سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی تحقیق نے سورج کے کورونا کے پراسرار حد تک زیادہ درجہ حرارت کے مسئلے کو سمجھنے میں اہم پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 MAY 2026 4:16PM by PIB Delhi

ایک نئی تحقیق نے سورج کے بیرونی ماحول یعنی کورونا میں چھپی ہوئی ٹربولنس کو دریافت کرنے کا ایک نیا طریقہ پیش کیا ہے، جو اس دیرینہ سوال کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کورونا کا درجہ حرارت سورج کی نظر آنے والی سطح کے مقابلے میں کہیں زیادہ کیوں ہوتا ہے۔

سورج کا بیرونی ماحول، یعنی کورونا، مقناطیسی ڈھانچوں سے بھرا ہوتا ہے جو مسلسل لہروں کی صورت میں حرکت کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سب سے عام لہریں ٹرانسورس میگنیٹو ہائیڈروڈائنامک (ایم ایچ ڈی) لہریں ہیں، جنہیں عموماً الفوینک یا کنک لہریں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لہریں مقناطیسی ڈھانچوں کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف بڑھتے ہوئے انہیں ایک طرف سے دوسری طرف جھولنے پر مجبور کرتی ہیں۔

طیفی مشاہدات کے مطابق یہ لہریں ریڈ اور بلیو ڈوپلر شفٹس پیدا کرتی ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ پلازما مقناطیسی میدان کے عموداً آگے پیچھے حرکت کر رہا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح طور پر ثابت نہیں ہو سکا کہ کیا یہ لہریں سورج کے طیفی خطوط کی شکل میں تبدیلی پیدا کر سکتی ہیں اور  گوسین  پروفائل میں قابلِ پیمائش عدم توازن پیدا کر سکتی ہیں یا نہیں۔

اب تک کے مشاہدات میں کورونا اور ٹرانزیشن ریجن کے طیفی خطوط میں اکثر بلیو سائیڈ کی طرف جھکاؤ دیکھا گیا ہے، جسے عموماً اوپر کی طرف بہاؤ، جیٹس یا مقناطیسی میدان کے ساتھ مادّے کی حرکت سے جوڑا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ٹرانسورس لہروں کو عام طور پر تقریباً غیر دباؤ پذیرسمجھا جاتا ہے، اس لیے ان سے واضح طیفی عدم توازن پیدا ہونے کی توقع نہیں کی جاتی، اسی لیے ان کے کردار پر کم توجہ دی گئی ہے۔

حال ہی میں محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے تحت آریہ بھٹ  ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزروییشنل سائنسز (اے آر آئی ای ایس)، نینی تال اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی) دہلی کے محققین نے ایک مشترکہ تحقیق میں جدید سہ بعدی(ایم ایچ ڈی) سمولیشنز اور فارورڈ ماڈلنگ کے ذریعے اس مسئلے کا مطالعہ کیا۔ اس تحقیق میں اے آر آئی ای ایس کی پی ایچ  ڈی کی طالبہ محترمہ امبیکا  سکسینہ آئی آئی ٹی دہلی کے محکمہ فزکس کے پروفیسر ویبھو پنت شامل تھے۔ انہوں نے کھلے مقناطیسی میدان والے کورونا کے ایک حصے کی ماڈلنگ کی، جس میں کثافت کی غیر یکسانیت موجود تھی۔ اس میں نیچے کی سطح سے ٹرانسورس لہریں پیدا کی گئیں اور انہیں اوپر کی طرف بڑھنے دیا گیا۔ بعد ازاں فارورڈ ماڈلنگ کے ذریعے یہ جانچا گیا کہ یہ پلازما اخراج Fe XIII 10749 Å جیسی عام مشاہداتی طیفی لائن میں کیسے نظر آئے گا۔

شکل 1: سمولیشن کا ابتدائی نقطہ

یہ تصویر دکھاتی ہے کہ پلازما ابتدا میں کس طرح ترتیب دیا گیا ہے۔ اوپر کی سمت سورج کے ماحول میں بلندی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ دھبہ دار نمونہ ساخت کے اندر کثافت میں تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

یہ تحقیق جو فلکیاتی جریدہ میں شائع ہوئی ہے  اور جس میں سمولیشنز سے ایک مستقل رجحان سامنے آیا۔ جب ٹرانسورس لہریں ایک منظم مقناطیسی پلوم  کے ساتھ ساتھ حرکت کرتی ہیں تو اس کے اندر موجود پلازما یکساں طور پر حرکت نہیں کرتا۔ پلوم کے کراس سیکشن میں کثافت کی تبدیلیاں موجود ہوتی ہیں، اور جیسے جیسے لہر آگے بڑھتی ہے، فیز مکسنگ کے ذریعے مزید باریک ساخت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ یہ عمل ٹربولنس کی تشکیل کا باعث بنتا ہے، جس سے مقناطیسی ساخت کے اندر چھوٹے پیمانے پر رفتار اور کثافت کی پیچیدہ تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔

چونکہ سورج کا کورونا آپٹیکلی باریک ہوتا ہے، اس لیے ساخت کے مختلف حصوں سے آنے والی روشنی ایک ہی لائن آف سائٹ میں مل جاتی ہے۔ مختلف علاقے ایک ہی وقت میں مختلف رفتار سے حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔ جب یہ تمام اخراج ایک ساتھ جمع ہوتا ہے تو نتیجے میں حاصل ہونے والی طیفی لکیر مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں رہتی۔ اس کے بجائے اس میں نیلے اور سرخ حصوں میں باری باری عدم توازن پیدا ہوتے ہیں، جو وقت اور بلندی کے ساتھ اس وقت تبدیل ہوتے رہتے ہیں جب لہر اوپر کی طرف سفر کرتی ہے۔

 

شکل 2: شعاعی بلندی کے ساتھ طیفی عدم توازن (spectral asymmetry) کی تبدیلی

پینل (1) اور (2) سمولیشن میں دو مختلف بلندیوں پر لیے گئے اسنیپ شاٹس کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ نقشے دکھاتے ہیں کہ مختلف رفتار سے حرکت کرنے والا پلازما مشاہداتی سگنل میں کس طرح حصہ ڈالتا ہے۔ یہ نمونے ان پیچیدہ حرکات کی عکاسی کرتے ہیں جو پھیلتی ہوئی لہر کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔

 

اہم بات یہ ہے کہ یہ طیفی عدم توازن خود بخود پیدا ہوتا ہے، جو ٹرانسورس لہروں کی حرکیات، کراس سیکشن میں غیر یکسانیت اور لہر سے پیدا ہونے والی ٹربولنس کے مشترکہ اثرات کا نتیجہ ہے۔ سمولیشن میں یہ عدم توازن لائن کی زیادہ سے زیادہ شدت کے تقریباً 20 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس میں ظاہر ہونے والی ثانوی رفتاریں 30 سے 40 کلومیٹر فی سیکنڈ تک دیکھی گئیں۔ مزید یہ کہ سرخ اور نیلے عدم توازن کا متبادل پیٹرن خود لہر کے ساتھ ساتھ باہر کی طرف حرکت کرتا ہے۔یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ صرف پھیلتی ہوئی ٹرانسورس(  ایم ایچ ڈی )لہریں بھی منظم طور پر باری باری سرخ اور نیلے طیفی عدم توازن پیدا کر سکتی ہیں۔ ڈی کے آئی ایس ٹی جیسے جدید اور اعلیٰ ریزولوشن مشاہداتی آلات کی مدد سے اب اس مظہر کا براہِ راست مشاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، جو سورج کے کورونا میں موجی حرکیات کو سمجھنے کے لیے ایک نیا ذریعہ فراہم کرے گا۔

تحقیق کے لنک کے لیے یہاں کلک کریں: https://iopscience.iop.org/article/10.3847/1538-4357/ae2482

*****

 (ش ح ۔ت ف ۔م ذ)

U. No.7325


(ریلیز آئی ڈی: 2263369) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil