سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
’’کلئر‘‘ٹیکنالوجی پروٹین کی امیجنگ میں انقلاب لا سکتی ہے اور کینسر اور نیوروبایولوجیکل امراض کی شناخت میں مدد فراہم کر سکتی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 MAY 2026 4:17PM by PIB Delhi
“کلیویبل لائٹ-ایریزڈ اینٹی باڈی رپورٹر (کلئر) نامی ایک نیا امیجنگ پلیٹ فارم محققین کو ایک ہی حیاتیاتی نمونے میں بے شمار پروٹینز کو صرف ایک فلوروسینٹ مارکر کی مدد سے دیکھنے کے قابل بنا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی ہائی ریزولوشن اور ملٹی پلیکسڈ امیجنگ کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے، جس کے ذریعے خلیات اور بافتوں میں پروٹینز کی باریک سطح پر تصویری شناخت ممکن ہو سکے گی اور اس کی بیماریوں کی تشخیص اور حیاتیاتی تحقیق میں اہم اثرات ہو سکتے ہیں۔
پروٹینز حیاتیاتی افعال کے بنیادی محرک ہوتے ہیں اور علاجی مداخلت کے اہم ہدف بھی، جبکہ بیماریوں کی تشخیص میں بھی بنیادی نشان دہی فراہم کرتے ہیں۔ کسی بھی ٹشو کے مکمل پروٹیومک نقشے کی تیاری—جس میں ہر پروٹین کی شناخت اور اس کی درست مقامی ترتیب اس کے قدرتی ماحول میں ظاہر ہو—پیتھالوجسٹ کو کینسر کی تشخیص اور پیچیدہ اعصابی امراض کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، اتنے بڑے پیمانے پر پروٹینز کو ان کی قدرتی مقامی ترتیب کے ساتھ نقشہ بند کرنا اب تک ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے، بنگلور میں قائم جواہر لال نہرو سینٹر فار ایڈوانسڈ سائنٹیفک ریسرچ (جے این سی اے ایس آر)، جو کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے، کے محققین نے کلیئر نامی امیجنگ پلیٹ فارم تیار کیا ہے، جو ایک ہی فلوروفور کی مدد سے ایک ہی حیاتیاتی نمونے میں بڑی تعداد میں پروٹینز کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اعلیٰ ریزولوشن پر جامع پروٹین میپنگ کو ممکن بنا سکتی ہے اور کینسر بایولوجی، علم مدافعت اور اعصابی امراض کی تشخیص کے طریقوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں پروٹینز کی مقامی تنظیم کو سمجھنا انتہائی اہم ہوتا ہے۔

تصویر: کلیئر امیجنگ ورک فلو کی وضاحت کرتے ہوئے اور ایک ہی فلوروفور کے استعمال سے تیار کردہ ہائی-پلیکس تصاویر
پروفیسر سرت ایس. اگستی کی قیادت میں ٹیم نے کلیئر پروبس کو ڈیزائن اور تیار کیا، امیجنگ ورک فلو کو ڈیولپ کیا، اور مختلف حیاتیاتی نظاموں میں اس پلیٹ فارم کی توثیق کی۔ تجرباتی ڈیزائن، پروب کیمسٹری اور امیجنگ تجزیہ گروپ کے اندر ہی انجام دیا گیا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے محققین کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کے ذریعے اس پلیٹ فارم کو پیچیدہ حیاتیاتی ماحول، خاص طور پر مدافعتی خلیات کے نظام میں، مؤثر طور پر ظاہر کیا گیا۔
انہوں نے ایک ایسا لائٹ-کلیویبل پروب سسٹم متعارف کرایا جو ایک ہی اسپیکٹرل ونڈو میں مقررہ وقت میں بار بار لیبلنگ اور امیجنگ کوممکن بناتا ہے۔ موجودہ ملٹی پلیکسنگ طریقوں کے برعکس، کلیئر زیادہ تعداد میں پروٹینز کو تیزی، اعلیٰ مقامی ریزولوشن اور نازک حیاتیاتی نمونوں—بشمول زندہ خلیات—کے ذریعہ مطابقت کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ طریقہ بنیادی طور پر ملٹی پلیکسڈ امیجنگ کی تعریف ہی بدل دیتا ہے کیونکہ اس میں تقریباً لامحدود پروٹین ویژولائزیشن ممکن ہو جاتی ہے، وہ بھی بغیر متعدد فلوروفورز کے۔
یہ نیا طریقہ رویال سوسائیٹی آف کیمسٹری کے کیمیائی سائنس کے جریدےمیں شائع ہوا ہے اور یہ چاک بورڈ کی طرح کام کرتا ہے—جس پر لکھی ہوئی چیز مٹا کر دوبارہ نئی تحریر کے لیے جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ اس طریقے میں خلیات کے اندر مطلوبہ پروٹینز کو کلیویبل فلوروسینٹ ٹیگز کے ذریعے لیبل کیا جاتا ہے۔ مائیکرواسکوپ کے ذریعے پروٹین کے ایک سیٹ کی تصاویر لینے کے بعد 365 نینو میٹر کی نرم ایل ای ڈی روشنی کا پلس دیا جاتا ہے، جو فلوروسینٹ سگنل کو مٹا دیتا ہے۔ اس کے بعد اسی خلیے میں پروٹینز کے نئے سیٹ کو لیبل کر کے اسی آپٹیکل ونڈو میں دوبارہ امیج کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کو بار بار دہرا کر انتہائی تفصیلی اور معلوماتی پروٹین نقشے تیار کیے جا سکتے ہیں، جو ایک خلیے سے لے کر پیچیدہ ٹشو سیکشنز تک پھیلے ہوتے ہیں۔
کلیئر بایومیڈیکل تحقیق اور کلینیکل تشخیص میں انقلاب لا سکتا ہے، کیونکہ یہ خلیات اور بافتوں میں پروٹینز کی باریک نقشہ سازی کو ممکن بناتا ہے۔ اس سے بیماریوں کی ابتدائی تشخیص، خاص طور پر کینسر اور اعصابی امراض میں، بہتری آ سکتی ہے اور مدافعتی ردعمل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
طویل مدت میں یہ ٹیکنالوجی پریسیژن میڈیسن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ یہ جامع مالیکیولر معلومات فراہم کر کے ٹارگٹڈ علاج کے انتخاب میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ طریقہ عالمی سطح پر اسپشیئل پروٹیومکس اور پریسیژن میڈیسن کی سمت میں جاری کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔
اشاعت کا لنک: 10.1039/D5SC08599C
***
ش ح۔ت ف ۔ ا ک م
U No. 7574
(ریلیز آئی ڈی: 2265528)
وزیٹر کاؤنٹر : 14