سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی شاہراہوں کی توسیع اور ان کا اپ گریڈیشن

प्रविष्टि तिथि: 04 FEB 2026 7:07PM by PIB Delhi

بنیادی ڈھانچے کا شعبہ معیشت کا بنیادی محرک ہے اور تیز تر اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔سڑک نقل و حمل وشاہراہوں کی وزارت بنیادی طور پر قومی شاہراہوں (این ایچ) بشمول نیشنل ہائی اسپیڈ کوریڈورز (ایچ ایس سی) / ایکسپریس ویز کی ترقی اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے۔ ملک میں قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کی لمبائی مارچ 2014ء میں 91, 287 کلومیٹر سے بڑھ کر اس وقت 1, 46, 572 کلومیٹر ہو گئی ہے۔

قومی شاہراہوں کی ترقی اور دیکھ بھال، بشمول شہری، دیہی اور صنعتی خطوں کو کنیکٹیویٹی فراہم کرنے والی قومی شاہراہیں، ایک مسلسل عمل ہے۔ ٹریفک کی کثافت، رابطے کی ضرورت، سڑک کی حالت اور پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان (این ایم پی) کے ساتھ ہم آہنگی کی بنیاد پر قومی شاہراہوں پر گنجائش میں اضافے سمیت دیگر ترقیاتی کام شروع کیے جاتے ہیں۔

قومی شاہراہیں بنیادی طور پر طویل فاصلے کے رابطے کے لیے ہوتی ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران بجٹ کی مختص رقم میں اضافے کے ساتھ، سڑکوں کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ آپریشنل ایکسیس کنٹرولڈ نیشنل ہائی اسپیڈ کوریڈورز (ایچ ایس سی) / ایکسپریس ویز کی لمبائی 2014ء میں 93 کلومیٹر سے بڑھ کر اس وقت  3, 052 کلومیٹر ہو گئی ہے۔ 4لین اور اس سے زیادہ چوڑائی والے قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کی لمبائی (بشمول ایکسیس کنٹرولڈ ہائی اسپیڈ کوریڈورز / ایکسپریس ویز) 2014ء میں 18, 371 کلومیٹر کے مقابلے میں 2.6 گنا بڑھ کر اس وقت 48, 568 کلومیٹر ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 2 لین سے کم چوڑائی والی قومی شاہراہوں کا تناسب 2014ء میں 30 فیصد سے گھٹ کر کل قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کا صرف 9 فیصد رہ گیا ہے۔ مذکورہ بالا ترقیاتی کاموں نے ملک بھر میں قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کے ساتھ شہری، دیہی اور صنعتی خطوں کے رابطے اور رسائی کو بڑھایا ہے اور لاجسٹکس کی کارکردگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ(آئی آئی ایم)، بنگلور کی جانب سے ملک میں قومی شاہراہوں کے منصوبوں کی ترقی (2014-2022) کے اثرات پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق، اہم اور وسیع نتائج درج ذیل ہیں:

  1. قومی شاہراہوں کی ترقی میں خرچ ہونے والا ہر ایک روپیہ، مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 3.2 روپے کے اضافے کا باعث بنتا ہے۔
  2. کنٹرول اضلاع کے مقابلے ٹریٹمنٹ اضلاع میں فیکٹریوں اور سپلائرز کے درمیان نقل و حمل میں لگنے والے وقت میں 9.19 فیصد کی کمی آئی ہے۔
  3. کنٹرول اضلاع کے مقابلے ٹریٹمنٹ اضلاع میں فیکٹریوں اور صارفین کے درمیان نقل و حمل کے وقت میں 4.93 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
  4. کنٹرول اضلاع کے مقابلے ٹریٹمنٹ اضلاع میں اسکولوں تک پہنچنے کے وقت میں 16.6فیصد کی کمی آئی ہے۔
  5. کنٹرول اضلاع کے مقابلے ٹریٹمنٹ اضلاع میں صحت کی خدمات  تک رسائی کے وقت میں 9 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔
  6. کنٹرول اضلاع کے مقابلے ٹریٹمنٹ اضلاع میں منڈیوں تک پہنچنے کے اوسط وقت میں 7 فیصد کی کمی آئی ہے؛ اور
  7. کنٹرول اضلاع کے مقابلے ٹریٹمنٹ اضلاع میں رسائی حاصل کرنے والی منڈیوں کی اوسط تعداد میں 8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اگرچہ حکومت معیشت کو فروغ دینے کے لیے قومی شاہراہوں (این ایچ) کی ترقی میں مسلسل مصروفِ عمل ہے، تاہم زرعی مراکز، اسکولوں، صحت کے مراکز اور سیاحتی مراکز وغیرہ تک آخری میل کا رابطہ  فراہم کرنے کی ذمہ داری صرف متعلقہ ریاستی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی)، کانپور کی جانب سے قومی شاہراہوں کی تعمیر کے دوران پیدا ہونے والے روزگار کے تخمینے پر کی گئی ایک اہم تحقیق کے مطابق، 1 لین-کلومیٹر قومی شاہراہ کی تعمیر سے 4,478 پرسن-ڈیز کا براہِ راست روزگار اور5,297 پرسن-ڈیز کا بالواسطہ روزگار پیدا ہوتا ہے۔ مزید برآں، شاہراہوں کی تعمیر کے طویل مدتی اثرات کے باعث خطے میں بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں کی وجہ سے، 7 سال کی مدت کے دوران فی لین-کلومیٹر 52, 393 پرسن-ڈیز کا بالواسطہ ترغیبی روزگار پیدا ہوتا ہے۔

حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 57, 125 کلومیٹر طویل قومی شاہراہیں تعمیر کی ہیں، جس میں قومی شاہراہوں کی اوسط تعمیر 34, 215 لین-کلومیٹر فی سال رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کو ملا کر سالانہ اوسطاً تقریباً 33کروڑ پرسن-ڈیز کا روزگار پیدا ہوتا ہے۔

حکومت نے 2028-29 تک 18000 کلومیٹر طویل ایکسیس کنٹرولڈ نیشنل ہائی اسپیڈ کوریڈورز (ایچ ایس سی) کو فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے—

اس کے علاوہ، 2032-33ء تک مجموعی طور پر 26000 کلومیٹر طویل ایکسیس کنٹرولڈ نیشنل ہائی اسپیڈ کوریڈورز / ایکسپریس ویز کی تعمیر کے ٹھیکے دینے کا ہدف ہے۔ حکومت نے پانچ لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کے رنگ روڈ / بائی پاسز کی ترقی کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا ہے۔ مزید برآں، جہاز رانی، بندرگاہوں اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کی ترجیحات کے مطابق بندرگاہوں کے رابطے اور نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این آئی سی ڈی سی) کی ترجیح کے مطابق صنعتی مراکز تک رسائی و رابطے کے منصوبے بھی ترقی کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔ مذکورہ بالا مجوزہ ترقیاتی کام لاجسٹکس کی کارکردگی میں اضافہ کریں گے، جو معاشی ترقی کے لیے ایک محرک کا کام کرے گی۔

یہ معلومات سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن جے رام گڈکری جی نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*****

ش ح۔ ک ح۔خ م

U. No- 7505

 


(रिलीज़ आईडी: 2264975) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी