وزارات ثقافت
قبائلی ثقافتی ورثے کا تحفظ اور فروغ
प्रविष्टि तिथि:
05 FEB 2026 3:22PM by National
ملک بھر میں لوک فنون کی مختلف شکلوں، قبائلی فنون اور زبانی روایات سمیت قبائلی ورثے کے تحفظ، دستاویز بندی اور فروغ کے لیے، حکومتِ ہند نے پٹیالہ، ناگپور، اُدے پور، پریاگ راج، کولکاتا، دیماپور اور تنجاور میں صدر دفاتر کے ساتھ سات علاقائی ثقافتی مراکز (زیڈ سی سی) قائم کیے ہیں۔ ان ساتوں مراکز کو اپنے رکن ریاستوں میں باقاعدہ بنیادوں پر مختلف ثقافتی سرگرمیوں اور پروگراموں کے انعقاد کے لیے سالانہ گرانٹ جاری کی جاتی ہے۔
قبائلی ثقافت کے فروغ کے لیے وزارت ثقافت کے علاقائی ثقافتی مراکز (زیڈ سی سی ایز) کے ذریعے ہارن بل فیسٹیول، آکٹیو، قبائلی رقص میلہ، آدی بمب، آدی سپت پلو، آدی لوک رنگ، قبائلی مہوتسو وغیرہ جیسے مختلف تہواروں کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوک رقص، گیت، پکوان، نمائشوں اور مصوری، فن اور دستکاری وغیرہ میں روایتی مہارتوں کے منفرد مظاہروں کو پیش کیا جا سکے۔
حکومت ہند کی وزارت قبائلی امور ’قبائلی تحقیقی اداروں اور قبائلی تحقیق، معلومات، تعلیم، ابلاغ اور پروگراموں کو امداد‘ سے متعلق اسکیموں پر عمل درآمد کرتی ہے۔ اس کے تحت قبائلی برادریوں کی ثقافت، آرکائیوز، نوادرات، رسوم و رواج اور روایات کے تحفظ اور فروغ کے لیے مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔’قبائلی تحقیق، معلومات، تعلیم، ابلاغ اور پروگرام (ٹی آر آئی-ای سی ای)‘ اسکیم کے تحت ممتاز تحقیقی اداروں، تنظیموں اور جامعات نے مختلف تحقیقی مطالعات، کتابوں، دستاویزی کاموں اور آڈیو ویژول ڈاکیومنٹریز وغیرہ کی اشاعت کی ہے۔
ساہتیہ اکادمی ہر سال قبائلی زبانوں اور زبانی روایات میں کام کرنے والے محققین کو ’بھاشا سمان‘ سے نوازتی ہے۔ اکادمی نے زبانی اور قبائلی ادب کے دستاویزی تحفظ اور فروغ کے لیے خصوصی پروگرام اور مرکز بھی قائم ہے، جس میں ’سینٹر فار اوورل اینڈ ٹرائبل لٹریجر‘ نمایاں ہے۔ اکادمی نے خاص طور پر بول چال کی روایت سے وابستہ زبانوں کے لیے اگرتلہ میں ’نارتھ ایسٹ سینٹر فاراورل لٹریچر یعنی شمال مشرقی بول چال کے ادب کامرکز ‘ (این ای سی او ایل) بھی قائم کیا ہے۔ یہ مرکز متعلقہ اشاعتیں جاری کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً ان زبانوں میں سرگرمیوں اور پروگراموں کا انعقاد بھی کرتا ہے۔
وزارت ثقافت کے تحت ساہتیہ اکادمی نے’بھاشا وکاس بورڈ‘ تشکیل دیا ہے، جو وقتاً فوقتاً لسانی کانفرنسوں کا انعقاد کرتا ہے۔ بورڈ کے قیام کے بعد اودھی، بنجارا، بندیلی، چکما، گڑھوالی، ہماچلی، کچھّی، کوڈوا، کماؤنی، کرمالی، مسنگ، راجبنشی، ساؤرا، وارلی، رابھا، سداری، کھڑیا، بیگانی، کورکو اور نشی زبانوں میں کانفرنسیں منعقد کی گئی ہیں۔
اکادمی قبائلی برادریوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر سال 9 اگست کو عالمی یوم مقامی باشندگان کے موقع پر ’کل ہند قبائلی ادیب کانفرنس‘ کا انعقاد کرتی ہے۔
اپنے ’آرکائیوز آف انڈین لٹریچر‘ منصوبے کے ذریعے اکادمی مصنفین اور ادب سے متعلق قیمتی مواد جیسے مخطوطات، تصاویر، آڈیو ریکارڈنگ، ویڈیو ریکارڈنگ اور پورٹریٹس وغیرہ جمع کرکے محفوظ رکھتی ہے، جن میں قبائلی ادیب بھی شامل ہیں۔
زیڈ سی سی کے ذریعے قبائلی علاقوں کے فنکاروں کو مختلف ثقافتی پروگراموں اور سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے شامل کیا جاتا ہے، جن کا انعقاد یہ مراکز کرتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں اعزازیہ، یومیہ و سفری الاؤنس (ڈی اے/ٹی اے)، قیام و طعام وغیرہ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ سال 2025 کے دوران اس طرح 6476 برادریوں، فنکاروں اور ثقافتی کارکنوں کو امداد فراہم کی گئی۔
قبائلی برادریوں کو براہ راست ورثے کے تحفظ، نمائش اور ثقافتی ترسیل میں شامل کرنے کے لیے تمام زیڈ سی سی اپنے رکن ریاستوں کے بھرپور اور متحرک قبائلی ثقافتی ورثے کو پیش کرنے کے لیے پروگرام منعقد کرتے ہیں، قبائلی برادریوں کے معدوم ہوتے فنون کے فروغ کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کرتے ہیں اور قبائلی رقص، مصوری، موسیقی وغیرہ سمیت مختلف فنون کی دستاویز بندی کرتے ہیں۔ ’گرو ششیہ پرمپرا‘ اسکیم کے تحت نوجوان نسل کو ہندوستانی قبائلی فنون سے متعلق تربیت بھی دی جاتی ہے۔
زیڈ سی سی کے ذریعے سیاحوں اور زائرین کو ریاستوں کی قبائلی ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے قبائلی ملبوسات، ساز و آلات، روزمرہ استعمال کے برتن اور قبائلی برادریوں کے دیوی دیوتاؤں وغیرہ کی نمائش کی جاتی ہے۔
ہندوستان کے قبائلی ورثے کے تحفظ اور نمائش کے لیے زیڈ سی سی نے ہمارے لوک اور قبائلی فنون — جیسے رقص، موسیقی، مصوری اور فن اداکاری وغیرہ — کے تحفظ اور فروغ کی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائی ہیں۔ زیڈ سی سی نے شائقین اور فنکاروں کی نئی نسل کے درمیان لوک اور قبائلی فنون کی متحرک روایت کو محفوظ رکھنے، دستاویزی شکل دینے اور فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس کے علاوہ تحقیق اور دستاویز بندی کی اسکیم موسیقی، رقص، تھیٹر، ادب اور فنونِ لطیفہ جیسے مختلف شعبوں میں معدوم ہوتی بصری اور نمائشی فنون کے تحفظ اور فروغ کی حمایت کرتی ہے۔ اس اقدام کے تحت ان روایات کو طباعتی اور آڈیو ویژول دونوں صورتوں میں دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جبکہ فنون کے انتخاب میں ریاستی ثقافتی محکموں سے مشاورت کی جاتی ہے۔ یہ زیڈ سی سی معدوم ہوتی لوک اور قبائلی فنون کی ریکارڈنگ اور دستاویز بندی کے ساتھ ساتھ لوک داستانوں اور زبانی تاریخ سے متعلق کتابیں، رپورٹس اور کہانیاں بھی شائع کرتے ہیں۔
یہ معلومات مرکزی وزیر برائےثقافت و سیاحت جناب گجندرشیخاوت نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
*******
(ش ح ۔ م ع ن۔ع ن)
U. No. 7601
(रिलीज़ आईडी: 2265729)
आगंतुक पटल : 9