زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی اسکیمیں آمدنی اور دیہی صنعتکاری کو فروغ دینے کے لیے کسانوں، ایف پی اوز اور سیلف ہیلپ گروپس کی مددگار
प्रविष्टि तिथि:
03 FEB 2026 8:11PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مرکزی شعبے کے ساتھ ساتھ مرکز کی سرپرستی والی بہت سی اسکیمیں اور پروگرام نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت کسانوں، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او)، سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) اور کاروباریوں کو مالی امداد اور سبسڈیز فراہم کی جاتی ہیں تاکہ دیہی علاقوں میں روزگار کی فراہمی، کاروباری صلاحیت اور آمدنی میں اِضافے کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ اسکیمیں زراعت کے پورے دائرہ کار کا احاطہ کرتی ہیں جس میں قرض ، انشورنس، آمدنی کا تعاون، بنیادی ڈھانچہ، باغبانی سمیت مختلف فصلیں، بیج، میکانائزیشن، مارکیٹنگ، نامیاتی اور قدرتی کاشتکاری، کسانوں کے گروپ، آبپاشی، توسیعی خدمات، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر کسانوں سے فصلوں کی خریداری اور ڈیجیٹل زراعت شامل ہیں۔
سال 2020 میں ’’10 ہزار فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او) کی تشکیل اور فروغ‘‘ کی اسکیم کا آغاز 6,865 کروڑ روپے کے کل بجٹ کے ساتھ کیا گیا تھا تاکہ کسانوں کی سودے بازی کی قوت میں اِضافہ کیا جا سکے، بڑے پیمانے پر پیداوار کے فوائد حاصل ہوں، پیداواری لاگت میں کمی آئے اور ان کی زرعی پیداوار کو یکجا کر کے کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ کیا جا سکے، جس سے پائیدار آمدنی کی جانب ایک اہم کردار ادا ہوسکے۔ مذکورہ اسکیم کے تحت، ایف پی او کے انتظام و انصرام کے لیے 03 سال کی مدت تک فی ایف پی او 18.00 لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایف پی او کے فی کسان ممبر کے حساب سے 2 ہزار روپے تک کی مماثل ایکویٹی گرانٹ فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے جس کی حد فی ایف پی او 15.00 لاکھ روپے ہے اور اہل قرض دہندہ اداروں سے فی ایف پی او پروجیکٹ لون کے لیے 2 کروڑ روپے تک کی کریڈٹ گارنٹی کی سہولت دی گئی ہے تاکہ ایف پی اوز کے لیے ادارہ جاتی قرضوں تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ 31 دسمبر 2025 تک، اس اسکیم کے تحت 10 ہزار ایف پی اوز رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں، 6,557 ایف پی اوز کو مماثل ایکویٹی گرانٹ کے طور پر 430.77 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں اور 2,671 ایف پی اوز کو 662.71 کروڑ روپے کا کریڈٹ گارنٹی کور جاری کیا گیا ہے۔
ریاستوں کو زراعت کے شعبے میں مدد فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی اسکیموں کی فہرست ضمیمہ میں دی گئی ہے۔
مذکورہ بالا اسکیموں کے تحت منظور شدہ سبسڈی کی رقم کی تقسیم متعلقہ اسکیم کی ہدایات کے ضوابط کے مطابق کی جاتی ہے۔ اگرچہ تمام اسکیموں کے لیے کوئی یکساں وقت کی حد مقرر نہیں کی گئی ہے، تاہم ضابطے کی شرائط کی تکمیل، تجاویز کی منظوری اور فنڈز کی دستیابی سے مشروط رہتے ہوئے فنڈز کے بروقت اجراء کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
(d) اور (e): بعض اسکیموں کے تحت سبسڈی کی رقم کی تقسیم میں تاخیر کے واقعات پر جیسے ہی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے ایسی رپورٹیں موصول ہوتی ہیں، حکومت فوری کارروائی کرتی ہے۔ حکومت نے سبسڈی کی بروقت پروسیسنگ اور اس کے اجراء کو یقینی بنانے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ کے نظام کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور فوائد کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) کے نظام کو اپنانے، ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزہ لینے، طریقۂ کار کو آسان بنانے اور ایڈوائزریز جاری کرنے جیسے کئی اقدامات کیے ہیں۔
ضمیمہ
ریاستوں کو زراعت کے شعبے میں مدد فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی اسکیموں کی فہرست:
- پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم- کسان)
- پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا (پی ایم –کے ایم وائی)
- پردھان منتری فصل بیما یوجنا (پی ایم ایف بی وائی)/ ری اسٹرکچرڈ ویدر بیسڈ کراپ انشورنس اسکیم (آر ڈبلیو بی سی آئی ایس)
- موڈیفائیڈ انٹرسٹ سبوینشن اسکیم (ایم آئی ایس ایس)
- زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ (اے آئی ایف)
- دس ہزار نئی فارمر پروڈیوسرز آرگنائزیشنز (ایف پی او) کی تشکیل اور فروغ
- نیشنل بی کیپنگ اینڈ ہنی مشن (این بی ایچ ایم)
- نمو ڈرون دیدی
- قدرتی کاشت کا قومی مشن (این ایم این ایف)
- پردھان منتری ان داتا آئے سنرکشن ابھیان (پی ایم –آشا)
- ایگری فنڈ فار اسٹارٹ اپس اینڈ رورل انٹرپرائزز (ایگری ایس یو آر ای)
- پر ڈراپ مور کراپ (پی ڈی ایم سی)
- مشین پر مبنی زراعت کا ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم)
- پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی)
- سوائل ہیلتھ اینڈ فرٹیلٹی (ایس ایف اینڈ ایف)
- رین فیڈ ایریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی)
- جنگلاتی زراعت
- فصل کے تنوع سے متعلق پروگرام (سی ڈی پی)
- زرعی توسیع پر ذیلی مشن (ایس ایم اے ای)
- سب مشن آن سیڈ اینڈ پلانٹنگ مٹیریل (ایس ایم ایس پی)
- خوراک کی یقینی فراہمی اور تغذیہ کا قومی مشن (این ایف ایس این ایم)
- زرعی مارکیٹنگ کی مربوط اسکیم (آئی ایس اے ایم)
- باغبانی کی مربوط ترقی کا مشن (ایم آئی ڈی ایچ)
- خوردنی تیل کا قومی مشن (این ایم ای او) - آئل پام
- خوردنی تیل کا قومی مشن (این ایم ای او)- تلہن
- شمال مشرقی خطے کے لیے آرگینک ویلیو چین کی ترقی کا مشن
- ڈیجیٹل زرعی مشن
- بانس سے متعلق قومی مشن
یہ معلومات آج لوک سبھا میں زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیرِ مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ ک ح –خ م
U.NO.7437
(रिलीज़ आईडी: 2264235)
आगंतुक पटल : 13