وزارت خزانہ
مالیاتی خدمات کے محکمے کے سیکرٹری نے مالی سال 2025-26 کے لیے پبلک سیکٹر بینکس کی کارکردگی کا جائزہ لیا
ی ایس بیز نے 1.98 لاکھ کروڑ روپے کا اب تک کا سب سے زیادہ خالص منافع حاصل کیا؛ مالی سال 2025-26 میں مجموعی کاروبار 283 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا جب کہ جی این پی اے 1.93 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر رہا
’’آپ کی پونجی، آپ کا ادھیکار ‘‘ پر کافی ٹیبل بک کی رونمائی کی گئی، جس میں غیر دعویٰ شدہ مالیاتی اثاثوں کا سراغ لگانے اور ان کی واپسی کی جانب ملک گیر کوششوں کو اجاگر کیا گیا
شہریوں کے انٹرفیس اور معلومات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے کثیر لسانی اور قابلِ رسائی خصوصیات کے ساتھ ڈی ایف ایس کی نئی ویب سائٹ کا افتتاح کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 MAY 2026 6:05PM by PIB Delhi
پسیکرٹری، مالیاتی خدمات کے محکمہ (ڈی ایف ایس)، جناب ایم۔ ناگراجو نے آج مالی سال 2025-26 کے دوران اہم آپریشنل، مالیاتی اور اسٹریٹجک ترجیحات میں ان کی کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے پبلک سیکٹر بینکس (پی ایس بیز) کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری، مالیاتی خدمات کے محکمے، ڈی ایف ایس کے سینئر حکام، چیئرمین، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، مینجنگ ڈائریکٹرز اینڈ چیف ایگزیکٹو آفیسرز (ایم ڈی اینڈ سی ای اوز) اور پبلک سیکٹر بینکس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔


اجلاس کے دوران، ’’آپ کی پونجی، آپ کا ادھیکار ‘‘ پر ایک کافی ٹیبل بک کی رونمائی کی گئی۔ یہ غیر دعویٰ شدہ مالیاتی اثاثوں کی شناخت کرنے اور ان کا دعویٰ کرنے کے لیے شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے شروع کی گئی ملک گیر مہم کا احاطہ کرتی ہے اور غیر دعویٰ شدہ مالیاتی اثاثوں کا سراغ لگانے، دعوے کے تصفیے اور ان کے حقدار مالکان کو ان کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کی جانب بینکوں، مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈروں کی مشترکہ کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔ گذشتہ چھ ماہ کے دوران، ملک بھر میں تقریباً 29 لاکھ دعویداروں کو 6,800 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم واپس کی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران مالیاتی خدمات کے محکمے کی نئی ویب سائٹ کا بھی افتتاح کیا گیا۔ شہریوں پر مرکوز نقطہ نظر کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا یہ پورٹل بہتر رسائی، ہموار نیویگیشن اور معلومات کی بہتر فراہمی کی پیشکش کرتا ہے۔ یہ ویب سائٹ 23 علاقائی زبانوں میں دستیاب ہے اور بصارت سے محروم افراد کے لیے قابلِ رسائی خصوصیات کو شامل کرتی ہے، جو جامع، قابلِ رسائی اور شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کے لیے حکومت کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔
کاروبار کی نمو، منافع بخشیت، اثاثوں کے معیار، حکومتی اسکیموں کے نفاذ، مالیاتی شمولیت، ڈیجیٹل ایکو سسٹم، ایم ایس ایم ای کریڈٹ فلو، سائبر استقامت اور آپریشنل رسک مینجمنٹ سمیت اہم شعبوں میں پبلک سیکٹر بینکس کی کارکردگی کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اس بات کو اجاگر کیا گئی کہ پبلک سیکٹر بینکس نے مالی سال 2025-26 کے دوران مضبوط مالیاتی اور آپریشنل کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 31 مارچ 2026 تک پی ایس بیز کا مجموعی کاروبار تقریباً 283.3 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جب کہ مجموعی خالص منافع بڑھ کر تقریباً 1.98 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا، جو پبلک سیکٹر بینکس کی تاریخ میں اب تک کا سب سے زیادہ سالانہ خالص منافع ہے۔ اثاثوں کا معیار بھی مضبوط رہا، جس میں گراس نان پرفارمنگ ایسٹس (جی این پی اے) 1.93 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئے اور نیٹ نان پرفارمنگ ایسٹس (این این پی اے) کم ہو کر 0.39 فیصد رہ گئے، جو بیلنس شیٹس کی مسلسل مضبوطی اور محتاط رسک مینجمنٹ کے طریقوں کے غماز ہیں۔
پردھان منتری جن دھن یوجنا، سماجی تحفظ کی اسکیموں، پردھان منتری مدرا یوجنا، پی ایم وشوکرما اور ڈیجیٹل قرض دینے کے اقدامات سمیت مالیاتی شمولیت کے بڑے اقدامات کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پبلک سیکٹر بینکس ملک بھر میں مالیاتی رسائی کو وسعت دینے اور آخری میل تک بینکنگ خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران چھوٹی مالیت کے قرضوں اور فلاحی اسکیموں سے منسلک اسکیموں کے لیے اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل قرض دینے کے سفر کے نفاذ کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پبلک سیکٹر بینکس نے رسائی اور کسٹمر کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ای-کے وائی سی اور ڈیجیٹل دستاویزات کے ذریعے پیپر لیس پروسیسنگ، اسٹریٹ تھرو پروسیسنگ (ایس ٹی پی) اور حکومتی پلیٹ فارمز کے ساتھ انضمام جیسے اقدامات کو اجاگر کیا۔
غوروخوض میں ڈیجیٹل بینکنگ ایکو سسٹمز کو مضبوط بنانے، سائبر سیکیورٹی کے فریم ورک کو بڑھانے اور ایم ایس ایم ایز اور معیشت کے دیگر پیداواری شعبوں کے لیے کریڈٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے اقدامات کا بھی احاطہ کیا گیا۔
گفت و شنید میں پبلک سیکٹر بینکس کے ذریعے ہر سطح پر محتاط اخراجات اور کفایت شعاری کے اقدامات اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، جبکہ ابھرتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتِ حال کے درمیان استقامت کو برقرار رکھا جائے۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ای سی ایل جی ایس 5.0 کے تحت اہل قرض دہندگان کو فعال اور ضرورت پر مبنی معاونت فراہم کریں، مناسب نگرانی کے ساتھ شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو مضبوط بنائیں، آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنائیں اور منافع بخشیت اور طویل مدتی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے کاروبار کے نئے مواقع تلاش کریں۔
بینکوں کو مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ بحران اور ابھرتی ہوئی عالمی صورتِ حال کے لیے تیاری اور موافقت برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
اسپیشل سیکرٹری، ڈی ایف ایس نے تیزی سے بدلتے ہوئے مالیاتی ایکو سسٹم کے ابھرتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں، آپریشنل کارکردگی اور انوویشن پر مبنی بینکنگ کے طریقوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے زور دیا کہ پبلک سیکٹر بینکس کو جامع ترقی، کسٹمر سروس اور طویل مدتی ادارہ جاتی استقامت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانا جاری رکھنا چاہیے۔
سیکرٹری، ڈی ایف ایس نے مضبوط شکایات کے ازالے کے نظام، مستحکم گورننس کے معیارات اور آپریشنل تیاری کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بینکنگ کا نظام لچکدار، قابلِ اعتماد اور وِکست بھارت 2047 کے وژن سے ہم آہنگ رہے۔
***
(ش ح – ع ا)
U. No. 7728
(ریلیز آئی ڈی: 2266822)
وزیٹر کاؤنٹر : 7