانا

پی ایم ای-بس سیوا — پیمنٹ سکیورٹی میکانزم (پی ایس ایم) کا مجموعی تخمینہ 3,435.33 کروڑ روپے ہے، جس کا مقصد 38,000 یا اس سے زیادہ برقی بسوں کے لیے 12 سال تک ادائیگی کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔ تاہم مالی سال 2026-27 کے  بی ای میں اس کے لیے صرف 12 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور کوئی نیا کیپیٹل پروویژن شامل نہیں کیا گیا، جبکہ بڑے پیمانے پر تعیناتی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

یقینی بنانا کہ منظور شدہ ٹینڈرز وقت مقررہ کے اندر فعال ہوں۔حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام منظور شدہ ٹینڈرز کی عملی شروعات وقت کی پابندی کے ساتھ ہو اور اس بات کی قریبی نگرانی کی جائے کہ دیے گئے معاہدے حقیقی تعیناتی  میں تبدیل ہو رہے ہیں یا نہیں۔

پیمنٹ سکیورٹی میکانزم (پی ایس ایم) کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کی ادائیگی کی کارکردگی، پی ایس ایم کے نفاذ کے واقعات اور مجموعی مالی خطرات کو مسلسل ٹریک کیا جائے اور وقتاً فوقتاً اس نظام کی مناسبیت اور پائیداری کا جائزہ لیا جائے۔

الیکٹرک پیسنجر کارز کی مینوفیکچرنگ کے فروغ کی اسکیم ( ایس پی ایم ای پی سی آئی): جامع نظرثانی کی ضرورت

 ہندوستان میں الیکٹرک پیسنجر کارز کی مینوفیکچرنگ کے فروغ کی اسکیم (ایس پی ایم ای پی سی آئی) کے تحت کم از کم 4,150 کروڑ روپے (500 ملین امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری اور درآمدات پر رعایتی کسٹمز ڈیوٹی کی پیشکش کے باوجود ، 21 اکتوبر 2025 کی آخری تاریخ تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

وزارت اس اسکیم کا عالمی اور ملکی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع جائزہ لے تاکہ سرمایہ کاری کی حد، ویلیو ایڈیشن کے وقت کے تقاضے یا ترغیبی ڈھانچے کو دوبارہ متوازن کیا جا سکے، جبکہ ملکی مینوفیکچرنگ اور درآمداتی انحصار میں کمی کے بنیادی مقاصد برقرار رہیں۔

آٹوموبائل اور آٹو کمپوننٹس کے لیے پی ایل آئی اسکیم: کارکردگی کے خلا کو پُر کرنا

اس اسکیم کا مجموعی تخمینہ 25,938 کروڑ روپے ہے، جس میں سے مالی سال 2026-27 کے لیے 5,939.87 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو وزارت کے مجموعی مطالبات کا تقریباً 74.8 فیصد ہے۔مورخہ31 دسمبر 2025 تک مجموعی سرمایہ کاری 39,081 کروڑ روپے رہی (پانچ سالہ ہدف 42,500 کروڑ روپے کے مقابلے میں)، جبکہ اضافی فروخت 41,121 کروڑ روپے رہی (ہدف 2,31,500 کروڑ روپے کے مقابلے میں)۔ روزگار کی تخلیق 61,241 افراد تک پہنچی (ہدف 1,48,147 کے مقابلے میں)۔ اب تک مجموعی طور پر 2,378 کروڑ روپے کی مراعات جاری کی گئی ہیں، جو مجموعی تخمینہ کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔

اہم سفارشات:

  • محتاط اور مرحلہ وار (پی ای) بجٹنگ اپنائی جائے جس میں سہ ماہی بنیادوں پر اخراجاتی منصوبے اور تصدیق شدہ دعووں سے ربط ہو، تاکہ بی ای-آر ای میں بار بار کمی بیشی سے بچا جا سکے۔
  • ایک اعلیٰ سطحی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے جو ماہانہ بنیادوں پر پیش رفت، پیداواری صلاحیت، فروخت میں اضافہ اور ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن (ڈی وی اے) کی نگرانی کرے۔
  • ایسے او ای ایم اہلیت معیار کا جائزہ لیا جائے جو ملکی اسٹارٹ اپس کو باہر رکھ سکتے ہیں اور ضرورت کے مطابق متوازن نرمی کی جائے۔
  • غیر استعمال شدہ فنڈز کو مؤثر شعبوں یا متعلقہ اسکیموں میں منتقل کرنے کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کیے جائیں۔

پی ایل آئی برائے اے سی سی بیٹری اسٹوریج: فوری اصلاحات کی ضرورت

ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل(اے سی سی) بیٹری اسٹوریج اسکیم کا مجموعی تخمینہ 18,100 کروڑ روپے ہے، جس کا ہدف جی ڈبلیو ایچ50 مینوفیکچرنگ صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ تاہم اب تک صرف جی ایچ ڈبلیو ایچ 40 منظور کیا گیا ہے، جبکہ صرف جی ڈبلیو ایچ 1 فعال  ہوا ہے اور باقی 39جی ڈبلیو ایچ  زیر تکمیل ہے۔ اہلیت کی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے اب تک کوئی مراعات جاری نہیں ہو سکیں۔کمیٹی نے منظور شدہ سبسڈی اور عملی اخراجات کے درمیان بڑے خلا پر شدید تشویش ظاہر کی۔

اہم سفارشات:

* ہر فائدہ اٹھانے والے کا 3 ماہ کے اندر جامع جائزہ لیا جائےاور صرف قابلِ تصدیق وجوہات کی صورت میں مشروط توسیع دی جائے، جبکہ ناکام منصوبوں کی صلاحیت دوبارہ تقسیم کی جائے۔

*بی ای   2026-27 کی مختص رقم کو منظور شدہ سبسڈی پاتھ سے ہم آہنگ کیا جائے اور سہ ماہی نگرانی اور آزاد آڈٹ کیا جائے۔

* ابتدائی  برسوں میں ڈی وی اے معیار کو عملی طور پر متوازن کیا جائے، اس کی تعریف میں آراینڈ ڈی اور سافٹ ویئر کو شامل کیا جائے، اور مقامی ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جائے۔

* ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کو کلسٹر بیسڈ انکیوبیشن، سبسڈی والی ٹیسٹنگ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے شامل کیا جائے، اور  ہندوستانی  حالات کے مطابق لیتھیم آئرن فاسفیٹ(ایل ایف پی) اور سوڈیم -آئرن جیسی ٹیکنالوجیز کو ترجیح دی جائے۔

اہم معدنیات اور سپلائی چین کی مضبوطی: چین پر انحصار کم کرنا

کمیٹی نے ہندوستان کے نایاب زمینی عناصر اور اہم معدنیات پر شدید انحصار  سے تشویش ظاہر کی، جو زیادہ تر درآمد کیے جاتے ہیں اور عالمی سطح پر چند ممالک، خاص طور پر عوامی جمہوریہ چین کے زیراثر ہیں۔ حالیہ چینی برآمدی پابندیوں نے سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں، جس سے بھارتی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں، خاص طور پر ای وی مینوفیکچررز۔کمیٹی نے کہا کہ بیٹریاں برقی گاڑی کی سب سے بڑی لاگت کا حصہ ہیں، اس لیے مقامی اے سی سی مینوفیکچرنگ توانائی تحفظ، قیمتوں میں کمی اور برآمدی مسابقت کے لیے ناگزیر ہے۔

اہم سفارشات:

  • وسائل سے مالا مال ممالک کے ساتھ سفارتی و تجارتی روابط مضبوط کیے جائیں اور آف ٹیک معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں کو تیزی سے فعال کیا جائے۔
  • قومی مشنوں کے تحت مقامی ایکسپلوریشن، پروسیسنگ، ریفائننگ اور ری سائیکلنگ کو تیز کیا جائے۔
  • آر اینڈ ڈی میں سرمایہ کاری کے ذریعے متبادل ٹیکنالوجیز‘ ریئیر-ارتھ – فری موٹرز’ اور نئی بیٹری کیمسٹریز کو فروغ دیا جائے۔
  • اے سی سی کلسٹرز کے قریب ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کے لیے انکیوبیشن مراکز اور سستی ٹیسٹنگ سہولیات قائم کی جائیں تاکہ وہ بیٹری ایکو سسٹم میں شامل ہو سکیں۔

کیپیٹل گڈز سیکٹر: درآمدی انحصار اور ٹیکنالوجی کے خلا کا حل

کیپیٹل گڈز سیکٹر بھارت کی جی ڈی پی کا تقریباً 1.9 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور “میک اِن انڈیا” اور “آتم نربھر بھارت” جیسے اہداف کے حصول میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مشین ٹولز، ٹیکسٹائل مشینری اور فوڈ پروسیسنگ مشینری میں درآمد اور پیداوار کے درمیان تناسب خاص طور پر منفی ہے۔ مجموعی طور پر کیپیٹل گڈز سیکٹر میں درآمد سے پیداوار کا تناسب تقریباً 41.1 فیصد ہے، اگرچہ یہ 2022-23 کے 53.9 فیصد سے کم ہوا ہے۔مالی سال 2026-27 میں “انڈین کیپیٹل گڈز سیکٹر کی مسابقت بڑھانے کی اسکیم” کے لیے بجٹ مختص 125.36 کروڑ روپے ہے، جو وزارت کے مجموعی بجٹ کا محض 1.58 فیصد ہے۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

  • مصنوعات کی سطح پر تفصیلی تجزیہ کیا جائے تاکہ درآمدی انحصار کی نشاندہی ہو سکے، اور 20 سے 30 اہم مصنوعات کی فہرست بنا کر مرحلہ وار مقامی پیداوار کا روڈ میپ تیار کیا جائے جس میں درآمد میں کمی اور برآمدات کے واضح اہداف ہوں۔
  • کوالٹی کنٹرول آرڈرز کے نفاذ کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پرانی اور غیر معیاری مشینری کی درآمد روکی جا سکے اور درآمدی ڈھانچے میں موجود عدم توازن (آئی ڈی ایس) کو درست کیا جائے جو مقامی صنعت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
  • سرکاری خریداری کی پالیسیوں میں واضح طور پر مقامی طور پر تیار شدہ کیپیٹل گڈز کو ترجیح دی جائے، بشرطیکہ وہ معیار اور لوکلائزیشن کے تقاضے پورے کرتے ہوں۔
  • حکومت کیپیٹل گڈز سیکٹر کو سرمایہ کاری پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی کا بنیادی ستون قرار دے اور اعلیٰ اثر والی مداخلتوں کے لیے وسائل میں بتدریج اضافہ کرے۔

کنسٹرکشن اور انفراسٹرکچر آلات کے لیے نئی اسکیم (سی آئی ای): وقت کی پابندی کے ساتھ نفاذ

کنسٹرکشن اینڈ انفراسٹرکچر ایکوئپمنٹ (سی آئی ای) کے فروغ کے لیے نئی اسکیم، جس کا مجموعی مالی تخمینہ 14,300 کروڑ روپے ہے (سات سالہ مدت)، یونین بجٹ 2026-27 میں 200 کروڑ روپے کی ابتدائی فراہمی کے ساتھ اعلان کی گئی ہے۔ گھریلو سی آئی ای مارکیٹ کی مالیت تقریباً 1.03 لاکھ کروڑ روپے ہے اور یہ بھی نمایاں درآمدی انحصار کا شکار ہے۔ یہ اسکیم نئی سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات کے فروغ میں کردار ادا کرنے کی توقع رکھتی ہے۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

  • اسکیم کو مقررہ مدت میں فعال کیا جائے، واضح اہلیت کے معیار، مسابقتی انتخاب اور سخت ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن شرائط کے ساتھ۔
  • ہر سال اسکیم کی پیش رفت رپورٹ شائع کی جائے جس میں سرمایہ کاری، مقامی ویلیو ایڈیشن، درآمدی کمی اور برآمدی کارکردگی شامل ہو تاکہ پارلیمانی نگرانی مؤثر ہو سکے۔

کیپیٹل گڈز اسکیم فیز II: ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن میں تیزی

فیز II کے تحت 29 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جن کے لیے حکومت کا حصہ تقریباً 715 کروڑ روپے ہے۔ اس اسکیم کے نتیجے میں 100 سے زائد جدید ٹیکنالوجیز تیار ہوئی ہیں، آمدنی پیدا ہوئی ہے اور پیٹنٹس و دانشورانہ املاک میں اضافہ ہوا ہے۔

اہم سفارشات:

  • ہر سینٹر آف ایکسی لینس (سی او ای) اور ایکسیلیریٹر پروجیکٹ کے لیے واضح کمرشلائزیشن اور مقامی ویلیو ایڈیشن اہداف مقرر کیے جائیں۔
  • ایم ایس ایم ایز اور صنعتی کلسٹرز کے ساتھ کام کے لیے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور معاونت کے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں۔
  • اسکیم فنڈنگ کا ایک حصہ لازمی طور پر قابلِ پیمائش نتائج سے منسلک کیا جائے جیسے لائسنس شدہ ٹیکنالوجی، پائلٹ پروڈکشن اور درآمدی انحصار میں کمی۔
  • ہر سہ ماہی ایک مضبوط نگرانی کا نظام قائم کیا جائے جس میں منصوبہ وار مالی و جسمانی پیش رفت شامل ہو۔

سی پی ایس ایز کی کارکردگی: بحالی اور بہتری کی سمت

وزارت کے تحت 16 فعال سی پی ایس ایز میں سے 11 منافع میں ہیں جبکہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی تعداد کم ہو کر 5 رہ گئی ہے۔ کمیٹی نے خاص طور پر ہیوی انجینئرنگ کارپوریشن لمٹیڈ(ایچ ای سی)) اور انجینئرنگ پروجیکٹ انڈیا لمٹید(ای پی آئی ایل) کی بحالی کی کوششوں کو سراہا۔

اہم سفارشات:

  • آپریشنل اصلاحات، مالی نظم و ضبط، ورکنگ کیپیٹل کی بروقت فراہمی اور کاروباری تنوع کے ذریعے بہتری کو مستحکم کیا جائے۔
  • ہر خسارے میں چلنے والے سی پی ایس ای کے لیے الگ بحالی یا بندش کا تفصیلی منصوبہ بنایا جائے، جس میں بنیادی مسائل کی نشاندہی اور واضح حکمت عملی شامل ہو (ٹران راؤنڈ اسٹریٹجک فروخت، بندش یا اثاثہ جاتی مونیٹائزیشن)۔
  • بحال شدہ سی پی ایس ایز کو دوبارہ خسارے میں جانے سے بچانے کے لیے باقاعدہ کارکردگی جائزہ اور رسک اسیسمنٹ نظام قائم کیا جائے۔

ایچ ایم ٹی مشین ٹولز لمیٹڈ (ایچ ایم ٹی  ایم ٹی ایل) کی بحالی: صنعتی خود انحصاری کے لیے اسٹریٹجک ضرورت

کمیٹی نے اپنے اسٹڈی وزٹ اور کمپنی انتظامیہ کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد یہ مشاہدہ کیا کہ ایچ ایم ٹی مشین ٹولز لمیٹڈ(ایچ ایم ٹی ایم ٹی ایل) کی بحالی بھارت کی اسٹریٹجک صنعتی سلامتی، مشین ٹولز میں خود انحصاری اور دفاع و خلائی شعبوں کی معاونت کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ کمپنی 1953 میں بھارت کی پہلی‘مدر آف مشین ٹولز’ کے طور پر قائم ہوئی تھی اور اس نے بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو)، بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (بی اے آر سی)، بھارتی ریلوے، مسلح افواج اور دیگر اسٹریٹجک اداروں کو اعلیٰ درستگی والی اور درآمد متبادل مشینری فراہم کی ہے۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

  • ایک واضح اور مقررہ مدت پر مبنی بحالی منصوبہ فوری طور پر تیار کیا جائے، جس میں واضح اہداف، جوابدہی کے نظام اور کارکردگی سے منسلک مالی معاونت شامل ہو،  جس میں ہنگامی بنیادوں پر بلا سود قرضے اور گرانٹس شامل ہیں۔
  • ترجیحات میں تیز رفتار ٹیکنالوجی کی جدید کاری، ایک مرکزی آر اینڈ ڈی/ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ سہولت کا قیام، مرحلہ وار افرادی قوت کی تجدید، اضافی اثاثوں کی منظم فروخت، اور دفاع، ریلوے اور پی ایس یوز سے یقینی خریداری آرڈرز کے ذریعے طلب کا استحکام شامل ہو۔
  • ہر سہ ماہی سخت نگرانی اور شفاف رپورٹنگ کا نظام قائم کیا جائے۔

اینڈریو یول اینڈ کمپنی لمیٹڈ (اے وائی سی ایل): ادارہ جاتی خریداری کی معاونت

کمیٹی نے کولکاتا کے اسٹڈی وزٹ کے بعد نوٹ کیا کہ اے وائی سی ایل قومی چائے کی پیداوار میں حصہ ڈالتی ہے اور آسام اور مغربی بنگال میں بڑی تعداد میں ملازمین کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ تاہم پلانٹیشن لیبر ایکٹ کے تحت ساختی مسائل، چھوٹے چائے پیدا کرنے والوں سے مقابلہ، اور اندرونی مالی وسائل کی کمی کے باعث چائے ڈویژن مسلسل خسارے کا شکار ہے۔

اہم سفارشات:

  • وزارتِ محنت و روزگار کے ساتھ مل کر پلانٹیشن لیبر ایکٹ کا جامع جائزہ لیا جائے تاکہ مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ لیبر قوانین میں زیادہ لچک پیدا کی جا سکے۔
  • سرکاری دفاتر،پی ایس یوز، دفاعی اداروں، ریلوے اور دیگر حکومتی اداروں میں اینڈریو یول کی چائے کی خریداری اور سپلائی کے لیے فعال ادارہ جاتی اقدامات کیے جائیں، جیسا کہ دیگر سی پی ایس ایز کو دی جانے والی ترجیحی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

سیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی): جدید کاری اور قرض میں کمی

سیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی) منافع میں واپس آ چکی ہے، تاہم اسے نجی بڑے اداروں سے شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ اصل داخلی اور اضافی بجٹ وسائل (آئی ای بی آر) کا استعمال بجٹ تخمینوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہا ہے۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

جدید کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے ایک وقت مقررہ ایکشن پلان بنایا جائے جس میں سہ ماہی اہداف شامل ہوں۔ سی سی آئی کو درمیانی مدت کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے جس میں بہتر نقدی بہاؤ، صلاحیت کے بہتر استعمال، توانائی کی بچت اور مرحلہ وار اثاثہ جاتی مونیٹائزیشن کے ذریعے قرض میں کمی شامل ہو۔

سی پی ایس ایز اورسی ایم ٹی آئی کے لیے بجٹ معاونت

مالی سال 2026-27 میں‘سپورٹ ٹو سینٹرل پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (سی پی ایس ایز)’ کے تحت مختص رقم نہایت کم ہو کر 2.23 کروڑ روپے رہ گئی ہے، جو کہ نظرثانی شدہ تخمینوں (آرای 2025-26) میں 3.21 کروڑ روپے تھی۔ متعدد سی پی ایس ایز اب بھی مالی دباؤ، پرانی واجبات اور زیر التوا قانونی ادائیگیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

سینٹرل مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (سی ایم ٹی آئی)، بنگلورو کے لیے 2026-27 میں 22.04 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مکمل طور پر ریونییو اخراجات پر مشتمل ہیں اور اس میں کوئی کیپیٹل پروویژن شامل نہیں۔

کمیٹی کی اہم سفارشات:

* سی پی ایس ایز کی مالی اور تنظیم نو کی ضروریات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے اور بجٹ معاونت کو ان کی بحالی اور واجبات کی ذمہ داریوں کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ کیا جائے۔ مضبوط مالی حیثیت رکھنے والے سی پی ایس ایز (جیسے بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ – بھیل) کو اپنی جدید کاری بنیادی طور پر اندرونی وسائل سے کرنی چاہیے، جبکہ مالی طور پر کمزور مگر اسٹریٹجک طور پر اہم سی پی ایس ایز کے لیے بجٹ معاونت کو ترجیح دی جائے۔

* سی ایم ٹی آئی کے لیے مختص اضافی رقم کو قابلِ پیمائش آر اینڈ ڈی نتائج، صنعت کے ساتھ مضبوط روابط اور مؤثر ٹیکنالوجی ٹرانسفر میں تبدیل کیا جائے۔سی ایم ٹی آئی کے لیے لیبارٹریز، ٹیسٹنگ سہولیات اور جدید مینوفیکچرنگ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے علیحدہ کیپیٹل سپورٹ کی ضرورت کا جائزہ لیا جائے۔

اختتامی مشاہدات

کمیٹی کی رپورٹ میں متعدد جامع سفارشات شامل ہیں جن کا مقصد وزارت کی فلیگ شپ اسکیموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا، مالی نظم و ضبط کو مضبوط کرنا، بھارت کی برقی نقل و حرکت کی طرف منتقلی کو تیز کرنا، کیپیٹل گڈز میں مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا، اہم معدنیات کی سپلائی چین کو محفوظ بنانا، اور سی پی ایز کی بحالی و طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔ کمیٹی نے حقیقت پسندانہ بجٹنگ، نتائج پر مبنی نگرانی، وقت مقررہ نفاذ اور پارلیمنٹ کو شفاف رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

نوٹ: رپورٹ کا مکمل متن راجیہ سبھا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے:

[https://sansad.in/rs](https://sansad.in/rs) Committees Department-related Standing Committees Industry Reports

 

********

 

 

ش ح- ظ الف-  ن م

UR- 8099

                          


(रिलीज़ आईडी: 2270217) आगंतुक पटल : 22
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी