عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
جتیندر سنگھ نے پنشن یافتگان کو ’’قوم کا قیمتی سرمایہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنشن اصلاحات نے حکمرانی کے نظام کو ’’ضابطہ کتاب پر مبنی‘‘ طرز سے نکال کر ’’شہری مرکز‘‘ بنا دیا ہے
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 16ویں آل انڈیا پنشن عدالت کی صدارت کی، جس میں طویل عرصے سے زیر التوا 985 مقدمات کے حل کے لیے کارروائی کی گئی
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پنشن اصلاحات نے پنشن کی فراہمی کے نظام کو شفاف اور پریشانی سے پاک بنا دیا ہے
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پنشن عدالت سے متعلق رہنما خطوط بھی جاری کیے اور انسانی مرکزیت پر مبنی ڈیجیٹل پنشن اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAY 2026 6:04PM by PIB Delhi
سائنس اور ٹیکنالوجی، ارتھ سائنسز کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ ہندوستان کی پنشن گورننس میں گزشتہ دہائی کے دوران ایک انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ یہ نظام اب صرف طریقہ کار تک محدود رہنے کے بجائے ٹیکنالوجی سے لیس اور شہریوں پر مرکوز میکانزم میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کا محور پنشنرز کے لیے وقار، شفافیت اور 'ایز آف لیونگ' (زندگی میں آسانی) ہے۔
نئی دہلی کے وگیان بھون میں 16ویں آل انڈیا پنشن عدالت سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پنشنرز کو محض سرکاری امداد کے فائدہ اٹھانے والوں کے طور پر نہیں بلکہ "قومی تعمیر میں گراں قدر تعاون پیش کرنے والوں" کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جن کا تجربہ، مہارت اور ادارہ جاتی یادداشت قومی اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے مستقل طور پر پنشن انتظامیہ کو سادہ، ہمدردانہ اور جوابدہ بنانے کے لیے کام کیا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ پنشن عدالت کے طریقہ کار کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ تمام شراکت دار ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر بیٹھ کر مسائل کو اجتماعی طور پر اور اکثر موقع پر ہی حل کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف فائلوں کی نقل و حرکت اور سرکاری خط و کتابت تک محدود رہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی براہ راست بات چیت انتظامی ذہنیت میں تبدیلی لاتی ہے اور گورننس میں زیادہ عملی اور انسانی نقطہ نظر کو فروغ دیتی ہے۔
محکمہ پنشن اور پنشنرز کی بہبود (DoPPW) کے زیر اہتمام منعقدہ 16ویں پنشن عدالت میں مختلف وزارتوں، محکموں اور تنظیموں سے متعلق 985 طویل عرصے سے زیر التوا پنشن شکایات کو فوری ازالے کے لیے اٹھایا گیا۔ پروگرام کے دوران 'کامیابی کی کہانیوں کے فلائیرز' جاری کیے گئے، پنشن عدالت کے لیے رہنما خطوط کی نقاب کشائی کی گئی اور اہم پنشن کیسز جوائنٹ سکریٹری (پنشن) کی جانب سے وزیر موصوف کے سامنے پیش کیے گئے۔
پنشن عدالت میں 37 وزارتوں اور محکموں سے متعلق 985 معاملات پر غور کیا گیا جو 15 اپریل 2026 تک 45 دن سے زیادہ عرصے سے زیر التوا تھے۔ اب تک ان میں سے 728 معاملے حل ہو چکے ہیں، جو کل شکایات کا تقریباً 74 فیصد ہیں۔ کارروائی کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے سامنے 16 وزارتوں اور محکموں سے متعلق کل 26 اہم معاملات پیش کیے گئے۔ ان میں سے 12 معاملے وزارتِ دفاع، 8 وزارتِ داخلہ اور 2 وزارتِ ریلوے سے متعلق تھے۔
پنشن عدالت کے میکانزم کے ذریعے حل ہونے والے معاملوں میں سے ایک میں 74 لاکھ روپے سے زیادہ کے پنشن فوائد جاری کیے گئے، جبکہ دو دیگر معاملوں میں سے ہر ایک میں مستفید ہونے والوں کو تقریباً 46 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
2014 سے پنشن اصلاحات کے ارتقاء کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب محکمہ پنشن عوامی توجہ سے دور تھا، لیکن اب یہ ڈیجیٹل مداخلت اور شہریوں پر مبنی فیصلوں کے ذریعے حکومت کے سب سے زیادہ جوابدہ محکموں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بائیومیٹرک تصدیق اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے لائف سرٹیفکیٹ (Life Certificate) کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے فیصلے کا حوالہ دیا اور بتایا کہ ایک کروڑ سے زائد پنشنرز اس سسٹم سے مستفید ہو چکے ہیں۔
وزیر موصوف نے حالیہ برسوں میں کی جانے والی دیگر اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن میں فیملی پنشن کے قوانین کی سادہ کاری، لاپتہ افراد کے کیسز سے متعلق پرانے دفعات کا خاتمہ، اور طلاق یافتہ و علیحدگی اختیار کرنے والی بیٹیوں اور معذور زیر کفالت افراد سے متعلق طریقہ کار میں نرمی شامل ہے۔ انہوں نے 'مشن کرم یوگی' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گورننس کو قواعد کی مکینیکل تشریح سے آگے بڑھ کر عوامی خدمت کی فراہمی کے بڑے مقصد پر توجہ دینی چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ 2017 میں اس اقدام کے آغاز سے اب تک کل 15 پنشن عدالتیں منعقد کی جا چکی ہیں جن میں 27,812 معاملات اٹھائے گئے۔ ان میں سے 19,948 شکایات خود عدالتوں کے دوران حل کی گئیں، جو 71.72 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا اور جدید مواصلاتی آلات کا استعمال کریں تاکہ ملک بھر کے پنشنرز حکومتی اقدامات سے باخبر اور جڑے رہیں۔




************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :7037 )
(ریلیز آئی ڈی: 2260845)
وزیٹر کاؤنٹر : 9