خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گرین  ٹیکنالوجیز کے ذریعے خوراک کی پروسیسنگ


ڈبہ بند خوراک کی صنعت میں قابل تجدید توانائی اور پائیداری کے لیے حکومت کی مدد

प्रविष्टि तिथि: 05 FEB 2026 9:43PM by PIB Delhi

ڈبہ بند خوراک کی صنعت کی وزارت(ایم او ایف پی آئی) اپنی مختلف اسکیموں کے تحت منصوبوں کے لیے شمسی، بایوماس، ہوا وغیرہ جیسے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دیتی ہے اور ڈبہ بند خوراک کی یونٹس میں قابل تجدید/متبادل توانائی کی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے لیے مالی امداد فراہم کرتی ہے۔پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا(پی ایم کے ایس وائی) کی ذیلی اسکیموں کے تحت فی منصوبہ زیادہ سے زیادہ 35 لاکھ روپے تک کی قابل اجازت لاگت کے لیے معاونت کا انتظام کیا گیا ہے۔پی ایم کے ایس وائی کی ذیلی اسکیموں کے تحت، اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق منظور شدہ منصوبوں کو گرانٹ/سبسڈی کی قسط جاری کرنے کے لیے متعلقہ ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ/ایجنسی کی جانب سے پانی اور ہوا کے حوالے سے جاری کردہ آپریشن کی اجازت حاصل کرنا لازمی ہے۔اس کے علاوہ پروجیکٹ عمل درآمد ایجنسی (پی آئی اے) کو کولڈ چین انفراسٹرکچر سے متعلق ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت، حکومت ہند کی ہدایات کے مطابق نان- او ڈی ایس( اوزون کو ختم نہ کرنے والے مادّوں) اور کم جی ڈبلیو پی (کم عالمی حدت والے اثر کے حامل) ریفریجرینٹس پر مبنی توانائی مؤثر کولنگ نظاموں کی ضروریات کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔

 اس کے علاوہ سبز ٹیکنالوجیز کے اختیار کے ذریعے پائیدار خوراک کی ڈبہ بند صنعت کی حوصلہ افزائی کے لیے وزارت خوراک کی پروسیسنگ (ایم او ایف پی آئی) نے 25 تا 28 ستمبر 2025 کو ورلڈ فوڈ انڈیا 2025 کا چوتھا ایڈیشن منعقد کیا، جس میں ایک مرکزی موضوع’پائیداری اور نیٹ زیرو فوڈ پروسیسنگ‘ تھا۔ ان موضوعات کا مقصد شعبے میں وسائل کے مؤثر استعمال، فضلہ میں کمی، توانائی کی بچت اور ماحول دوست پیکیجنگ حل کو فروغ دینا تھا۔

ایم او ایف پی آئی کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی ، انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ-تھانجاور نے بائیو پولیمرز جیسے پولی لیکٹک ایسڈ (پی ایل اے) اسٹارچ ، نینو فائبر وغیرہ سے بائیوڈیگریڈیبل پلاسٹک ، محفوظ اور ماحول دوست پیکیجنگ حل تیار کرکے پائیدار پیکیجنگ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور تیار کرنے کی کوششیں کی ہیں ۔

ایم او ایف پی آئی اپنی دو مرکزی شعبہ جاتی اسکیموں یعنی پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) اور فوڈ پروسیسنگ صنعت کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیم(پی ایل آئی ایس ایف پی آئی) کے ذریعے خوراک کی پروسیسنگ انفراسٹرکچر کے قیام/توسیع کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ وزارت ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم یعنی پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز(پی ایم ایف ایم ای) بھی نافذ کر رہی ہے۔ وزارت ان اسکیموں کے تحت اہل اداروں، بشمول اسٹارٹ اپس اور چھوٹے، چھوٹے اور درمیانےکاروباری ادارے(ایم ایس ایم ای ایز)، کو سبسڈی/ترغیبات فراہم کرتی ہے۔

پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اسکیم(ایم او ایف پی آئی) کے صلاحیت سازی کے جزو کے تحت ، ایم او ایف پی آئی فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ اسکلنگ (ای ڈی پی +) اور پروڈکٹ مخصوص اسکلنگ کے لیے ٹرینرز ، ڈسٹرکٹ ریسورس پرسنز ، انٹرپرینیورز اور مختلف دیگر گروپوں کی تربیت کے لیے مدد فراہم کرتا ہے ۔  اس اسکیم میں پسماندہ اور آگے کے روابط کو مضبوط بنانے ، مشترکہ سہولیات کی فراہمی ، انکیوبیشن مراکز ، تربیت ، مارکیٹنگ اور برانڈنگ کا بھی تصور کیا گیا ہے ۔

ڈبہ بند خوراک کی صنعت کی وزارت اپنے دو خودمختار اداروں یعنی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ، کنڈلی، ہریانہ (این آئی ایف ٹی ای ایم-کے) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ، تنجاور، تمل ناڈو(این آئی ایف ٹی ای ایم-ٹی) کے ذریعے اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو رہنمائی، سرپرستی، تربیت، پائلٹ پلانٹ،این اے بی ایل سے منظور شدہ فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز، انکیوبیشن خدمات، معیار کی جانچ، تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی) معاونت اور نیٹ ورکنگ کے مواقع وغیرہ فراہم کرتی ہے۔

ان تینوں اسکیموں کو ملک بھر میں نافذ کیا جاتا ہے اور اس طرح کھیتوں سے باہر روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور فوڈ پروسیسنگ(ڈبہ بند خوراک)  کے شعبہ کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے ۔

یہ معلومات ڈبہ بند خوراک کی صنعت کے وزیر مملکت جناب رونیت سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔

***

 

ش ح۔ م ع ن۔ ج ا

Uno-7412


(रिलीज़ आईडी: 2264021) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी