وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

ڈی ایف ایس  نے عدم ادائیگی اور دیوالیہ پن (ترمیمی) قانون، 2026 پر نصف روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا


ورکشاپ میں آئی بی سی   کی حالیہ ترمیمات کے بینکنگ شعبے اور دیوالیہ پن کے تصفیے کے پورے ماحولیاتی نظام پر اثرات کا جائزہ لیا گیا

سیکریٹری، ڈی ایف ایس نے کریڈٹ ڈسپلن (قرض کے نظم و ضبط) کو مضبوط بنانے اور دباؤ کا شکار اثاثوں کی قدر کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے میں آئی بی سی کے کردار پر روشنی ڈالی

دسمبر 2025 تک اس کوڈ کے تحت 8,800 سے زیادہ کارپوریٹ عدم ادائیگی ریزولوشن پروسیسز  منظور کیے گئے؛ قرض دہندگان نے منظور شدہ تصفیہ کے منصوبوں کے ذریعے 4.11 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی وصولی کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAY 2026 8:13PM by PIB Delhi

وزارتِ خزانہ کے محکمہ برائے مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس) نے آج نئی دہلی میں انسلوینسی اینڈ بنکرپسی یعنی عدم ادائیگی اور دیوالیہ پن (ترمیمی) قانون، 2026 پر ایک نصف روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ کی صدارت سیکریٹری ڈی ایف ایس، جناب ایم ناگارجو نے کی، جبکہ تقریب میں وزارتِ کارپوریٹ امور (ایم سی اے)، انسلوینسی اینڈ بنکرپسی بورڈ آف انڈیا (آئی بی بی آئی) کے اعلیٰ حکام، ممتاز قانونی ماہرین اور سرکاری شعبے کے بینکوں سمیت دیگر مالیاتی اداروں یعنی نیشنل ایسٹ ری کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ (این اے آر سی ایل)، انڈیا ڈیٹ ریزولوشن کمپنی لمیٹڈ (آئی ڈی آر سی ایل) اور ایسریک (انڈیا) لمیٹڈ کے سینیئر ایگزیکٹوز اور عہدیداران نے شرکت کی۔

 

اس ورکشاپ کا انعقاد انسلوینسی اینڈ بنکرپسی کوڈ (آئی بی سی) میں کی جانے والی حالیہ ترمیمات کے بینکنگ سیکٹر پر اثرات کا جائزہ لینے اور کوڈ کی ان ترمیم شدہ دفعات کے نفاذ کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کی سمجھ کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔

ورکشاپ کے دوران اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ دسمبر 2025 تک اس کوڈ کے تحت 8,800 سے زیادہ کارپوریٹ انسلوینسی ریزولوشن پروسیسز (سی آئی آر پیز) منظور کیے جا چکے ہیں، جس میں قرض دہندگان نے منظور شدہ تصفیہ کے منصوبوں (ریزولوشن پلانز) کے ذریعے 4.11 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی وصولی کی ہے۔ اس کے علاوہ، تصفیے، باہمی سمجھوتے، معاملات کی واپسی یا اپیل سے متعلق بندشوں کے ذریعے 4,000 سے زیادہ کارپوریٹ نادہندگان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا گیا ہے۔

 

سیکریٹری ڈی ایف ایس، جناب ایم ناگارجو نے ملک میں ایک وقت کے پابند اور قرض دہندگان کے زیرِ اثر دیوالیہ پن کے تصفیے کا ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) قائم کرنے میں آئی بی سی کے ذریعے نبھائے گئے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس کوڈ نے قرضوں کی واپسی کے نظم و ضبط کو مضبوط کیا ہے اور توجہ کو کمپنیوں کے خاتمے (لیکویڈیشن) کے بجائے ان کی بحالی اور دباؤ کا شکار کاروباروں کی قدر کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی طرف منتقل کیا ہے۔ گروپ انسلوینسی، کراس بارڈر (بین الاقوامی) انسلوینسی اور قرض دہندگان کی پہل پر شروع ہونے والے تصفیے کے عمل سے متعلق حالیہ ترمیمات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ یہ اصلاحات دیوالیہ پن کے فریم ورک کو مزید مضبوط کریں گی اور تصفیے میں ہونے والی تاخیر کا سداد کریں گی۔

چیئرپرسن آئی بی بی آئی، جناب روی متل نے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے، قرض دہندگان کے اعتماد کو بڑھانے اور دیوالیہ پن کے تصفیے کے عمل میں شفافیت کو فروغ دینے میں آئی بی سی کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ حالیہ ترمیمات سے متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کے درمیان ہم آہنگی میں بہتری آئے گی اور یہ بات یقینی بنے گی کہ دیوالیہ پن کے تصفیے کا نظام فعال، منصفانہ اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق رہے گا۔

ورکشاپ کے دوران ایم سی اے اور آئی بی بی آئی کی جانب سے حالیہ ترمیمات اور 'کمیٹی آف کریڈیٹرز' (سی او سی) سمیت دیگر فریقین پر ان کے اثرات کے حوالے سے پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔ ان مباحثوں نے کوڈ کی ترمیم شدہ دفعات کے نفاذ سے متعلق قانونی اور آپریشنل امور پر مزید وضاحت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔

 

اپنے اختتامی کلمات میں، خصوصی سیکریٹری ڈی ایف ایس، جناب سنجے لوہیا نے تصفیے کے عمل کو تیز کرنے، وصولیوں میں بہتری لانے اور اثاثوں کی قدر کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے میں آئی بی سی کے اہم کردار کا اعتراف کیا۔ انہوں نے تاخیر، استعداد کار کی کمی اور طویل قانونی چارہ جوئی (مقدمہ بازی) جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور اس بات کو نوٹ کیا کہ آئی بی سی نے بھارت میں کاروبار کرنے کی آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس) کو بہتر بنانے میں نمایاں تعاون کیا ہے۔

ورکشاپ کا اختتام ان مباحثوں کے ساتھ ہوا جنہوں نے ایک مضبوط، شفاف اور فعال مالیاتی نظام کے حکومتی وژن کے عین مطابق، دباؤ کا شکار اثاثوں کے مؤثر اور بروقت تصفیے کی اہمیت کو مزید تقویت بخشی۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 7286 )


(ریلیز آئی ڈی: 2263034) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी