سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سینٹرل الیکٹرانکس لمیٹڈ کی 200 میگاواٹ کی سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ لائن کو ملک کے نام وقف کیا
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قابل تجدید توانائی اور ماحولیات کے لیے سازگار توانائی 2070 تک ہندوستان کو صفر کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی
سینٹرل الیکٹرانکس لمیٹڈ کی 200 میگاواٹ کی سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ لائن کو ملک کے نام وقف کرنا وکست بھارت 2047 کی طرف ایک اور قدم ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ہندوستان کی ماحولیات کے لیے سازگار توانائی اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجی کے شعبے سرکاری و نجی شراکت داری اور گھریلو اختراع کے ذریعے چلنے والے یکسر تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان کے اسٹریٹجک ٹیکنالوجی کے شعبے بے مثال پیمانے پر کھل رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAY 2026 4:15PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر ، عملہ ، عوامی شکایات ، پنشن ، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج سنٹرل الیکٹرانکس لمیٹڈ (سی ای ایل) کی 200 میگاواٹ کی شمسی ماڈیول مینوفیکچرنگ لائن کوملک کے نام وقف کیا اور کہا کہ قابل تجدید توانائی اور ماحولیات کےلئے سازگار توانائی وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 2070 تک صفر کاربن اخراج حاصل کرنے کا قومی ہدف مقرر کیا ہے اور ہندوستان شمسی توانائی ، بادی توانائی، نیوکلیئر انرجی اور سمندر پر مبنی توانائی کے نظام سمیت غیرزیر زمین توانائی کے متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھا رہا ہے ۔
اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہر قابل تجدید توانائی کےسرچشمہ کی اپنی افادیت اور اہمیت ہے اور ہندوستان ماحولیات کےلئے سازگار توانائی کی توسیع اور پائیدار ترقی کے لیے ایک مربوط نقطہ نظر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔
اس موقع پر ڈی ایس آئی آر کے سکریٹری اور سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این کلائیسلوی ، سی ای ایل کے سی ایم ڈی جناب چیتن جین ، سینئر سائنسداں ، سی ایس آئی آر لیبارٹریوں کے ڈائریکٹر ، سی ای ایل کے افسران اور ممتاز مہمان موجود تھے ۔ اس تقریب میں قابل تجدید توانائی اور مقامی نظام کی ترقی سے منسلک شعبوں میں سی ایس آئی آر لیبارٹریوں اور سی ای ایل کے درمیان اہم ٹیکنالوجی تعاون کے اقدامات بھی دیکھے گئے ۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 200 میگاواٹ شمسی ماڈیول مینوفیکچرنگ لائن کے کام کرنے کو ہندوستان کے ماحولیات کےلئے سازگار توانائی کے ایکو نظام کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ سہولت مقامی مینوفیکچرنگ اور قابل تجدید توانائی کی توسیع میں ملک کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے ۔
ہندوستان کے قابل تجدید توانائی کے سفر میں سی ای ایل کے تاریخی تعاون کو یاد کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کا پہلا سولر سیل سی ای ایل نے 1977 میں تیار کیا تھا اور ملک کا پہلا سولر پلانٹ بھی سی ای ایل نے 1979 میں قائم کیا تھا ۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اس طرح کی اہم کامیابیوں کے باوجود ، سی ای ایل کے تعاون کو وہ پہچان نہیں ملی جس کا وہ اس وقت مستحق تھا ، لیکن یہ ادارہ اب نئی قومی نمائش اور معنویت حاصل کر رہا ہے ۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ای ایل کا ایک ایسے ادارے سے منافع کمانے والے ، آمدنی پیدا کرنے والے منی رتن انٹرپرائز میں تبدیلی ادارہ جاتی احیاء کی ایک قابل ذکر مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی پرعزم قیادت ، پالیسی کی حمایت ، آپریشنل نظم و ضبط اور تنظیم سے وابستہ سائنسدانوں ، انجینئروں اور ملازمین کی اجتماعی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے ۔
وزیر موصوف نے اس رفتار کو سراہا جس کے ساتھ نئی مینوفیکچرنگ لائن قائم کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ کے لیےبولی لگانے کی درخواست 24 اپریل 2025 کو جاری کی گئی تھی، کامیاب بولی لگانے والے کا انتخاب ایک ماہ کے اندر کیا گیا اور مینوفیکچرنگ سہولت ایک سال سے بھی کم عرصے میں فعال ہو گئی ۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ای ایل اب مستقبل پر مبنی شعبوں میں توسیع کر رہا ہے جن میں عمودی محور ونڈ ٹربائنز ، ہائبرڈ قابل تجدید نظام ، ڈیٹا سینٹرز ، جدید دفاعی الیکٹرانکس ، الیکٹرانک وارفیئر اور چھوٹے ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں ، جو ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تکنیکی اعتماد اور اسٹریٹجک تیاری کی عکاسی کرتے ہیں ۔
اسٹریٹجک شعبوں میں حکومت کی پالیسی اصلاحات کا ذکر دیتے ہوئے ، وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے خلا اور جوہری توانائی جیسے شعبوں کو زیادہ سے زیادہ نجی شرکت کے لیے کھول دیا ہے اور جدید جوہری ٹیکنالوجیز اور چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز پر مشتمل امنگوں والے پروجیکٹوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خود کار موسم مشاہداتی نظام (اے ڈبلیو او ایس) اور نئے سلسلے کے درشٹی ٹرانسمیسومیٹر نظام کے لیے سی ایس آئی آر-نیشنل ایرو اسپیس لیبارٹریز اور سی ای ایل پر مشتمل ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اقدامات کا بھی خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ قومی لیبارٹریوں میں تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو صنعتی شراکت داری کے ذریعے تیزی سے تجارتی اور عوامی استعمال کی طرف بڑھنا چاہیے ۔
وزیر موصوف نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ نئے سلسلے کا درشٹی ٹرانسمیسومیٹر سسٹم اب مکمل طور پر مقامی ہو گیا ہے اور کہا کہ مقامی ٹیکنالوجیز قومی اعتماد ، مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور اسٹریٹجک خود کفالت کو مضبوط کرتی ہیں ۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 200 میگاواٹ شمسی ماڈیول مینوفیکچرنگ لائن کو ملک کے نام وقف کرنا وکست بھارت 2047 کی طرف ایک اور اہم قدم ہے اور یہ سائنسی مہارت کو قومی ترقی میں تبدیل کرنے کی ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے ۔




***********
ش ح۔م ع ۔ م ذ
(U: 7068)
(ریلیز آئی ڈی: 2261116)
وزیٹر کاؤنٹر : 8