راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
azadi ka amrit mahotsav

ٹرانسپورٹ، سیاحت اور ثقافت سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 387ویں، 388ویں، 389ویں، 390ویں اور 391ویں رپورٹس کے بارے میں پریس ریلیز

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 6:40PM by PIB Delhi

ٹرانسپورٹ، سیاحت اور ثقافت سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی، جس کی صدارت جناب سنجے کمار جھا، رکن پارلیمان (راجیہ سبھا) کر رہے ہیں، نے بدھ، 25 مارچ ،  2026 ء کو اپنی 387ویں سے 391ویں رپورٹس بالترتیب راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں پیش  کی اور ایوان کے میز پر رکھی ۔ یہ رپورٹس کمیٹی نے  بروز پیر،  23 مارچ  ، 2026  ء کو منظور کی تھیں۔ رپورٹس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  1. وزارت شہری ہوابازی کے مطالباتِ زر  ( 27-2026 ء )   سے متعلق 387ویں رپورٹ؛
  2. وزارت ثقافت کے مطالباتِ زر ( 27-2026 ء )   سے متعلق 388ویں رپورٹ؛
  3. وزارت بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گذرگاہوں کے مطالباتِ زر ( 27-2026 ء )    سے متعلق 389ویں رپورٹ؛
  4. وزارت سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مطالباتِ زر ( 27-2026 ء )    سے متعلق 390ویں رپورٹ؛ اور
  5. وزارت سیاحت کے مطالباتِ زر ( 27-2026 ء )   سے متعلق 391ویں رپورٹ۔

 

  1. کمیٹی نے مالی سال ( 27-2026 ء )    کے لیے مذکورہ پانچ وزارتوں کے مطالباتِ زر کا جائزہ لیا، متعلقہ وزارتوں کے نمائندوں کے زبانی بیانات سنے، اور ان کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلی تحریری مواد کا معائنہ کیا۔ بعد ازاں کمیٹی نے ان رپورٹس کو منظور کر لیا۔ رپورٹس میں شامل اہم مشاہدات اور سفارشات منسلک ہیں۔

اہم مشاہدات / سفارشات — ایک نظر میں

A۔  رپورٹ نمبر 387: وزارت شہری ہوابازی   (  مطالبہ نمبر 8؛ 2,102.87 کروڑ روپے )

  1. محفوظ ہوا بازی  کے لیے آزاد اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل:  ڈی جی سی اے کے 754 طیاروں کے آڈٹ میں 377 طیاروں (50 فی صد) میں بار بار سامنے آنے والی خامیاں پائی گئیں۔ احمد آباد طیارہ حادثہ (260 ہلاکتیں)، ایک ہی سال میں تقریباً 100 حفاظتی کوتاہیاں اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی پر 19 نوٹس ایک منظم اور تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ محفوظ ہوابازی کے  لیے جامع جائزے کے لیے ایک آزاد اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔  (  پیرا 6.6.1 تا 6.6.2 )
  2.  اُڑان اسکیم کا باضابطہ موثر جائزہ: آر سی ایس-اُڑان اسکیم کے تحت 657 روٹس فعال کیے جا چکے ہیں، جب کہ مجموعی اخراجات 9,200 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ تاہم وزارت نے تسلیم کیا ہے کہ وی جی ایف سبسڈی مدت مکمل ہونے کے بعد روٹس کے لیے کوئی منظم اخراجی حکمتِ عملی موجود نہیں ہے ۔ 150 سے زائد منظور شدہ روٹس اب تک شروع نہیں ہو سکے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایک آزاد اور باضابطہ  موثر جائزہ کرایا جائے، جس میں فی مسافر لاگت، ہر روٹ کی مالی عمل درآمد  اور خود کفیل بننے والے روٹس کے تناسب کا جائزہ شامل ہو۔ (  پیرا 6.2.1 تا 6.2.2 )
  3.  ڈی جی سی اے کے افرادی قوت سے متعلق منصوبے کی تیاری: ڈی جی سی اے میں 1,630 منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے میں صرف 843 اہلکار تعینات ہیں، جس کے باعث خالی آسامیوں کی شرح 48.3 فی صد ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ڈی جی سی اے بھرتیوں اور ڈیپوٹیشن کے لیے ایک جامع اور وقت مقررہ پر منصوبہ تیار کرکے پیش کرے تاکہ خالی آسامیوں کا مسئلہ حل کیا جا سکے۔ (  پیرا 6.3.1 تا 6.3.2 )
  4.  مسافروں کے حقوق  سے متعلق چارٹر: بھارت میں سالانہ 35 کروڑ سے زائد ہوائی  سفر کرنے والے مسافروں کے باوجود مسافروں کے حقوق سے متعلق کوئی باقاعدہ قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے ۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ بھارتیہ وایو  یان ادھینیم  2024 کے تحت مسافروں کے حقوق  سے متعلق   ایک با ضابطہ چارٹر    تیار کیا جائے، جس میں معاوضہ، پرواز میں تاخیر سے متعلق بندوسبت اور جوابدہی کے معیارات شامل ہوں۔ (  پیرا 6.6.5 تا 6.6.6  )
  5.  اے اے آئی کی سرمایہ کاری کو پارلیمانی نگرانی میں لانا:ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا ( اے اے آئی )  نے مالی سال 25-2024 ء   میں 20,648.25 کروڑ روپے کی آمدنی اور 7,233.28 کروڑ روپے منافع رپورٹ کیا لیکن اس کی 4,699.92 کروڑ روپے کی سرمایہ جاتی سرمایہ کاری، جو آئی اینڈ ای بی آر  کے ذریعے کی گئی، مطالباتِ زر کا حصہ نہیں بنتی۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اے اے آئی کے سرمایہ کاری پروگرام کو پارلیمانی سطح پر زیادہ نمایاں اور شفاف بنایا جائے۔  (  پیرا 6.2.9 تا 6.2.10 )

B۔ رپورٹ نمبر 388:  وزارت ثقافت  (  مطالبہ نمبر 18؛ 3,416.63 کروڑ روپے )

  1. یادگاروں کے تحفظ کے لیے ٹکٹ آمدنی مختص کرنے کی سفارش: مرکز کے ذریعے  محفوظ یادگاروں سے ٹکٹوں کی مد میں سالانہ تقریباً 365 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ یہ رقم عمومی سرکاری خزانے میں جمع ہو جاتی ہے اور یادگاروں کے تحفظ پر دوبارہ خرچ نہیں کی جاتی۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اس آمدنی کا ایک حصہ یادگاروں کے تحفظ، دیکھ بھال اور سیاحتی سہولیات کی بہتری کے لیے مخصوص کیا جائے، جس کے لیے علیحدہ اور محفوظ مالیاتی نظام قائم کیا جائے۔ (  پیرا 1.9 )
  2.  16ویں مالیاتی کمیشن کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت کے جائزے کے ساتھ مطالباتی نوٹ:وزارت کی متوقع مالی ضرورت 5,219.97 کروڑ روپے ہے، جو منظور شدہ رقم 3,416.63 کروڑ روپے سے 1,803.34 کروڑ روپے (34.55 فی صد) زیادہ ہے۔ پانچ برسوں میں 12,000 کروڑ روپے کی بنیادی ڈھانچہ جاتی اسکیم زیرِ غور ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اخراجات سے متعلق مالیاتی کمیٹی ( ای ایف سی ) کے نوٹس کے ساتھ نفاذی منصوبہ، اپنانے کے ریاست وار صلاحیت کے منصوبے اور مرکز و ریاست کے درمیان لاگت کی شراکت داری کے واضح فریم ورک شامل کیے جائیں، جنہیں قابلِ پیمائش نتائج سے منسلک کیا جائے۔ ( پیرا 2.4 تا 2.5 )
  3. اے ایم اے ایس آر  ایکٹ میں ترمیم اور یادگاروں میں عملے کی کمی:آثارِ قدیمہ کے محکمے ( اے ایس آئی )  اور تاریخی یادگاروں میں عملہ کی شدید کمی پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض مرکز کے ذریعے  محفوظ یادگاروں پر حفاظتی عملہ بھی موجود نہیں ہے ۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اے ایم اے ایس آر   ایکٹ میں مجوزہ ترمیم جلد منظور کی جائے، یادگاروں کو فہرست سے خارج کرنے کے لیے 90 دن کی مدت کے ساتھ معیاری عملی طریقہ کار ( ایس او پیز )  تیار کیے جائیں اور مرکزی محفوظ یادگاروں کے لیے جامع افرادی قوت منصوبہ بنایا جائے۔ (پیرا 3.14)
  4. سی ایس آر  اورایم پی ایل اے ڈی  کے ذریعے متبادل مالی وسائل کی حکمتِ عملی:کمپنیز ایکٹ 2013 کے شیڈول VII کے تحت مالی سال 23-2022  ء   میں ورثہ، فنون اور ثقافت پر کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ( سی ایس آر )  کے تحت تقریباً 441 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ عجائب گھروں، کتب خانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سی ایس آر  شراکت داری کا خصوصی منصوبہ بنایا جائے، اور ایم پی ایل اے ڈی  اسکیم کے تحت ثقافتی ورثے کو قابلِ اخراجات مد میں شامل کرنے کی تجویز دی جائے۔( پیرا 1.14)
  5.  خود مختار اداروں کے لیے جی آئی اے  تنخواہوں میں کمی:گرانٹ اِن ایڈ ( جی آئی اے )  کے تنخواہ جاتی فنڈ کو 429 کروڑ روپے سے کم کرکے 352 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، یعنی 77 کروڑ روپے (17.95 فی صد) کی کمی۔ یہ 34 ایسے خود مختار اداروں کو متاثر کرتا ہے  ، جو مکمل طور پر حکومتی گرانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ادارہ وار فنڈ کی تفصیل، موجودہ خالی آسامیوں کی صورتِ حال اور اس کمی کے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے۔(پیرا 1.16 )

C - رپورٹ نمبر 389:  بندرگاہوں ، جہازرانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت (مطالبہ نمبر 78؛ 5,164.80 کروڑ روپے)

  1. جہاز سازی سے متعلق نئی اسکیموں کے لیے ٹاسک فورس:تین نئی منظور شدہ اسکیمیں ( ایس بی ایف اے ایس  ، ایس بی ڈی ایس ،  ایم ڈی ایف   ) مجموعی طور پر 1,765 کروڑ روپے ( نیٹ جی بی ایس  کا 34 فی صد)  کی حامل ہیں، تاہم ان کے عملی رہنما اصول 26 دسمبر  ، 2025 ء کو جاری کیے گئے۔ نیشنل شپ بلڈنگ مشن، جسے مرکزی رابطہ کار ادارہ مقرر کیا گیا ہے، تاحال باضابطہ طور پر تشکیل نہیں دیا گیا۔ بھارت  کا ، عالمی جہاز سازی  سے متعلق  صلاحیت میں 1 فی صد سے بھی کم  حصہ ہے۔ کمیٹی نے وقت مقررہ اہداف کے ساتھ ایک خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کی سفارش کی ہے۔ (پیرا 2.3)
  2.  بندرگاہ کی صلاحیت کے استعمال کا آڈٹ اور جے این پی اے–ڈی ایف سی ریل لنک:بڑے بندرگاہوں کی کارگو ہینڈلنگ صلاحیت 1,681 ایم ٹی پی اے تک پہنچ چکی ہے، جب کہ اصل تھروپٹ 854.86 ایم ایم ٹی ہے، جو 50 سے  60 فی صد صلاحیت کے استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔ جے این پی اے کو ڈی ایف سی سے منسلک نہ کرنے کے باعث اس کی مسابقتی حیثیت مندڑا کے مقابلے میں کمزور ہوئی ہے۔ کمیٹی نے تمام 12 بڑے بندرگاہوں کا صلاحیت کے لحاظ سے  استعمال  کا آڈٹ کرنے اور جے این پی اے–ڈی ایف سی ریل لنک کو تیز کرنے کی سفارش کی ہے۔ (پیرا 3.7)
  3. بحری لچک اور تجارتی تنوع کا فریم ورک:مغربی ایشیا کے تنازع کے باعث فروری  ، 2026 ء سے  بحرِ احمر میں جہاز رانی متاثر ہوئی ہے ، جس سے سفر کے دورانیے میں 10 سے  14 دن کا اضافہ ہوا   ہے اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں 58.4 فی صد اضافہ ہوا ہے ۔ بھارت کے صرف 5 فی صد برآمدی و درآمدی ( ایگزم )  کارگو کی نقل و حمل بھارتی پرچم بردار جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ کمیٹی نے بحری لچک اور تجارتی تنوع کے فریم ورک ( ایم آر ٹی ڈی ایف )  کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔ (پیرا 7.3)
  4.  کالو گھاٹ انٹرموڈل ٹرمینل کا آزادانہ جائزہ:نیشنل واٹر وے-1 پر واقع کالو گھاٹ ٹرمینل میں 125 کروڑ روپے سے زائد سرمایہ کاری کے باوجود اب تک کوئی جہاز نہیں آیا۔ اندرونی آبی راستوں کی تقریباً 85 فی صد ٹریفک صرف 32 میں سے پانچ آبی گزر گاہوں تک محدود ہے۔ کمیٹی نے ہائیڈرو لوجیکل فزیبلٹی کے آزادانہ جائزے اور برہمپتر دریا  کی  جہاز رانی کے قابل معاون  ندیوں کے مطالعات کی سفارش کی ہے۔ (پیرا 5.5)
  5.  ساگر مالا کے نفاذ کا جائزہ:تقریباً ایک دہائی گزرنے کے باوجود ساگر مالا کے 839 منصوبوں میں سے صرف 277 (33 فی صد) مکمل ہوئے ہیں  ، جب کہ 353 منصوبے اب بھی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ کمیٹی نے عمل درآمد میں رکاوٹوں کے جامع جائزے اور وقت مقررہ  پر اہداف کے ساتھ نظرثانی شدہ نفاذ  کے  روڈ میپ کی سفارش کی ہے۔ (پیرا 3.10)

D ۔ رپورٹ نمبر   390 : بندرگاہوں ، جہازرانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت  ( مطالبہ نمبر 86؛ 2,94,167.45 کروڑ روپے )

  1. قابلِ پیمائش روڈ سیفٹی اہداف اور نیشنل ہائی وے سیفٹی پٹرول: سال  ، 2024 ء میں  ، بھارت میں تقریباً 4.73 لاکھ سڑک حادثات اور 1.70 لاکھ اموات  درج کی گئیں ، جن میں  قومی شاہراہوں  پر 52,600 سے زائد اموات شامل ہیں۔ 27-2026 ء   کے آؤٹ کم آؤٹ آف آؤٹ میچ فریم ورک ( او او ایم ایف )  میں حادثات اور اموات میں کمی کے اہداف غیر واضح اور محض عارضی پلیس ہولڈرس  کے طور پر درج ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ آؤٹ کم بجٹ کے تحت ہر سال کمی کے واضح اور قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں اور زیادہ حادثات والے ہائی وے کاریڈورز پر ایک خصوصی نیشنل ہائی وے سیفٹی پٹرول قائم کیا جائے۔ (پیرا 5.1 اور 5.10)
  2. ’’کمپلیشن فرسٹ ‘‘   پروٹوکول اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا  کے لیے ڈبلیو آئی پی  لیکویڈیشن پلان: این ایچ اے آئی ، اس وقت 27,597 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کا انتظام کر رہا ہے، جس کی مجموعی لاگت 7.72 لاکھ کروڑ روپے ہے، جب کہ تقریباً 13,228 کلومیٹر ابھی زیرِ تعمیر ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ نئے معاہدوں کے اجرا ء کو  ، اس شرط  کے ساتھ مشروط کیا جائے کہ پہلے موجودہ زیر التواء  منصوبوں میں پیش رفت ثابت ہو اور ایک ڈبلیو آئی پی  ( ورک اِن پروگریس )  لیکویڈیشن پلان تیار کیا جائے  ، جو ان حصوں کی نشاندہی کرے  ، جو انٹریسٹ ڈیورنگ کنسٹرکشن کی وجہ سے لاگت میں اضافے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ (  پیرا 3.4 اور 3.4 اے )
  3.  زیرو بیسڈ منٹیننس بجٹنگ :منٹیننس کے مد میں 25-2024 ء   میں 86.4 فی صد اضافہ دیکھا گیا (2,500 کروڑ روپے سے بڑھ کر 4,660 کروڑ روپے تک)، جو ردِعمل پر مبنی بجٹنگ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈیمانڈز فار گرانٹس میں 6,000 کروڑ روپے دکھائے گئے  ، جب کہ زبانی شواہد میں 10,000 کروڑ روپے کا ذکر کیا گیا، جس سے تضاد ظاہر ہوتا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ انٹرنیشنل روفنیس انڈیکس ڈیٹا اور نیٹ ورک سروے وہیکل کے ڈیٹا کی بنیاد پر زیرو بیسڈ منٹیننس بجٹنگ اپنائی جائے اور کل اخراجات کی تفصیلی ریکنسلی ایشن (تطبیق) کی جائے۔ (پیرا 1.11–1.12)
  4. ’’  لاسٹ مائل ٹاسک فورس ‘‘   برائے بھارت مالا اور پورٹ کنکٹیویٹی مشن:بھارت مالا فیز-I کا ہدف 34,800 کلومیٹر تھا، جس میں سے 21,785 کلومیٹر  (63 فی صد) مکمل ہو چکا ہے ۔ پورٹ کنیکٹیویٹی سڑکوں کی پیش رفت صرف 45 فی صد ہے (348 کلومیٹر میں سے 157 کلومیٹر مکمل)۔ موجودہ سال میں تعمیراتی ہدف 10,000 کلومیٹر تھا لیکن صرف 6,346 کلومیٹر مکمل ہو سکا، جو 36.5 فی صد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ کمیٹی نے باقی 13,015 کلومیٹر کے لیے ایک ’’  لاسٹ مائل ٹاسک فورس ‘‘   اور بندرگاہی رابطے کے لیے بندرگاہوں ، جہازرانی اور آبی گزر گاہوں کی وزارت   کے ساتھ مشترکہ پورٹ کنیکٹیویٹی مشن قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ (  پیرا 3.6، 3.6اے  اور 4.4 )
  5.  واہن-انشورنس اے پی آئی  انضمام اور نیشنل کیلیبریشن اسٹینڈرڈ: واہن ڈیٹا بیس  میں 41 کروڑ سے زائد گاڑیوں کے ریکارڈ موجود ہیں، لیکن یہ انشورنس ڈیٹا سے الگ نظام میں کام کرتا ہے۔ 25 ریاستوں میں نافذ آئی ٹی ایم ایس  سے جاری ای-چالانز کی قانونی حیثیت ڈیجیٹل آلات کی کیلیبریشن کی درستگی پر منحصر ہے، جب کہ اس کے لیے کوئی قومی معیار موجود نہیں ہے ۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ انشورنس انفارمیشن بیورو آف انڈیا  کے ساتھ ریئل ٹائم اے پی آئی  انٹیگریشن کیا جائے تاکہ غیر بیمہ شدہ گاڑیوں کی خودکار شناخت ہو سکے اور لیگل میٹرولوجی ایکٹ کے تحت ڈیجیٹل انفورسمنٹ ڈیوائسز کے لیے نیشنل کیلیبریشن اسٹینڈرڈ جاری کیا جائے۔ (پیرا 7.1–7.2)

E۔  رپورٹ نمبر 391: وزارتِ سیاحت (مطالبہ نمبر 99؛ 2,438.40 کروڑ روپے)

  1. انڈیا ٹورزم پروموشن بورڈ اور مخصوص  رِنگ – فینسڈ     تشہیری بجٹ:سال 27-2026 ء   میں مارکیٹنگ اور تشہیری سرگرمیوں کے لیے کوئی اضافی فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ بیرونِ ملک پروموشن اور پبلسٹی کے لیے مختص 3.50 کروڑ روپے مکمل طور پر لازمی یو این ورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن  شراکت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایک ’’  انڈیا ٹورزم پروموشن بورڈ ‘‘   قائم کیا جائے اور تشہیری بجٹ کو ایک مستقل ( کمیٹیڈ )  ملٹی ائیر لائن آئٹم کے طور پر محفوظ کیا جائے، جس کی کم از کم حد کل سیاحت انفراسٹرکچر اخراجات سے منسلک ہو۔  (  پیرا 1.4–1.4 اے )
  2.  سہ ماہی اخراجات میں نظم و ضبط کا فریم ورک:سال 25-2024 ء  میں فنڈز کا استعمال صرف 6.6 فی صد رہا (2,479.62 کروڑ روپے کے بجٹ میں سے 164.07 کروڑ روپے)۔  فنڈس کا یہ  کم استعمال پچھلے تین سالوں سے مسلسل جاری ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ 20 فی صد پہلی سہ ماہی میں، 25 فی صد دوسری میں اور 30 فی صد تیسری  سہ ماہی میں  ایک لازمی سہ ماہی اخراجاتی شیڈول نافذ کیا جائے  ۔ اس کے ساتھ ایک ڈیجیٹلائزڈ یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ ( یو سی )  جمع کرانے کا پورٹل بنایا جائے، جس میں خلاف ورزی کی صورت میں خودکار طور پر ریاستی چیف سیکرٹریز کو اطلاع  بھیجی جائے۔ (پیرا 1.11)
  3.  سو دیش درشن اور سی بی ڈی ڈی کے لیے کارکردگی سے منسلک منصوبہ جاتی منظوری: سو دیش درشن اسکیم  اورسی بی ڈی ڈی  کے تحت جاری 91 فعال منصوبوں میں سے 84.6 فی صد ابھی 25 فی صد سے کم  مکمل ہونے باقی  ہیں۔ صرف 7 منصوبے 31 مارچ  ، 2026  ء تک مکمل ہونے کی توقع  ہے ۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ آئندہ منصوبوں کی منظوری کو ریاستوں کی کارکردگی سے مشروط کیا جائے، جس میں فنڈز کے استعمال، پیش رفت اور دیکھ بھال  کے معیار کو شامل کیا جائے۔ (پیرا 2.7)
  4.  بھارتی سفارت خانوں میں ٹورزم افسران اور آیوروید/یوگا  ٹورزم حکمتِ عملی:بھارت میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد اور زرمبادلہ آمدنی میں کمی دیکھی گئی ہے، جب کہ عالمی سیاحت میں بھارت کا حصہ 2 فی صد سے کم ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اہم سورس مارکیٹس میں واقع بھارتی سفارت خانوں میں مخصوص ٹورزم افسران تعینات کیے جائیں اور آیوروید اور یوگا  سے متعلق سیاحت کے لیے  فروغ کی خاطر ایک خصوصی حکمتِ عملی تیار کی جائے، جس میں وزارتِ آیوش کے ساتھ اشتراک شامل ہو۔ (  پیرا 1.4اے  اور 6.3 )
  5. پرشاد  منصوبوں کے لیے قبل از منظوری ڈیو ڈیلیجنس: پرشاد اسکیم  کے تحت گوا میں بوم جیسس باسیلیکا منصوبہ (16.46 کروڑ روپے) آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے اقدامات کے بعد تقریباً 24 فی صد تک پہنچ کر رک گیا۔ آندھرا پردیش کے انناورم ٹیمپل ٹاؤن منصوبہ (25.33 کروڑ روپے) دیر سے ٹینڈرنگ کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ تمام نئے پرشاد  منصوبوں کے لیے زمین کی واضح ملکیت اور بین ادارہ جاتی منظوریوں کو لازمی شرط بنایا جائے اور کسی بھی استثنیٰ  کے لیے 30 دن کا معیاری طریقہ کار ( ایس او پی ) مقرر کیا جائے۔ (پیرا 2.11)

تمام رپورٹس یہاں بھی دستیاب ہیں:

https://sansad.in/rs Committees Department related RS Committee on Transport, Tourism and Culture Reports

................................................................

) ش ح –  ض ر -  ع ا )

U.No. 7324


(ریلیز آئی ڈی: 2263363) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी