خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت انسانی اسمگلنگ کے جرائم سمیت خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان کے تدارک کے معاملے کو انتہائی اہمیت دیتی ہے


حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے خاتمے، اس کے متاثرین کے تحفظ اور ان کی بازآبادکاری کے لیے متعدد قانون سازی اور منصوبہ  بند اقدامات کیے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 11 FEB 2026 3:06PM by PIB Delhi

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) اپنی اشاعت ’’کرائم ان انڈیا‘‘ میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم سمیت جرائم سے متعلق اعداد و شمار مرتب اور شائع کرتا ہے ، جو این سی آر بی کی ویب سائٹ https://ncrb.gov.in پر دستیاب ہے ۔  مذکورہ رپورٹ سال 2023 تک دستیاب ہے ۔  این سی آر بی کے مطابق ’’ غیراخلاقی انسانی اسمگلنگ (انسداد ) ایکٹ 1956‘‘ کے تحت  سال 2019 ، 2020 ، 2021 ، 2022 اور 2023 کے دوران درج مقدمات کی تعداد بالترتیب1639 ، 1294 ، 1678 ، 1497 اور 2166 ہے ۔

’’پولیس‘‘ اور ’’پبلک  آرڈر‘‘ بھارت کے آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت ریاستی امور میں شامل ہیں۔ قانون و نظم برقرار رکھنے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق جرائم کی تفتیش و قانونی کارروائی کی ذمہ داری، نیز متاثرین کو زبردستی جسم فروشی کے مقصد سے بہکانے یا اس میں ملوث کرنے جیسے معاملات میں مقدمات کی پیروی کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے اور وہی ان امور سے نمٹنے کی مجاز ہیں۔

حکومت ہند خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم، بشمول انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم کی روک تھام اور ان کے تدارک کے معاملے کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور انسانی اسمگلنگ کے ناسور کو روکنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ مرکزی حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے خاتمے، متاثرین کے تحفظ اور ان کی بازآبادکاری کے لیے متعدد قانونی اور منصوبہ بند اقدامات کیے ہیں۔

بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) 2023 کی دفعات 143 اور 144 انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھارت کے قانونی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ دفعات اس سے قبل تعزیراتِ ہند 1860 کی دفعات 370 اور 370A کے تحت شامل جرائم کی جگہ لے کر انہیں مزید واضح اور توسیع کرتی ہیں۔ بی این ایس کی دفعہ 143 کے مطابق، انسانی اسمگلنگ وہ عمل ہے جس کے تحت کسی شخص کو استحصال کی نیت سے بھرتی کیا جائے، منتقل کیا جائے، ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچایا جائے، پناہ دی جائے یا تحویل میں لیا جائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے جبر، دھمکی، فریب، اختیارات کے ناجائز استعمال یا دیگر جبری ذرائع اختیار کیے جائیں۔ اس دفعہ میں اسمگلنگ پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جبکہ اگر یہ جرم متعدد افراد یا بچوں کے ساتھ کیا جائے تو اس کی سزا مزید سخت ہو جاتی ہے۔اسی طرح بی این ایس 2023 کی دفعہ 144 میں اسمگل کیے گئے افراد کے استحصال، بشمول جنسی استحصال سے متعلق معاملات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں بالغوں اور بچوں کے استحصال کے لیے الگ الگ سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں قید اور جرمانے دونوں شامل ہیں۔  اس کے علاوہ  بی این ایس کی دفعہ 111 کے تحت منظم جرائم کی نئی تعریف شامل کی گئی ہے، جس میں انسانی اسمگلنگ اور جسم فروشی کے مقصد سے انسانوں کی اسمگلنگ بھی شامل ہے۔  بی این ایس کی دفعہ 69 ان حالات سے متعلق ہے جن میں شادی، ملازمت یا ترقی کا جھانسہ دے کر یا شناخت چھپا کر جنسی تعلق قائم کیا جائے۔ بی این ایس کی دفعہ 95 میں کسی بچے کو جرم کروانے کے لیے بھرتی، ملازمت یا استعمال میں لانے کے عمل کو جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ بی این ایس کی دفعہ 99 میں بچوں کو جسم فروشی کے مقصد سے خریدنے کو سزا کے قابل جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض سنگین جرائم کے لیے لازمی کم از کم سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں، جن میں بچے کو جسم فروشی کے لیے خریدنا (دفعہ 99)، منظم جرائم (دفعہ 111) اور بھیک منگوانے کے مقصد سے بچے کو اغوا یا معذور کرنا (دفعہ 139) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مزید یہ کہ بھارتیہ ناگرک شورکشا سنہیتا  2023(بی این ایس ایس)کے تحت انسانی اسمگلنگ کو قابلِ  تعزیر  اور ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ دفعہ 396 کے تحت متاثرہ افراد کے لیے معاوضہ اسکیم کا ایک نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے مطابق ہر ریاستی حکومت پر لازم ہے کہ وہ ایک ایسی اسکیم بنائے جس کے ذریعے جرم سے متاثرہ شخص یا اس کے زیرِ کفالت افراد کو، جنہیں نقصان یا تکلیف پہنچی ہو اور جنہیں بازآبادکاری کی ضرورت ہو، مالی امداد فراہم کیا جائے۔مزید برآں، ’’غیر اخلاقی انسانی اسمگلنگ (روک تھام) قانون 1956‘‘ کا مقصد جسم فروشی اور تجارتی جنسی استحصال کے لیے انسانی اسمگلنگ اور اس سے متعلق جرائم کی روک تھام ہے۔

سرحد پار اور بین الاقوامی سطح پر انسانی اسمگلنگ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بھارت کی حکومت نے متعدد ممالک، جن میں بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، کمبوڈیا اور میانمار شامل ہیں، کے ساتھ دوطرفہ مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں، جبکہ انسانی اسمگلنگ  کی روک تھام بھی کچھ کثیرالملکی معاہدوں کا حصہ ہے۔

اگرچہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور اس کے تدارک کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر عائد ہوتی ہے، تاہم بھارت کی مرکزی حکومت اس سلسلے میں ان کی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے وقتاً فوقتاً رہنما خطوط اور ہدایات جاری کرتی رہتی ہے، تاکہ اس جرم کی روک تھام اور مؤثر تدارک ممکن بنایا جا سکے۔ مرکزی حکومت کی چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. حکومت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی امداد فراہم کی ہے تاکہ ہر ضلع میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف خصوصی یونٹس ( اے ایچ ٹی یوز) قائم کیے جا سکیں یا پہلے سے موجود یونٹس کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ اس وقت مجموعی طور پر827 ایسے یونٹس فعال ہیں، جن میں807 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں،15 سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) اور 5 سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کام کر رہے ہیں۔ ایس ایس بی نے اس مقصد کے لیے ایک مخصوص ہیلپ لائن نمبر 1903 بھی قائم کیا ہے۔
  2. وزارتِ داخلہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے تاکہ ’’ریاستی سطح کی کانفرنسیں‘‘ اور ’’عدالتی مشاورتی اجلاس‘‘ منعقد کیے جا سکیں۔ ان اجلاس کا مقصد ریاستی و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پولیس اور قانونی افسران کو انسانی اسمگلنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جدید اقدامات اور حالیہ پیش رفت سے آگاہ کرنا اور اس حوالے سے ان کےاندر سنجیدگی پیدا کرنا اوران کی صلاحیتوں کو مؤثر اور مرکوز انداز میں بہتر بنانا ہوتا ہے۔
  3. وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے)نے 12 مارچ 2020 کو ایک قومی سطح کا رابطہ پلیٹ فارم ’’کرائم ملٹی ایجنسی سینٹر‘‘ ( کرائی ایم اے سی) شروع کیا، جو مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جرائم اور مجرموں سے متعلق معلومات کو چوبیس گھنٹے آن لائن مشترک کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کا مقصد اداروں کے درمیان معلومات کے بلا رکاوٹ تبادلے کو یقینی بنانا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ملک بھر میں انسانی اسمگلنگ سمیت اہم جرائم سے متعلق معلومات کو فوری طور پر پھیلانے اور بین الریاستی سطح پر مؤثر رابطہ و تعاون کو ممکن بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
  4. حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے اُن مقدمات کی تفتیش کی ذمہ داری قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو سونپی ہے جن کے اثرات بین الریاستی، قومی یا بین الاقوامی سطح تک پھیلے ہوئے ہوں۔
  5. نربھیا فنڈ کے تحت دی جانے والی مالی معاونت سے قائم کیے گئے ’’ویمن ہیلپ ڈیسک‘‘ (خواتین معاونت مراکز) کا مقصد تھانوں کو خواتین کے لیے زیادہ محفوظ، ساز گار اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔
  6. جنسی جرائم کی تفتیش کے لیے ’’انویسٹی گیشن ٹریکنگ سسٹم‘‘ ( آئی ٹی ایس ایس او) کے نام سے ایک آن لائن تجزیاتی نظام شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ 2018 (جو اب بھارتیہ ناگرک شورکشا سنہیتا یعنی بی این ایس ایس میں شامل ہے) کے مطابق ایسے جرائم کی پولیس تفتیش کی نگرانی اور پیش رفت کو ٹریک کرنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے باقاعدگی سے مقدمات کی تفتیش کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تعمیل کی شرح 2018 میں 44.4 فیصد  تھی جو 2023 میں بڑھ کر 61.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
  7. ’’جنسی جرائم کے مرتکبین کا قومی ڈیٹا بیس‘‘ (این ڈی ایس او) ایک ایسا ریکارڈ ہے جو صرف پولیس کے استعمال کے لیے دستیاب ہے۔ اسے 20 ستمبر 2018 کو شروع کیا گیا تھا تاکہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی تفتیش اور نگرانی میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس نظام کے ذریعے تفتیشی افسران عادی مجرموں کی نشاندہی اور ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کر سکتے ہیں، جس سے ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات بھی ممکن ہوتے ہیں۔
  8. ’’انسانی اسمگلنگ کے مجرموں کا قومی ڈیٹا بیس‘‘ (این ڈی ایچ ٹی او) قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کا مکمل ریکارڈ تلاش کر سکیں۔ اس میں مجرم کی مجرمانہ تاریخ، ذاتی معلومات، نقل و حرکت، عدالتی کارروائیاں، اپیلوں کی تفصیلات اور ملاقات کرنے والوں کا ریکارڈ شامل ہوتا ہے۔ اس طرح یہ نظام ایسے جرائم کی روک تھام، سراغ رسانی اور مؤثر تفتیش میں مدد فراہم کرتا ہے۔
  9. اس کے علاوہ اسمگلنگ کے متاثرین کے تحفظ اور بازآبادکاری کے حوالے سے، خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے ’’مشن شکتی‘‘ کے تحت ’’شکتی سدن‘‘ کے نام سے ایک مربوط امدادی اور بازآبادکاری مرکز قائم کیا ہے۔ یہ مرکز بے سہارا، مشکلات کے شکار، محروم اور سماجی طور پر کمزور خواتین، بشمول انسانی اسمگلنگ کی متاثرہ خواتین کو رہائش، تحفظ، دیکھ بھال، معاونت اور روزمرہ ضروریات کی فراہمی جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح ’’مشن واتسالیہ‘‘ کے تحت چلنے والے ’’چائلڈ کیئر انسٹی ٹیوشن‘‘ (بچوں کی نگہداشت کے ادارے) انسانی اسمگلنگ کے شکار بچوں کی دیکھ بھال، امداد اور ان کی بحالی کے امور انجام دیتے ہیں۔

بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات، جن میں قانونی اصلاحات، ادارہ جاتی نظام کی مضبوطی اور متاثرہ افراد پر مرکوز فلاحی پروگرام شامل ہیں، اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔ مرکزی حکومت اس امر کے لیے پُرعزم ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے اور عوامی شعور بیدار کرنے کی مہم کو بھی مضبوط کیا جائے تاکہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) ، نئے فوجداری قوانین اور ’’غیر اخلاقی انسانی اسمگلنگ (روک تھام) قانون، 1956‘‘ کے ساتھ ساتھ وزارتِ داخلہ اور خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت  کے ساتھ مل کر انسانی اسمگلنگ سے متعلق جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر نظام فراہم کرتے ہیں۔

آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب کے دوران یہ معلومات وزیر مملکت برائے خواتین و اطفال  کی ترقی محترمہ سَوِتری ٹھاکر فراہم کیں۔

************

ش ح۔ت ف۔ش ت

 (U: 7836)


(रिलीज़ आईडी: 2267788) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी