وزیراعظم کا دفتر
میانمار کے صدر کے دورۂ ہند کے موقع پر بھارت اور میانمار کا مشترکہ اعلامیہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 JUN 2026 7:16PM by PIB Delhi
وزیراعظم ہند جناب نریندر مودی کی دعوت پر، ریپبلک آف دی یونین آف میانمار کے صدر، عالی جناب یو من آنگ ہلینگ نے 30 مئی سے 3 جون 2026 تک ہندوستان کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کیا۔
صدر کے ہمراہ صدارتی دفتر، امورِ خارجہ، مالیات و محصول، زراعت، مویشی پروری و آبپاشی اور صنعت و ایم ایس ایم ای بزنس ڈیولپمنٹ کے مرکزی وزراء اور میانمار کے مرکزی بینک کے گورنر بھی شامل تھے۔ میانمار کے وفد میں زراعت، ادویات (فارماسیوٹیکلز)، توانائی، بینکنگ، تعمیرات، آئی ٹی، مواصلات، تجارت اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والا ایک کاروباری وفد اور ساتھ ہی ’میانمار-انڈیا فرینڈشپ ایسوسی ایشن‘ کے اراکین بھی شامل تھے۔
وزیراعظم ہند اور میانمار کے صدر کے مابین یکم جون 2026 کو مذاکرات ہوئے، جس کے دوران انہوں نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا۔ وزیراعظم نے معزز مہمان کے اعزاز میں دوپہر کے کھانے (ظہرانہ) کا اہتمام بھی کیا۔ اسی دن ہندوستان کی معزز صدر محترمہ دروپدی مرمو نے میانمار کے صدر کا استقبال کیا۔ اس سے قبل، وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے)جناب اجیت ڈووال نے میانمار کے صدر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
دورے کے آغاز پر، میانمار کے صدر نے 30 مئی 2026 کو بودھ گیا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مہابودھی مندر، مہابودھی میڈیٹیشن سینٹر اور سُجاتا مندر میں پوجا کی۔ ان انتہائی مقدس اور قابل احترام مقامات کے دوروں نے دونوں ممالک کے مابین دیرینہ روحانی اور بدھ مت کے رشتوں کے ساتھ ساتھ عوامی تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔
صدر نے 31 مئی 2026 کو نئی دہلی میں یو ایم ایف سی سی آئی اور سی آئی آئی کے اشتراک سے منعقدہ ’انڈیا-میانمار بزنس کنکلیو‘ میں کلیدی خطاب کیا، جہاں دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات نے دوطرفہ تجارت اور تجارتی مواقع کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر نے گریٹر نوئیڈا میں واقع این ٹی پی سی انرجی ٹیکنالوجی ریسرچ الائنس (این ای ٹی آر اے) کمپلیکس کا بھی دورہ کیا تاکہ وہ وہاں ہونے والے جدید ترین ریسرچ اور ڈیولپمنٹ(آر اینڈ ڈی) کے کاموں کا مشاہدہ کر سکیں، جن میں ماحول دوست توانائی کے شعبے میں جدت طرازی، توانائی کی بچت، قابل تجدید توانائی کا انضمام اور گرڈ کی پائیداری شامل ہیں۔
صدر کے ساتھ اپنی بات چیت میں، وزیراعظم ہند نے اس بات پر زور دیا کہ میانمار ہندوستان کی ’نیبر ہڈ فرسٹ‘ (پڑوسی پہلے)، ’ایکٹ ایسٹ‘ اور ’مہاساگر‘ (خطے میں سب کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے باہمی و ہمہ جہت فروغ) کی پالیسیوں کے سنگم پر واقع ہے۔ ان مذاکرات میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا، جس میں تجارتی و اقتصادی تعلقات، دفاع اور سلامتی، سرحدی انتظام، ترقیاتی امداد اور ثقافتی تبادلے شامل ہیں۔ دونوں فریقوں نے مختلف دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمت ناموں (ایم او یوز) پر جاری بات چیت کا جائزہ لیا اور انہیں جلد از جلد حتمی شکل دینے کی امید ظاہر کی۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ روابط (کنیکٹیوٹی) میں بہتری سے خطے میں باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی روابط اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ ملے گا۔ اس سلسلے میں، دونوں فریقوں نے کالادان ملٹی-ماڈل ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ اور انڈیا-میانمار-تھائی لینڈ سہ فریقی ہائی وے (شاہراہ) کی جلد تکمیل کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ میانمار کے طلبہ کے لیے ’میکانگ گنگا آئی سی سی آر‘اسکالرشپس (وظائف) کی تعداد سال 2026 سے 36 سے بڑھا کر 100 کر دی جائے گی۔
دونوں فریقوں نے روپیہ-کیات ادائیگی کے طریقہ کار سمیت دیگر ذرائع سے دوطرفہ تجارت کو آسان بنانے اور اسے فروغ دینے پر اتفاق کیا اور مئی 2024 میں اس نظام کے فعال ہونے کے بعد سے لین دین کے حجم میں ہونے والے مسلسل اضافے کو سراہا۔ دونوں ممالک نے اپنے اپنے قومی قوانین اور ضوابط کے مطابق، باہمی دلچسپی کے شعبوں جیسے کہ ایگرو پروسیسنگ (زرعی مصنوعات کی تیاری)، پٹرولیم، توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں قریبی تجارتی اور سرمایہ کارانہ تعاون کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔
وزیراعظم نے میانمار کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تئیں ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک دوسرے کے سیکیورٹی مفادات کے خلاف سرگرمیوں کے لیے اپنی اپنی خودمختار سرزمین کے غلط استعمال کو روکا جائے۔ صدر نے میانمار کے اس پختہ یقین کا اعادہ کیا کہ اس کی سرزمین کو ہندوستان کے امن و سیکیورٹی کے مفادات کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ ہندوستان، میانمار کے ایک مستقل اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر، دونوں ممالک کے مابین سیکیورٹی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے امن، استحکام، قومی مفاہمت اور سماجی و اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے میانمار کی قیادت میں جاری کوششوں کی حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین باہمی احترام اور دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر مسلسل امداد اور تعاون کی پیشکش بھی کی۔ میانمار کے صدر نے ہندوستان کے اس تعمیری تعاون اور حمایت کو سراہا۔
وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ میانمار کے صدر کی مہاراشٹر کے گورنر اور وزیراعلیٰ کے ساتھ ملاقاتیں اور ساتھ ہی 2 سے 3 جون 2026 تک ممبئی کے ان کے آئندہ دورے کے دوران کاروباری مصروفیات، موجودہ دوطرفہ تعاون اور اقتصادی روابط کو مزید مضبوط کریں گی۔
صدر یو من آنگ ہلینگ کے اس سرکاری دورے نے میانمار اور ہندوستان کے درمیان دیرینہ دوستی اور قریبی شراکت داری کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے مشترکہ عزم کو ظاہر کیا۔ دونوں فریقوں نے تمام سطحوں پر قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
صدر یو من آنگ ہلینگ نے ہندوستان میں قیام کے دوران ان کے اوران کے وفد کے ارکان کی جس گرم جوشی سے مہمان نوازی کی گئی اس کے لیے وزیراعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ صدر نے وزیراعظم ہند کو باہمی طور پر مناسب تاریخوں پر میانمار کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
******
(ش ح ۔ م م۔ع ن)
U. No. 7841
(ریلیز آئی ڈی: 2267787)
وزیٹر کاؤنٹر : 9