جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی نے نئی دہلی میں "ڈیم سکیورٹی کو بااختیار بنانے اور آر آر ایس ایس ڈی  اور آر بی ایس ڈی  کے ساتھ تعاملی  واقفیت"  کے موضوع پر  ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAY 2026 10:12PM by PIB Delhi

نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) نے حکومت ہند کی جل شکتی کی وزارت  کے  آبی وسائل، دریاؤں کی ترقی اور گنگا کی بحالی کے محکمے  کے تحت27 مئی 2026 کو سینٹرل واٹر کمیشن، آر کے پورم، نئی دہلی کی لائبریری بلڈنگ کے آڈیٹوریم میں "ڈیم سکیورٹی کو بااختیار بنانے اور  این ڈی ایس اے کے آر آر ایس ایس ڈی اور آر بی ایس ڈی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ تعاملی واقفیت" کے عنوان سے ایک روزہ قومی ورکشاپ کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ یہ ورکشاپ ہائبرڈ موڈ میں منعقد کی گئی تھی جس میں ملک بھر سے متعلقہ شراکت داروں  نے شرکت کی۔

اس ورکشاپ میں اسٹیٹ ڈیم سیفٹی آرگنائزیشنز (ایس ڈی ایس او)، ڈیم سیفٹی یونٹس (ڈی ایس یو)، ڈیموں کی مالک ایجنسیوں، سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی)، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، سی ڈبلیو پی آر ایس، این ایچ پی سی ، ایس جے وی این ، ٹی ایچ ڈی سی ، این ای ای پی سی او(نیپکو)، یو جے وی این ایل، بی بی ایم بی کے اعلیٰ حکام، سی-ڈیک  کے تکنیکی ماہرین اور ڈیم سکیورٹی اور آفات سے  تحفظ اور بچاؤ کی لچک سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس  سے جل شکتی کی وزارت کے محکمہ برائے آبی وسائل، آر ڈی اور جی آر کے سیکرٹری جناب وی ایل کانٹھا راؤ، سینٹرل واٹر کمیشن کے چیئرمین جناب انوپم پرساد اور این ڈی ایس اے کے چیئرمین جناب انیل جین نے خطاب کیا۔ اس پروگرام کے دوران، سکریٹری موصوف نے نیشنل رجسٹر آف اسپیسی فائیڈ ڈیمز (این آر ایس ڈی) 2026 جاری کیا اور ڈی ایچ اے آر ایم اے (دھرما - ڈیم ہیلتھ اینڈ ری ہیبلیٹیشن اینڈ مانیٹرنگ ایپلیکیشن) موبائل ایپلیکیشن کا آغاز کیا۔

اس ورکشاپ کا خاص مقصد نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) کی طرف سے تیار کردہ جدید ڈیجیٹل اقدامات، بالخصوص 'راشٹریہ باندھ سرکشا درپن' (آر بی ایس ڈی) اور 'ریپڈ رسک اسکریننگ آف اسپیسی فائیڈ ڈیمز' (آر آر ایس ایس ڈی) پلیٹ فارمز پر عملی تربیت کے ذریعے ڈیم سکیورٹی میں ادارہ جاتی صلاحیت اور آپریشنل تیاریوں کو مضبوط بنانا تھا۔

آر بی ایس ڈی کو ایک قومی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے طور پر پیش کیا گیا جسے سیلاب کے خطرے سے متعلق آگاہی بڑھانے، ڈیم ٹوٹنے کے تجزیے میں مدد  فراہم کرنے اور ڈیم سکیورٹی مینجمنٹ کے لیے معلوماتی اور باخبر فیصلہ سازی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ این ڈی ایس اے اور سی-ڈیک کے تکنیکی ماہرین نے آر بی ایس ڈی پورٹل کے طریقہ کار، خصوصیات اور اس کے لائیو مظاہرے پر تفصیلی سیشنز منعقد کیے۔

اس ورکشاپ میں آر آر ایس ایس ڈی  پلیٹ فارم کو ایک معیاری ریپڈ رسک اسیسمنٹ فریم ورک کے طور پر دکھایا گیا جس کا مقصد مخصوص ڈیموں میں خطرے کے اشاریوں کی نشاندہی کرنا، تفصیلی تحقیقات کے لیے مطلوبہ ڈیموں کو ترجیح دینا اور ایک ہی مربوط طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے یکساں رسک پروفائلز تیار کرنا ہے۔

ورکشاپ میں دھرما (ڈی ایچ اے آر ایم اے) موبائل ایپلیکیشن اور اس کی جدید خصوصیات کا لائیو مظاہرہ بھی پیش  کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ ڈیم سے متعلقہ واقعات کے لیے الرٹ جنریشن، اس کی تشہیر اور معلومات کے بہاؤ کے لیے ایک خصوصی تکنیکی سیشن بھی منعقد ہوا جس میں این ڈی ایم اے کے 'کیپ-سچیت' سسٹم کے ساتھ انضمام بھی شامل تھا۔ ریاستی نمائندوں نے ڈیم سکیورٹی کے نفاذ اور ڈیجیٹل اقدامات سے متعلق اپنے تجربات اور کامیابی کی کہانیاں بھی شیئر کیں۔

اس تقریب نے ملک میں ڈیم سکیورٹی کی نگرانی، ہنگامی تیاریوں اور آفات سے بچاؤ کی لچک کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ورکشاپ نے ادارہ جاتی مضبوطی، ڈیجیٹل تبدیلی اور استعداد کار میں اضافے کے اقدامات کے ذریعے ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے مؤثر نفاذ کے لیے این ڈی ایس اے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

پروگرام کا اختتام این ڈی ایس اے کے ممبر (ڈیزاسٹر اینڈ ریزیلینس) جناب راکیش ٹوٹیجا کے شکریہ کے کلمات کے ساتھ ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م م ع۔ن م۔

U- 7697  


(ریلیز آئی ڈی: 2266540) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी