سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
صاف توانائی کے ذخیرے کے لیے کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی والےتھرمل بیٹری مواد کی تیاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 MAY 2026 10:33AM by PIB Delhi
محققین نے ایک کم لاگت اور مؤثر تھرمل انرجی اسٹوریج (حرارتی توانائی ذخیرہ کرنے) کا ایسا مواد تیار کیا ہے جو کنسنٹریٹڈ سولر پاور پلانٹس اور صنعتی فضلے کی حرارت کو دوبارہ استعمال کرنے والے نظاموں میں استعمال ہونے والی تھرمل بیٹریوں کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔
مؤثر تھرمل انرجی اسٹوریج (ٹی ای ایس) نظام کنسنٹریٹڈ سولر پاور (سی ایس پی) کے بہتر استعمال اور صنعتی فضلے کی حرارت کو محفوظ کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ سائنس دان ایسے مواد کی تیاری پر کام کر رہے ہیں جن میں مخصوص حرارت رکھنے کی صلاحیت ،حرارت منتقل کرنے کی صلاحیت اور آپریٹنگ درجہ حرارت کی وسیع حد بہتر ہو، تاکہ ٹی ای ایس نظام کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
انڈین ڈیپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے تحت کام کرنے والے خودمختار ادارے انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر فار پاؤڈر میٹالرجی اینڈ نیو میٹریلز (اے آر سی آئی) کے محققین نے ایک کم لاگت اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے کے قابل طریقہ کار تیار کیا ہے، جس کے ذریعے اسپنل نینو کمپوزٹ فیز چینج میٹریل (پی سی ایم) تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس مواد میں تھرمل انرجی اسٹوریج کے لیے مخصوص حرارت رکھنے کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر مانی کارتھک کی قیادت میں اے آر سی آئی (اے آر سی آئی) کی ٹیم نے ایک سادہ رسوبی عمل جس میں تحلیل شدہ مادہ آپس میں مل کر ٹھوس ذرات کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور نیچے بیٹھ جاتا ہے،طریقہ استعمال کرتے ہوئے اسپنل قسم کے دھاتی آکسائیڈ نینو ذرات تیار کیے، جن کے ذرّات کے سائز کو کنٹرول کیا گیا تھا۔ یہ نینو میٹریلز بہترین حرارتی استحکام اور یکساں پھیلاؤ کی خصوصیات کے حامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ اعلیٰ کارکردگی والے نینو کمپوزٹ فیز چینج میٹریل (پی سی ایم) تیار کرنے کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔
صرف ایک فیصد اسپنل آکسائیڈ نینو ذرات کو پی سی ایم میں شامل کرنے سے اس نینو کمپوزٹ فیز چینج میٹریل کی مخصوص حرارت رکھنے کی صلاحیت، یعنی حرارتی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، میں 45 فیصد تک نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جب اس کا موازنہ نینو کمپوزٹ کے بغیر پی سی ایم سے کیا گیا۔

شکل: (الف) اسپنل نینو ذرات کی ہائی ریزولوشن ٹرانسمیشن الیکٹران مائیکروسکوپی (ایچ آر-ٹی ای ایم) تصویر، (ب) اسپنل نینو ذرات کا منتخب علاقائی الیکٹران پھیلاؤ (ایس اے ای ڈی) پیٹرن، (ج) تفریقی اسکیننگ کیلوریمیٹری(ڈی ایس سی) پروفائل، (د) اسپنل-پی سی ایم نینو مرکب کی مخصوص حرارت(سی پی) میں اضافہ۔
جب یہ نینو ذرات فیز چینج میٹریل (پی سی ایم) میں اچھی طرح منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ مخصوص سطحی رقبہ میں اضافہ کر کے اس کی حرارتی خصوصیات کو نمایاں طور پر بہتر بنا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انٹرفیس پر ایک مستحکم اسپنل آکسائیڈ تہہ تشکیل پاتی ہے، جو سطحی توانائی میں اضافہ کرتی ہے اور بنیادی پی سی ایم کے مقابلے میں اس نینو مرکب کی زیادہ مخصوص حرارت رکھنے کی صلاحیت میں کردار ادا کرتی ہے۔
نتیجتاً یہ مواد فی اکائی کے وزن سے زیادہ حرارتی توانائی ذخیرہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے، جس سے توانائی ذخیرہ کرنے کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ اس بہتری کے باعث چھوٹے سائز کے اسٹوریج ٹینک درکار ہوتے ہیں جن میں کم تعمیراتی مواد استعمال ہوتا ہے، اور اس طرح سرمایہ جاتی اور آپریشنل دونوں اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایک کمپیکٹ اور کم لاگت حرارتی توانائی ذخیرہ کرنے کا حل فراہم کرتی ہے، جو اگلی نسل کے اعلیٰ کارکردگی والے مواد کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
یہ تحقیق جرنل "میٹیریلز ٹوڈے کیمسٹری" (ایلسویئر) میں شائع ہوئی ہے اور بھارت کے صاف توانائی کے اہداف اور "آتم نربھر بھارت" اقدام سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ یہ اگلے سلسلے کے توانائی ذخیرہ کرنے والے مواد میں مقامی مہارت کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، ان مواد کی اعلیٰ حرارتی صلاحیت زیادہ کمپیکٹ، اعلیٰ کارکردگی والے اور کم لاگت حرارتی توانائی ذخیرہ سسٹم کے فروغ کی راہ ہموار کرتی ہے۔
اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1016/j.mtchem.2025.103282
***
ش ح۔ع و۔ش ا
UN-7406
(ریلیز آئی ڈی: 2263985)
وزیٹر کاؤنٹر : 13