کامرس اور صنعت کی وزارتہ
تجارت و صنعت کے وزیر پیوش گوئل کی برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسلوں اور صنعتی اداروں سے عالمی بازاروں میں اپنی رسائی میں اضافہ کرنے کے لیے ایف ٹی ایزسے استفادہ کرنے کی اپیل
صنعت کو اب نئے بازاروں تک رسائی حاصل کرنے، معیار کو بہتر بنانے اور زیادہ مسابقتی بننے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنی چاہئیں: جناب گوئل
प्रविष्टि तिथि:
11 FEB 2026 10:31PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے برآمد کاروں اور صنعتی اداروں سے زور دے کر کہا ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کیے گئے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عمل کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے اور اشیاء و خدمات کی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیرِ موصوف نے بھارت کے بڑے برآمداتی شعبوں کی نمائندگی کرنے والی 35 ایکسپورٹ پروموشن کونسلوں (ای پی سی) اور اہم صنعتی تنظیموں کے ساتھ ملاقات کی۔ وزیرِ موصوف کے ساتھ اس بات چیت کے دوران صنعتی رہنماؤں اور تنظیموں کے عہدیداروں نے حکومت کی جانب سے تجارت کو فروغ دینے کے اقدامات کی ستائش کی۔
جناب گوئل نے کہا کہ مودی حکومت نے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے اس لیے کیے ہیں تاکہ بھارت کے کسانوں، مزدوروں، پیشہ ور افراد، کاریگروں اور ایم ایس ایم ایز کو ترجیحی رسائی کے ساتھ عالمی بازار سے استفادہ کرنے میں مدد مل سکے۔ ان تجارتی معاہدوں سے جہاں بھارت کے روایتی طریقۂ علاج اور یوگ کو بھی عالمی مواقع ملیں گے،وہیں بھارت کے زراعت اور ڈیری کےشعبوں کے مفادات کا بھی تحفظ کیا گیا ہے۔
ایکسپورٹ پروموشن کونسلوں اور صنعتی اداروں کے ساتھ ایک میٹنگ میں جناب گوئل نے کہا، ”صنعت کو اب نئے بازاروں تک رسائی حاصل کرنے، معیار کو بہتر بنانے اور تجارتی معاہدوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے مزید مسابقتی بننے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔ بھارت نے قدیم دور سے ہی بین الاقوامی تجارت میں اپنا نام پیدا کیا ہے۔ ہمارے تجارتی معاہدے ہمارے وِکست بھارت مشن کو تیز کریں گے اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے منتر’وکاس بھی، وراثت بھی‘ کو آگے بڑھائیں گے۔“
صنعتی نمائندوں نے اس فیصلہ کن قیادت کے لیے وزیرِ اعظم اور وزیر برائے تجارت و صنعت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جس کی بدولت برطانیہ، یورپی یونین اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں کو کامیابی کے ساتھ انجام تک پہنچایا گیا۔
خصوصی طور پر، امریکہ کو ہونے والی بھارتی برآمدات پر لگائے گئے اضافی 25 فیصد ٹیرف کے خاتمے کو سراہا گیا، جسے 6 فروری 2026 کے امریکی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ختم کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اس سے بھارتی برآمدات کے لیے مسابقتی مارکیٹ تک رسائی دوبارہ بحال ہو جائے گی۔ صنعت کاروں نے نوٹ کیا کہ امریکہ، بھارت کی سب سے بڑی برآمداتی منزلوں میں شامل ہے اور ٹیرف میں یہ ریلیف بھارتی برآمد کاروں کو نمایاں استحکام اور نئی مسابقت فراہم کرتا ہے۔
ان اداروں نے جو پہلے امریکی ٹیرف اقدامات سے متاثر ہوئے تھے — بشمول جواہرات و زیورات، ٹیکسٹائل اور ملبوسات، قالین، چمڑا اور جوتے، سمندری مصنوعات، دستکاری، انجینئرنگ کا سامان اور کیمیکلز — اس بات پر روشنی ڈالی کہ ٹیرف کی واپسی نے کاروباری اعتماد کو بحال کیا ہے اور مزدوروں پر مبنی شعبوں میں روزگار کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس میں شرکت کرنے والے اہم اداروں میں شامل تھے: فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (ایف آئی ای او)، جیم اینڈ جیولری ایکسپورٹ پروموشن کونسل (جی جے ای پی سی)، اپیرل ایکسپورٹ پروموشن کونسل (اے ای پی سی)، کونسل فار لیدر ایکسپورٹس (سی ایل ای)، انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا (ای ای پی سی انڈیا)، بیسک کیمیکلز، کاسمیٹکس اینڈ ڈائز ایکسپورٹ پروموشن کونسل (کیمیکسسل)، کاٹن ٹیکسٹائلز ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ٹی ای ایکس پی آر او سی آئی ایل)، مین میڈ اینڈ ٹیکنیکل ٹیکسٹائلز ایکسپورٹ پروموشن کونسل (میٹیکسیل)، دیگر بڑے ٹیکسٹائل ای پی سیز ؛ کارپٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل (سی ای پی سی)، ایکسپورٹ پروموشن کونسل فار ہینڈی کرافٹس (ای پی سی ایچ)، زرعی اور متعلقہ ادارے بشمول سی فوڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (ایس ای اے آئی)، ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ ایکسپورٹ پروڈکٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے)، شیلک اور فاریسٹ پروڈکٹس ایکسپورٹ پروموشن کونسل (شیفیکسیل)، انڈین آئل سیڈز اینڈ پروڈیوس ایکسپورٹ پروموشن کونسل (آئی او پی ای پی سی)، انڈیا ایس ایم ای فورم ؛ سورسنگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن (بی اے اے) اور اعلی صنعتی چیمبر بشمول فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی)، ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا (ایسوچیم)، نیشنل ایسوسی ایشن آف سافٹ ویئر اینڈ سروس کمپنیز (نیسکام) اور پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی)اور اس کے ساتھ ہی کئی دیگر سرکردہ شعبہ جاتی ادارے۔
وزارت نے امریکہ کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے معاہدے پر پریزنٹیشنز بھی پیش کیں، جس میں مارکیٹ تک رسائی کے مواقع، تعمیل کے فریم ورک اور برآمدات میں توسیع کے طریقوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔ صنعت نے صراحت کا خیرمقدم کیا اور ترجیحی شعبوں میں برآمدات کو بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
مذاکرات کے دوران ایکسپورٹ پروموشن مشن (ای پی ایم) کے تحت ہونے والی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو برآمد کاروں کی مدد کے لیے حکومت کا ایک اہم فریم ورک ہے۔ صنعت نے اس مشن کے تحت پہلے سے شروع کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کیا، جس میں برآمداتی کریڈٹ لون کے لیے سود میں چھوٹ کے ذریعے تجارتی مالیات تک بہتر رسائی، ایم ایس ایم ایزکو فراہم کیے جانے والے برآمداتی کریڈٹ کے لیے ضمانتی تحفظ اور مارکیٹ تک ٹارگیٹڈ رسائی کی مدد شامل ہیں۔ یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ بھارت کے برآمداتی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تجارتی مالیات، برآمداتی لاجسٹکس، برآمداتی تعمیل، برانڈنگ اور مارکیٹ کے تنوع سے متعلق اضافی اقدامات جلد ہی مرحلہ وار طریقے سے شروع کیے جا رہے ہیں۔
وزیرِ موصوف نے برآمدات کی شرحِ نمو کو تیز کرنے، عالمی انضمام کو گہرا کرنے اور بھارت کو ایک قابلِ اعتماد عالمی سپلائی پارٹنر کے طور پر قائم کرنے کے لیے نئے تجارتی معاہدوں سے استفادہ کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
*****
(ش ح ۔ک ح۔م ذ)
U. No.7869
(रिलीज़ आईडी: 2268063)
आगंतुक पटल : 6