کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

ایشیائی پیداواری تنظیم کی مجلسِ عاملہ کے اڑسٹھویں اجلاس کا نئی دہلی میں اختتام


اے پی او کی مجلسِ عاملہ نے ویژن 2030 کے لائحہ عمل اور ادارہ جاتی کارکردگی کے پیمانوں کا جائزہ لیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 MAY 2026 12:02PM by PIB Delhi

ایشیائی پیداواری تنظیم (اے پی او) کی گورننگ باڈی میٹنگ (جی بی ایم) کے 68ویں اجلاس کا اختتام نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ ہوا۔ یہ اجلاس 20 سے 22 مئی 2026 تک بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے سہ روزہ غور و خوض، تزویراتی مباحثوں اور اعلیٰ سطحی سرگرمیوں کے بعد اختتام پذیر ہوا۔

اس اجلاس کی میزبانی نیشنل پروڈکٹیویٹی کونسل (این پی سی) نے، حکومت ہند کی وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کی سرپرستی میں کی۔ اس موقع پر قومی پیداواری تنظیموں (این پی اوز) کے سربراہان، سینئر سرکاری افسران، پالیسی سازوں، پیداواری ماہرین اور اے پی او کے رکن ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔

سہ روزہ پروگرام کا آغاز 20 مئی 2026 کو ابتدائی اور بند کمرہ اجلاسوں سے ہوا، جس کے بعد نیٹ ورکنگ اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن کا مقصد رکن ممالک کے درمیان علاقائی تعاون اور اشتراک کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

21 اور 22 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے مکمل اجلاسوں میں اے پی او کے مستقبل کے رخ، نظم و نسق اور تزویراتی ترجیحات سے متعلق کئی اہم نکات پر غور کیا گیا۔ ان مباحثوں میں سیکریٹری جنرل کی سالانہ رپورٹ کی منظوری، سال 2025 کی مالیاتی رپورٹ، سال 2026 کے لیے آڈیٹرز کی تقرری، اے پی او ویژن 2030 اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات، 2027–28 کے دو سالہ عرصے کے لیے اے پی او کے ابتدائی بجٹ، گورننس اصلاحات، علاقائی پیداواری اقدامات کی پیش رفت رپورٹس اور ادارہ جاتی کارکردگی و تعمیل کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل تھے۔

21 مئی 2026 کو منعقدہ افتتاحی اجلاس میں مرکزی وزیرِ تجارت و صنعت، جناب پیوش گوئل، بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے اور افتتاحی خطاب کیا۔ جناب گوئل نے بھارت کی پیداواری ترقی، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس اصلاحات، ایم ایس ایم ای شعبے کو بااختیار بنانے، پائیداری کے اقدامات اور علاقائی تعاون کو اجاگر کیا۔

مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں قیادت کی اہم تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئیں، جہاں انڈونیشیا کے لیے اے پی او کے ڈائریکٹر پروفیسر انور سانوسی نے 2026–27 کے لیے اے پی او کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا۔ انہوں نے حکومتِ ہند کی وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت محکمہ برائے فروغِ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے سکریٹری اور بھارت کے لیے اے پی او کے ڈائریکٹر جناب امردیپ سنگھ بھاٹیہ کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی۔ ایران اور جاپان کے قائم مقام اے پی او ڈائریکٹروں نے بالترتیب پہلے اور دوسرے نائب چیئرمین کے عہدے سنبھالے۔

اس تقریب کی ایک اہم جھلک اے پی او کی جانب سے پیداواری فروغ دینے والوں، فنی ماہرین اور این پی سی خصوصی اعزازات کی پیش کش تھی، جو پیداواری بہتری اور تنظیمی امتیاز میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیے گئے۔

ایشیائی پیداواری تنظیم نے رکن ممالک میں پیداواری ماہرین کے تصدیقی اداروں کے جائزے اور منظوری کے لیے اے پی او منظوریاتی ادارہ (اے پی او-اے بی) قائم کیا۔ اب تک بھارت سمیت اے پی او کے 13 رکن ممالک کو اس کی سند حاصل ہو چکی ہے۔ تقریب کے دوران کمبوڈیا کی قومی پیداواری تنظیم کے تصدیقی ادارے کو اے پی او-اے بی کی منظوریاتی سند پیش کی گئی۔

مجلسِ عاملہ کے اجلاس کے دوران رکن ممالک نے اے پی او ویژن 2030 کے مقاصد کو آگے بڑھانے اور رقمی تبدیلی، پائیدار ترقی، اختراع، صلاحیت سازی اور پیداواری بنیاد پر ترقی جیسے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

22 مئی 2026 کو منعقدہ اختتامی اجلاس کا آغاز اے پی او کے چیئرمین کے خطاب سے ہوا، جس کے بعد بھارت کی متبادل ڈائریکٹر محترمہ نیرجا سیکھر نے اپنے خیالات پیش کیے۔ اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ مجلسِ عاملہ کا 69واں اجلاس 2027 میں لاؤ عوامی جمہوریہ میں منعقد ہوگا، جبکہ اے پی او رکن ممالک کے سربراہان کی 67ویں ورکشاپ سمٹ میٹنگ 2027 میں سری لنکا میں منعقد کی جائے گی۔

’’دیگر امور‘‘ کے تحت اے پی او نے رکن ممالک کو ویژن 2030 کے تحت ’’جی اے آئی اے‘‘ (حقیقی مصنوعی ذہانت اقدام) کے بارے میں آگاہ کیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور تربیتی نظام کی جدید کاری پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں جاپان کے دوسرے نائب چیئرمین کی جانب سے پیش کردہ کارروائی کے خلاصے (پہلے اور دوسرے دن) کو منظور کیا گیا، اور اجلاس کا اختتام اے پی او کے چیئرمین کے اختتامی خطاب پر ہوا۔

بعد میں مندوبین نے دہلی کے نمایاں ثقافتی و تاریخی مقامات کا دورہ کیا، جن میں قومی عجائب گھر، ہمایوں کا مقبرہ، انڈیا گیٹ–سنٹرل وسٹا کی شاہراہِ تقریب اور ’’روشنی اور کنول: بیدار ہستی کے تبرکات‘‘ شامل تھے۔ اس نمائش میں بھگوان بدھ کے مقدس تبرکات کے ساتھ مجسمے، مخطوطات اور نوادرات پیش کیے گئے، جو بھارت کے بدھ مت ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ نئی دہلی کے رائے پتھورا ثقافتی کمپلیکس میں منعقدہ اس نمائش نے بھارت کی روحانی اور تہذیبی میراث کو اجاگر کیا۔ مندوبین نے بھارت کے شاندار ثقافتی ورثے کے مشاہدے کے اس موقع کو سراہا۔

ایشیائی پیداواری تنظیم کی مجلسِ عاملہ کے 68ویں اجلاس کی کامیاب میزبانی نے پیداواری ترقی، علاقائی تعاون کے استحکام اور ایشیا و بحرالکاہل خطے میں پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے بھارت کے عزم کی توثیق کی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-7458


(ریلیز آئی ڈی: 2264452) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati