وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

جناب دھرمیندر پردھان نے بھارت انوویٹس 2026 کے تحت  بھارت کی پہلی سی  سی یو ایس فیلڈ لیباریٹری کا افتتاح کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAY 2026 6:00PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان نے آج آئی آئی ٹی بامبے  میں بھارت انوویٹس  2026 کے تحت بھارت کی پہلی مربوط سی سی یو ایس فیلڈ لیباریٹری  مرکز کا افتتاح کیا ۔

تقریب کا انعقاد حکومت ہند    کی وزارت تعلیم  کے  اعلیٰ  تعلیم  کے محکمے کے سکریٹری جناب ونیت جوشی   ؛ پروفیسر شیریش کیدارے ، ڈائریکٹر ، آئی آئی ٹی بامبے ؛ پروفیسر ملند اترے  ، ڈپٹی ڈائریکٹر (اکیڈمکس ، ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن) پروفیسر رویندر گڑی ، ڈپٹی ڈائریکٹر (فائنانس ، انفراسٹرکچر اینڈ ایڈمنسٹریشن) انسٹی ٹیوٹ کے عہدیداروں ، اساتذہ ، عملے اور طلباء  اور صنعت کے پیشہ ور افراد ،  حکومت کے دیگر نمائندوں اور کاروباری افراد کی موجودگی میں کیا گیا ۔

 

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے  ، جناب دھرمیندر پردھان نے کہا کہ یہ لانچ بھارت کے صاف ستھرے توانائی اختراعی ماحولیاتی نظام کو  فروغ دینے میں ایک اہم سنگ میل ہے ۔ انہوں نے اعلیٰ درجے کی تحقیق کو قابل توسیع قومی صلاحیت میں تبدیل کرنے کے لیے ایس آئی این ای ، آئی آئی ٹی بامبے  میں انکیوبیٹڈ اُورجا  نووا  سی کے تئیں  نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ  اس سے  ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں بھارت کی بڑھتی ہوئی قوت  کی عکاسی ہوتی ہے ، جو اختراع ، پیمانے اور طویل مدتی ویژن سے کارفرما ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی طرف سے اعلان کردہ بھارت کے پنچ امرت وعدوں اور  2070 ء تک  کاربن  کے صفر اخراج کے اہداف کو حاصل کرنے کا قومی ہدف  ، پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی کی طرف ایک واضح راستے کی وضاحت کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ  سودیشی سائنس اور تکنیکی صلاحیت سے چلنے والی اس تبدیلی میں سی سی یو ایس اہم کردار ادا کرے گا ۔

جناب پردھان نے یہ بھی کہا کہ  اس کامیابی  سے این ای پی  2020  ء کے وسیع تر ویژن کی عکاسی  ہوتی ہے ، جس کا مقصد  ایسے ادارے  قائم کرنا ہے  ، جو نہ صرف علم   کی ترسیل کرتے ہیں بلکہ اختراع ، انٹرپرائز اور تحقیق پر مبنی حل کے ذریعے قومی صلاحیت  کو بھی  فروغ دیتے  ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت  کے پاس پائیدار ٹیکنالوجیز میں عالمی رہنما کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت ، پیمانے اور سائنسی صلاحیت موجود ہے ۔

تعلیمی اداروں ، صنعت ، پالیسی سازوں اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  ، جناب پردھان نے کہا کہ اس طرح کی شراکت داری وکست بھارت  2047 کے لیے  ، اس  صلاحیت کو بامعنی قومی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی سی یو ایس فیلڈ لیباریٹری  مرکز کا آغاز ، اس سمت میں ایک ٹھوس قدم ہے ۔

محکمۂ  اعلی تعلیم کے سکریٹری جناب ونیت جوشی نے کہا کہ آئی آئی ٹی بامبے  یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح تعلیمی ادارے ، صنعت اور پالیسی کاربن کیپچر اور استعمال میں اختراع کے ذریعے پائیداری کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے یکجا ہو سکتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ  اس پہل  سے قومی تعلیمی پالیسی  2020 کے ویژن کی عکاسی  ہوتی ہے اور ملک بھر کے دیگر اداروں کے لیے ایک روڈ میپ کے طور پر کام کر سکتی ہے کیونکہ بھارت  ، وکست بھارت  2047 کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے ۔

 

 

توقع ہے کہ  یہ پہل  اگلی نسل کی کاربن مینجمنٹ ٹیکنالوجیز کے لیے ایک قومی ٹیسٹ بیڈ کے طور پر کام کرے گی اور کلائمیٹ ٹیک انوویشن میں عالمی رہنما کے طور پر بھارت کے ابھرنے کو تیز کرے گی ۔

اس تقریب میں روزانہ 3 ٹن تک کی گنجائش کے ساتھ مقامی طور پر تعمیر شدہ کاربن کیپچر اینڈ یوٹیلائزیشن (سی سی یو) پائلٹ سہولت کا آغاز اور مضبوط اسٹوریج کی نگرانی کے پروٹوکول تیار کرنے کے لیے بیسالٹ فارمیشنوں میں جیولوجیکل سی او 2 سیکویسٹریشن (جی سی ایس) سائنسی ڈرلنگ کا آغاز کیا گیا ۔ یہ اہم  مرکز بھارت کی پہلی اینڈ ٹو اینڈ سی سی یو ایس فیلڈ لیباریٹری  قائم کرتی ہے ، جو کاربن کے استعمال اور مستقل جیولوجیکل سیکویسٹریشن کے ساتھ دیسی کاربن کیپچر ٹیکنالوجی کو مربوط کرتی ہے ۔

اس سہولت  سے ایک خود کفیل ، بند لوپ کاربن تخفیف کے نقطہ نظر کا اظہار ہوتا  ہے  ، جس کی جڑیں مقامی اختراع میں ہیں اور آتم نربھر بھارت کے ویژن کے مطابق ہیں ۔ حکومت ہند ، صنعتی شراکت داروں اور انسٹی ٹیوٹ کے اختراعی ماحولیاتی نظام کے تعاون سے آئی آئی ٹی بامبے  میں تیار کیا گیا یہ پروجیکٹ بھارت کے پنچ امرت آب و ہوا کے وعدوں اور طویل مدتی کاربن کے صفر اخراج کے اہداف ( نیٹ – زیرو )  کی جانب پیشرفت ہے ۔

اس  سہولت کے مرکز میں پانی پر مبنی  ایک جدید  تعامل سی او 2  کیپچر ٹیکنالوجی ہے  ، جو مکمل طور پر آئی آئی ٹی بامبے  میں تیار کی گئی ہے ۔  قابلِ پیمائش  ، پائیدار  اور   موثر لاگت والی پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی ماحول  میں موجود ہوا کے ساتھ ساتھ صنعتی فلو گیسوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو  کیپچر کرنے کے لیے زمین سے بھرپور تعاملی مواد کا استعمال کرتی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ عمل  پینے کے لیے غیر موزوں پانی  (  نان پوٹیبل واٹر ) کے ذرائع جیسے صنعتی فضلہ اور سمندری پانی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے  ، جس سے روایتی کاربن کیپچر  نظام سے وابستہ پانی اور توانائی کے تنازعات میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے ۔ کیپچر کرنے کے بعد ، یہ نظام موثر   تعاملی رد عمل کے ذریعے  کیپچر شدہ سی او 2  کوانتہائی خالص کاربونیٹ اور بائی کاربونیٹ نمکیات میں تبدیل کرکے تیزی سے کاربن ویلورائزیشن کو قابل بناتا ہے ۔ ان ویلیو ایڈڈ منرل پروڈکٹس کو اسٹیل ، سیمنٹ ، پیٹرو  کیمیکلز اور دوا سازی جیسے شعبوں میں براہ راست استعمال کیا جا سکتا ہے ، جس سے اخراج سے دولت کا پائیدار راستہ  بنتا  ہے ۔

اس پہل کا ایک بڑا جزو دکن ٹریپس میں جیولوجیکل سی او  2  سیکویسٹریشن کے لیے سائنسی ڈرلنگ کا آغاز ہے ۔ اس پروجیکٹ کا مقصد  ، بیسالٹک فارمیشنوں میں ذخائر کی خصوصیت اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پر بھارت کا پہلا مقامی تجرباتی ڈیٹا تیار کرنا ہے ۔ محققین انجکٹیویٹی  ، فریکچر پرمیا بیلٹی  ، رد عمل والی سطح کے رقبے اور طویل مدت تک معدنیاتی صلاحیت کو بر قرار رکھنے  کا اندازہ کرنے کے لیے سپر کریٹیکل اور آبی مرحلے والی سی او  2  انجکشن کی حکمت عملیوں کی  جانچ اور موازنہ کریں گے ۔ توقع ہے کہ اس پروجیکٹ سے بیسالٹ کی تشکیل میں ان سیٹو منرل کاربونیشن کے عمل کی سائنسی تفہیم کو نمایاں طور پر تقویت ملے گی ۔ ہوسٹ چٹان کے اندر جیو کیمیکل رد عمل کے ذریعے ، تحلیل شدہ سی او  2  مستحکم کاربونیٹ معدنیات جیسے کیلکائٹ اور میگنیٹ میں تبدیل ہو سکتا ہے ، جو ماحولیاتی رساؤ یا زیر زمین منتقلی کے خطرات کو کم کرتے ہوئے محفوظ اور مستقل ذخیرہ کرنے کے قابل بناتا ہے ۔

مربوط سی سی یو ایس فیلڈ لیباریٹری  تعلیمی اختراع اور صنعتی  استعمال کے درمیان فرق کو ختم کرتے ہوئے ایک بڑی عملی تحقیقی کامیابی کی بھی نمائندگی کرتی ہے ۔ پروفیسر وکرم وشال اور پروفیسر ارنب دتہ کے ذریعہ قائم کردہ سوسائٹی فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ (ایس آئی این ای) آئی آئی ٹی بامبے  میں انکیوبیٹ کردہ ایک ڈیپ ٹیک وینچر اُورجا نووا سی کے ذریعہ اس ٹیکنالوجی کو  تقویت دی جا رہی ہے  اور اسے بھارت انوویٹس  2026  میں سرکردہ اسٹارٹ اپس میں تسلیم کیا گیا ہے ۔

بھارت کے پہلے مربوط سی سی یو ایس فیلڈ لیباریٹری   مرکز کے بارے میں:

انٹیگریٹڈ کاربن کیپچر ، یوٹیلائزیشن اینڈ اسٹوریج (سی سی یو ایس) فیلڈ لیباریٹری   مرکز کا تصور اور ترقی کی قیادت ارتھ سائنسز محکمے کے پروفیسر اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بامبے  میں ڈی ایس ٹی-نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس کے کنوینر پروفیسر وکرم وشال نے کی  ۔ یہ بھارت کا پہلا اینڈ ٹو اینڈ پائلٹ اسکیل پلیٹ فارم ہے  ، جو بیسالٹ فارمیشنز میں جیولوجیکل سی او  2 سیکویسٹریشن (جی سی ایس) کے ساتھ کاربن کیپچر اینڈ یوٹیلائزیشن (سی سی یو) کو مربوط کرتا ہے ۔ حکومت ہند ، صنعتی شراکت داروں اور آئی آئی ٹی بامبے  کے تعاون سے تیار کیا گیا یہ مرکز  ، آتم نربھر بھارت کے ویژن اور بھارت کے کاربن کے صفر اخراج ( نیٹ-زیرو  ) وعدوں کے مطابق ایک مقامی ، بند لوپ کاربن  تخفیف  کے طریقۂ کار کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ اس  مرکز میں آئی آئی ٹی بامبے  میں تیار کردہ پانی پر مبنی ایک جدید سی او 2 کیپچر ٹیکنالوجی ہے  ، جو  پینے کے لیے غیر  موزوں پانی کا استعمال کرتے ہوئے ماحول  میں موجود ہوا اور صنعتی اخراج سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو  کیپچر کر سکتی ہے ۔  کیپچر سی او  2  کو صنعتی ایپلی کیشنز کے لیے انتہائی خالص کاربونیٹ اور بائی کاربونیٹ نمکیات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ، جو ایک پائیدار  اخراج سے دولت کے ماڈل کو  ممکن بناتا ہے ۔ جیولوجیکل سی او 2 سیکویسٹریشن جزو دکن ٹریپس کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگانے کے لیے  ، بھارت کی پہلی پائلٹ پیمانے کی سائنسی ڈرلنگ پہل کی نشاندہی کرتا ہے ۔ یہ  مرکز قابل پیمائش کاربن مینجمنٹ ٹیکنالوجیز کے لیے ایک قومی ٹیسٹ بیڈ کے طور پر کام کرتی ہے اور تحقیق سے صنعتی  استعمال تک آب و ہوا کی اختراعات  میں تبدیلی  کی حمایت کرتا ہے ۔

..................................................... ...................................................

) ش ح –ض ر-  ع ا )

U.No. 7315


(ریلیز آئی ڈی: 2263240) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी