قومی انسانی حقوق کمیشن
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے مخنث افراد یعنی ٹرانس جینڈرز کی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے وزارتوں اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں کو ایڈوائزری 2.0 جاری کر دی
کمیشن کی 2023 کی ایڈوائزری کے تسلسل میں، فیلڈ کی سطح پر بات چیت اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ سفارشات جاری کی گئی ہیں
کمیشن نے صنفی شمولیت پر مبنی اصلاحات پر زور دیا ہے اور مخنث افراد کے لیے جامع مردم شماری اور جائے ملازمت پر اصلاحات کی سفارش کی ہے
ایڈوائزری میں مخنث افراد کی تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، جائیداد اور قانونی حقوق سے متعلق تحفظات کو اجاگر کیا گیا ہے
اس ضمن میں دو ماہ کے اندر کی گئی کارروائی کی رپورٹ (ایکشن ٹیکن رپورٹ) طلب کی گئی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAY 2026 4:43PM by PIB Delhi
ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے مخنث افراد (ٹرانس جینڈر پرسنز) کے انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کے فروغ کے لیے جاری اپنی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے 11 وزارتوں کے سیکرٹریوں، رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کے دفتر اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے چیف سیکرٹریوں / منتظمین کو ‘ایڈوائزری 2.0’ جاری کی ہے۔ یہ ایڈوائزری درج ذیل وزارتوں کو جاری کی گئی ہے:
وزارتِ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات، وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون و انصاف، وزارتِ شماریات اور پروگرام نفاذ، وزارتِ تعلیم، وزارتِ صحت اور خاندانی بہبود، وزارتِ ترقیِ خواتین و اطفال، وزارتِ کارپوریٹ امور، وزارتِ محنت اور روزگار، وزارتِ ہاؤسنگ اور شہری امور اور وزارتِ دیہی ترقی۔
ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کمیشن نے اپنی 15 ستمبر 2023 کی گزشتہ ایڈوائزری پر تمام متعلقہ حکام کی جانب سے حوصلہ افزا ردِعمل اور اس مقصد کے لیے مشترکہ عزم کی عکاس تعمیری شمولیت کو سراہا ہے۔ کمیشن نے حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات کا بھی اعتراف کیا ہے، جس میں مخنث افراد (حقوق کا تحفظ) ایکٹ 2019 کا نفاذ اور ان کے سماجی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے مقصد سے شروع کی گئی دیگر متعلقہ اسکیمیں اور پالیسی اقدامات شامل ہیں۔
کمیشن نے اپنے مسلسل رابطوں بشمول زمینی سطح پر بات چیت (فیلڈ انٹرایکشنز)، متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت اور نفاذ کے جائزوں کی بنیاد پر، مخنث افراد کو درپیش دیرینہ اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں پر مشتمل متعدد امور کی نشاندہی کی ہے۔ چنانچہ، کمیشن نے ان کی فلاح و بہبود کو مزید بہتر بنانے کے لیے سفارشات کا ایک اور مجموعہ جاری کرنا ضروری اور بروقت سمجھا۔ اسی مناسبت سے، تمام متعلقہ حکام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایڈوائزری میں شامل سفارشات پر عمل درآمد کریں اور ایڈوائزری پر عمل آوری کی پیش رفت سے کمیشن کو آگاہ کرنے کے لیے دو ماہ کے اندر کی گئی کارروائی کی رپورٹ (اے ٹی آر) پیش کریں۔
ایڈوائزری میں مخنث افراد (ٹرانس جینڈر پرسنز) کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کے دس کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ان میں قومی ڈیٹا سسٹمز (اعداد و شمار کے نظام) میں صنفی تنوع کو شامل کرنا، صنفی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے قوانین/ ضوابط/ پالیسیوں کا جائزہ لینا، ایک جامع قانونی فریم ورک تیار کرنا، جائیداد کا حق، تعلیم کا حق، صحت کی دیکھ بھال، جائے ملازمت پر شمولیت، متنوع جنسی خصوصیات اور صنفی شناخت/اظہار رکھنے والے بچوں کے حقوق کا تحفظ، معمر مخنث افراد کے حقوق کا تحفظ، اور ‘گریما گرہ’ (شیلٹر ہومز) کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔
کلیدی سفارشات درج ذیل ہیں:
i) مجوزہ بھارتی مردم شماری اور دیگر قومی سروے میں ‘انٹر سیکس’ (بین الصنف)، ‘ٹرانس مین’ (مرد مخنث) اور ‘ٹرانس وومین’ (خاتون مخنث) جیسی واضح کیٹیگریز (زمرہ جات) کو شامل کرنا، تاکہ درست اور جامع صنفی بنیاد پر تقسیم شدہ اعداد و شمار جمع کرنے کو یقینی بنایا جا سکے۔
ii) پیدائش اور موت کے اندراج کا ایکٹ، جووینائل جسٹس ایکٹ (قانونِ انصافِ اطفال) اور وراثت کے قوانین سمیت دیگر قوانین کا جائزہ لینا، تاکہ خود کی شناخت کردہ صنف کو تسلیم کیا جا سکے اور مخنث و انٹرسیکس افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
iii) مخنث اور انٹرسیکس افراد کے لیے بغیر کسی امتیازی سلوک کے مساوی وراثت، جانشینی، ہاؤسنگ (رہائش) اور جائیداد کے حقوق کو یقینی بنانا۔
iv) مخنث افراد (ٹرانس جینڈر پرسنز) کی گرفتاری، حراست، تلاشی، تفتیش، قید، رازداری اور صنف کی توثیق پر مبنی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کے حوالے سے پولیس اور اصلاحی اداروں (جیلوں) کے لیے جامع معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) وضع کرنا؛
v) امتیازی سلوک، تشدد یا حراستی بدسلوکی کا سامنا کرنے والے مخنث اور صنفی تنوع رکھنے والے افراد کے لیے خصوصی قانونی امداد کے سیل، ہیلپ لائنز اور آزادانہ شکایات کے ازالے کے نظام قائم کرنا؛
vi) طبی ثبوت (میڈیکل پروف) مانگے بغیر، خود کی شناخت کردہ صنف کی بنیاد پر تعلیمی اداروں میں مخنث طلبہ کے داخلے کو یقینی بنانا اور ساتھ ہی صنفی طور پر غیر جانبدار (جینڈر نیوٹرل) سہولیات اور شکایات کے ازالے کا نظام بنانا؛
vii) شمولیت کو فروغ دینے اور امتیازی سلوک کو کم کرنے کے لیے اساتذہ، کونسلرز، پولیس، جیل کے عملے، عدالتی افسران اور صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے لیے لازمی صنفی حساسیت کی تربیت (جینڈر سینسیٹائزیشن ٹریننگ) کا انتظام کرنا؛
viii) صنف کی توثیق پر مبنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے معیاری اور اخلاقی طبی پروٹوکول تیار کرنا، صنف کی تبدیلی والی جراحی (سیکس ری اسائنمنٹ سرجری) کے اخراجات کو منظم کرنا اور مخنث افراد کی صحت کی ضروریات کے لیے مساوی انشورنس کوریج فراہم کرنا؛
ix) بین الصنف (انٹرسیکس) بچوں پر ان کی مرضی کے بغیر یا زبردستی طبی طریقۂ کار اپنانے پر پابندی عائد کرنا، سوائے جان بچانے کی ہنگامی صورتحال کے اور ساتھ ہی والدین کے لیے کونسلنگ اور نفسیاتی و سماجی مدد کو یقینی بنانا؛
x) صنفی طور پر غیر جانبدار سہولیات، جامع انسانی وسائل (ایچ آر) کی پالیسیوں، جائے ملازمت پر شکایات کے ازالے کے نظام اور تنوع کے لازمی انکشافات (ڈائیورسٹی ڈسکلوژرز) کے ذریعے شمولیت پر مبنی کام کے ماحول کو فروغ دینا اور اس کے ساتھ ہی معمر مخنث افراد کے لیے بہبود کے اقدامات کرنا؛ اور
xi) معمر مخنث افراد کے لیےفلاح و بہبود کی اسکیموں میں اندراج کے عمل کو دستاویزی طور پر آسان بنانا اور خود کی شناخت کی بنیاد پر رجسٹریشن کی سہولت دینا، نیز مخنث افراد کے لیے سازگار اولڈ ایج ہومز اور کمیونٹی شیلٹرز قائم کرنا تاکہ ان کی رازداری، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی، سماجی میل جول اور جذباتی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔
تفصیلی ایڈوائزری کا لنک درج ذیل ہے:
https://nhrc.nic.in/assets/uploads/other_advisories/1779115826_649e8e4ffb525458ca0a.pdf
***
ش ح-م م۔ا ک م
Uno- 7267
(ریلیز آئی ڈی: 2262924)
وزیٹر کاؤنٹر : 9