سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب ڈاکٹر وریندر کمار نے نئی دہلی میں مخنث افراد کے لیے قومی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی، اس موقع پر وزیر مملکت جناب رامداس اٹھاولے اور جناب بی ایل ورما بھی موجود تھے


قومی کونسل برائے مخنث افراد کا اجلاس سماجی انصاف اور  تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر کی صدارت میں منعقد ہوا

प्रविष्टि तिथि: 03 JUN 2026 8:44PM by PIB Delhi

قومی کونسل برائے مخنث افراد (این سی ٹی پی) کا اجلاس آج، 3 جون 2026 کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات جناب ڈاکٹر وریندر کمار کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیر مملکت برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات جناب رامداس اٹھاولے اور وزیر مملکت برائے سماجی و تفویض اختیارات جناب بی ایل ورما نے کی۔ اجلاس میں کونسل کے نامزد اراکین نے بھرپور شرکت کی۔

قومی کونسل برائے مخنث افراد حکومت کو پالیسیوں، پروگراموں اور اقدامات کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنے والا اعلیٰ مشاورتی ادارہ ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں مخنث افراد کے حقوق کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔

کونسل کو ایس ایم آئی ایل ای (مخنث) اسکیم کے تحت کیے جانے والے مختلف اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جو مخنث افراد کی فلاح، بااختیاری اور سماجی شمولیت کے لیے جاری ہیں۔ کونسل کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں23 گریما گرہ، 26 مخنث افراد کے  تحفظ سیل اور30 مخنث افراد کی فلاحی بورڈز سرگرم  طور پر کام کر رہے ہیں۔

کونسل کو مزید آگاہ کیا گیا کہ قومی ادارہ برائے سماجی دفاع (این آئی ایس ڈی) کے ذریعے ہنرمندی اور استعداد کار میں اضافے کے پروگراموں سے 49 ہزار سے زائد مخنث  افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ گریما گرہ کے ذریعے821 مخنث افراد کو باعزت روزگار حاصل ہوا ہے، جبکہ کاروباری ترقی کے ایک پروگرام کے تحت 1,800 مخنث  افراد کو تربیت دینے کا منصوبہ جاری ہے۔

اجلاس میں فلاح و بہبود اور روزگار کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں آگاہی میں اضافہ، معاشی خود کفالت کا فروغ، مالی شمولیت کو مضبوط بنانا، بنیادی خدمات تک رسائی بہتر کرنا اور مؤثر شکایت کے ازالہ کے لیے نظام کو یقینی بنانا شامل تھا۔

کونسل کے اراکین نے صحت، تعلیم، رہائش، روزگار کے مواقع، سماجی تحفظ اور امتیازی سلوک سے تحفظ جیسے امور پر اہم تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ سرکاری اداروں، خدمات فراہم کرنے والوں، آجروں، تعلیمی اداروں اور عام عوام میں آگاہی اور حساسیت بڑھانے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

کونسل کے اراکین نے وزارت کی جانب سے مخنث افراد کی بااختیاری اور فلاح و بہبود کے لیے کیے جا رہے مختلف اقدامات کو سراہا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات جناب ڈاکٹر وریندر کمار نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت مخنث افراد کے لیے وقار، مساوات، سماجی انصاف اور جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں، مالیاتی اداروں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے درمیان مربوط اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں تاکہ  مخنث  افراد کو تعلیم، صحت، رہائش، ہنرمندی کی تربیت، روزگار کے مواقع، سماجی تحفظ اور پائیدار روزگار تک بہتر رسائی فراہم کی جا سکے۔

مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات جناب ڈاکٹر وریندر کمار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کی حساسیت میں اضافہ ضروری ہے اور ریاستی و ضلع کی سطح پر قائم مخنث افراد کے تحفظ سیل سمیت ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ مخنث افراد کے لیے ایک معاون اور سازگار ماحول یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کونسل کے اراکین کی فعال شرکت اور تعمیری تجاویز کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مخنث برادری اور تمام فریقین کے ساتھ قریبی اشتراک کے ذریعے ان کی فلاح و بہبود، بااختیاری اور سماجی شمولیت کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی۔

معزز وزیر مملکت برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات جناب رامداس اٹھاولے نے تجویز دی کہ مستقبل میں ایک خصوصی سروے کرایا جا سکتا ہے تاکہ مزید جامع اور تفصیلی ڈیٹا حاصل ہو سکے، جس کی بنیاد پر شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور ہدفی فلاحی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

اجلاس کا اختتام اس تجدید عزم کے ساتھ ہوا کہ مخنث افراد کی بااختیاری، فلاح و بہبود اور انہیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کی مربوط اور اجتماعی کاوشیں ناگزیر ہیں تاکہ ملک بھر میں مخنث افراد کے لیے وقار، مساوی مواقع اور جامع ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

***

ش ح۔ ت ف۔ش ت

U.NO-7960


(रिलीज़ आईडी: 2268759) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी