کیمیکل اور پٹرو کیمیکل کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت میں حیاتیاتی معیشت  اور بائیو بیسڈ ایگری ان پٹ سیکٹر کے شعبے میں عالمی لیڈر کے طور پر ابھرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے: جناب تیج ویر سنگھ ، سکریٹری ، ڈی سی پی سی


‘‘بھارت ‘وکست بھارت 2047’ کے وژن اور ایک مضبوط حیاتیاتی معیشت کی جانب تیزی سے گامزن ہے’’

حیاتیاتی کیڑے مار ادویات، نمو بخش محرکات اور حیاتیاتی کھادوں پر منعقدہ بی آئی او پی ایس ایف2026 نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا

प्रविष्टि तिथि: 02 JUN 2026 8:57PM by PIB Delhi

بھارت اپنے مضبوط سائنسی ڈھانچے، بے پناہ حیاتیاتی تنوع اور تیزی سے فروغ پاتے نوآفرین اداروں کے نظام کی بدولت حیاتیاتی معیشت اور حیاتیاتی بنیادوں پر تیار ہونے والے زرعی معاونات کے شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بات وزارتِ کیمیا و کھاد کے تحت محکمۂ کیمیا و پیٹروکیمیکل(ڈی سی پی سی ) کے سکریٹری جناب تیج ویر سنگھ نے آج نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ سمپوزیم مع ورکشاپ بی آئی او پی ایس ایف2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بی آئی او پی ایس ایف 2026 کا انعقاد ’’اگلی نسل کے حیاتیاتی زرعی معاونات: حیاتیاتی کیڑے مار ادویات، افزائشِ نمو کے محرکات اور حیاتیاتی کھادیں‘‘ کے موضوع پر کیا گیا۔ اس دو روزہ پروگرام کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پیسٹائڈ فارمولیشن ٹیکنالوجی (آئی پی ایف ٹی) گروگرام نے کیا تھاْجو کیمیکلز اور کھادوں کی وزارت کے ڈی سی پی سی کے تحت ایک خود مختار ادارہ ہے ۔ یہ تقریب قومی زرعی سائنسی مرکز(این اے ایس سی) ، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔

جناب تیج ویر سنگھ نے کہا کہ پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے بڑھتی ہوئی حکومتی سرپرستی اور حیاتیاتی معیشت کے لیے مخصوص اقدامات سمیت متعدد سازگار عوامل بھارت کو حیاتیاتی معیشت اور حیاتیاتی بنیادوں پر تیار ہونے والے زرعی معاونات کے شعبے میں عالمی رہنما بنانے کی راہ ہموار کریں گے۔

محکمۂ کیمیا و پیٹروکیمیکل کے سکریٹری نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ سائنسی برتری، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک اور ابھرتے ہوئے نوجوان موجدین کی تکنیکی خدمات مستقبل کے پائیدار زرعی حل کی تشکیل میں اہم رول  ادا کریں گی۔

حیاتیاتی کیڑے مار ادویات کی عملی افادیت اور کامیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب تیج ویر سنگھ نے زور دیا کہ ان ادویات کی حقیقی کامیابی کا انحصار ایسے مضبوط اور مؤثر  فارمولیشن ٹیکنالوجیز کی ترقی پر بھی ہے جو مصنوعات کے استحکام، کھیتوں کی پیدا وار بڑھانے ، استعمال میں آسانی اور کسانوں کی مجموعی قبولیت کو بہتر بنا سکیں۔

اس کے علاوہ محکمۂ کیمیا و پیٹروکیمیکل کے سکریٹری نے کہا کہ ‘‘وکست بھارت 2047’’ کے وژن اور ایک مضبوط حیاتیاتی معیشت کی جانب پیش رفت کے ساتھ ساتھ اس بات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے کہ مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا جائے، تحقیقی نتائج کو عملی استعمال میں لانے والی تحقیق کو فروغ دیا جائے اور حیاتیاتی بنیادوں پر تیار کی جانے والی کیمیائی مصنوعات، فصلوں کے تحفظ کی ٹیکنالوجیوں اور پائیدار زرعی معاونات کے شعبوں میں نوآفرین اداروں کی قیادت میں جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

اس دو روزہ پروگرام کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پیسٹائڈ فارمولیشن ٹیکنالوجی (آئی پی ایف ٹی)  کے 36ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کے سلسلے میں منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں پالیسی سازوں، سائنس دانوں، صنعتی شعبے کے نمائندوں، نگراںو ضابطہ ساز اداروں، ماہرینِ تعلیم، کاروباری شخصیات، نوآفرین اداروں، طلبہ اور محققین نے شرکت کی۔اس تقریب نے حیاتیاتی بنیادوں پر تیار ہونے والے زرعی معاونات کے شعبے میں حالیہ پیش رفت اور پائیدار زراعت کے فروغ میں ان کے کردار پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ۔

 

***

ش ح۔ت ف۔ش ت

 U: 7892


(रिलीज़ आईडी: 2268231) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी