صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آئی سی ایم آر-آئی سی اے آر نے زراعت، غذائیت اور صحت کے باہمی اشتراک کو مضبوط بنانے اور صحتِ عامہ کے قابلِ پیمائش نتائج فراہم کرنے کے لیے ’صحت‘ کا آغاز کیا


صحت، وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی علاج پر مبنی نظام سے احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کی جانب تبدیلی کی عکاسی کرنے والا ایک تاریخی قدم ہے: مرکزی وزیرِ صحت

احتیاطی صحت کی دیکھ بھال اور مسلسل نگہداشت کو مضبوط بنانا مرکزی حکومت کے وژن کا اہم حصہ ہے؛ آئی سی ایم آر تحقیق اور اختراع میں کلیدی کردار ادا کرے گا: جناب جے پی نڈا

حکومت اور پورے نظام کا مربوط نقطۂ نظر ناگزیر ہے، جس کے لیے سائنس، پالیسی اور نفاذ کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے: جناب جے پی نڈا

طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں سے نمٹنے کے لیے غذا سے متعلق بیداری نہایت ضروری ہے؛ درست نقطۂ نظر کے ساتھ خوراک خود دوا بن سکتی ہے: زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان

صحت ،بائیو فورٹیفائیڈ فصلوں، مربوط زرعی نظام، پیشہ ورانہ صحت، غیر متعدی بیماریوں(این سی ڈی) کی روک تھام اور ’ون ہیلتھ‘ تیاری کو مضبوط بنانے کو ترجیح دے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAY 2026 6:51PM by PIB Delhi

زراعت، غذائیت اور صحتِ عامہ کی ہم آہنگی کو تقویت دینے کے لیے ایک اہم پہل کے تحت، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) نے مشترکہ طور پر "(سی ای ایچ اے ٹی) صحت-زرعی تبدیلی کے ذریعے صحت کے لیے سائنس ایکسی لینس" کا آغاز کیا ہے۔ یہ ایک قومی مشن موڈ پروگرام ہے، جو ہندوستان کے عوام کے لیے زرعی ترقی کو صحت کے ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کی اس مشترکہ پہل کی نقاب کشائی عزت مآب مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کے ہمراہ، سینئر پالیسی سازوں، ممتاز سائنس دانوں اور اہم اسٹیک ہولڈرز(شراکت داروں) کی موجودگی میں کی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ صحت جناب جے پی نڈا نے اس آغاز کو ایک "تاریخی قدم" قرار دیا اور کہا کہ یہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کے صحتِ عامہ کے نقطۂ نظر میں آنے والی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران ملک صحت کی دیکھ بھال کے ردِّ عمل اور علاج پر مبنی ماڈل سے نکل کر ایک فعال، احتیاطی اور جامع نقطۂ نظر کی جانب فیصلہ کن طور پر آگے بڑھا ہے، جو مستقبل بین پالیسی مداخلتوں سے تقویت پاتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پہل اسی مثالی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

انہوں نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کو اس اہم مشترکہ پہل کے آغاز پر مبارکباد دی اور اسے بین شعبہ جاتی تعاون کی ایک مثالی مثال قرار دیا۔

جناب نڈا نے مزید کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ہندوستان درآمد شدہ ٹیکنالوجیز پر انحصار سے نکل کر ہندوستانی اعداد و شمار اور مقامی ضروریات کی بنیاد پر گھریلو اختراعات کی ترقی کی جانب گامزن ہوا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ماضی میں نظام اکثر الگ الگ دائروں میں کام کرتے تھے، جبکہ آج وہ تیزی سے مربوط اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کی زیادہ مؤثر اور بہتر فراہمی ممکن ہو رہی ہے۔

حکومت کے وژن کا خاکہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے احتیاطی تدابیر، بروقت تشخیص اور مسلسل نگہداشت پر مضبوط توجہ کے ساتھ سستی اور معیاری صحت خدمات تک رسائی کو وسعت دینے کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے اس سمت میں تحقیق کو فروغ دینے، شواہد فراہم کرنے اور پالیسی سازی کی رہنمائی میں آئی سی ایم آر کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا، ساتھ ہی ایک مضبوط اختراعی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے میں اس کی ذمہ داری پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے ہندوستان کو درپیش اہم صحت چیلنجوں کی نشاندہی کرنے اور ان کے لیے ہدف پر مبنی حل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مالی وسائل اس راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے نتائج پر مبنی فنڈنگ یا نتائج خیز فنڈنگ اور جواب دہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مزید کہا کہ اختراعات کم لاگت، اعلیٰ معیار کی اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہونی چاہئیں، خصوصاً تشخیص، علاج اور ویکسین کے شعبوں میں۔

ملک کی ابھرتی ہوئی صحت کی صورتِ حال کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جناب نڈا نے مشاہدہ کیا کہ ہندوستان اس وقت بیماریوں کے دوہرے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے؛ ایک جانب مسلسل غذائی قلت اور دوسری جانب غیر متعدی اور طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں، جیسے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کینسر، میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے ان چیلنجوں سے نمٹنے میں غذا اور غذائیت کے مرکزی کردار پر روشنی ڈالی اور چینی، نمک اور تیل کے استعمال میں کمی کے لیے عزت مآب وزیرِ اعظم کی اپیل کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ آئی سی اے آر غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذائی نظام کی دستیابی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن ان مداخلتوں کی سائنسی بنیادوں پر توثیق کرنے میں آئی سی ایم آر کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہوگا۔ ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت کے ابھرتے ہوئے کئی چیلنجوں کے حل زراعت کے شعبے میں پوشیدہ ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب نڈا نے حکومت اور پورے نظام کے مربوط نقطۂ نظر کی ضرورت پر زور دیا، جس کے لیے سائنس، پالیسی اور نفاذ کے باہمی انضمام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مشن اس سمت میں ایک اہم قدم ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی مربوط کوششیں ایک صحت مند اور مضبوط ہندوستان کی راہ ہموار کریں گی۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زراعت اور صحت کے درمیان گہرے تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک صحت مند قوم کی بنیاد اچھی غذائیت سے آراستہ آبادی پر قائم ہوتی ہے۔ قدیم ہندوستانی متون کی حکمت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مجموعی تندرستی اور قومی ترقی کے لیے صحت مند جسم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے مشترکہ اقدام کو "بے مثال اور تاریخی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ زراعت اور صحت، صحتِ عامہ کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔

جناب چوہان نے مخصوص فصلوں اور زرعی طریقوں کے صحت سے متعلق فوائد کو ثابت کرنے کے لیے سائنسی شواہد تیار کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اس طرح کی توثیق غذائیت اور صحتِ عامہ کے نتائج کو بہتر بنانے میں دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان جو غذا استعمال کرتا ہے، وہ اس کی صحت کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور زرعی پیداوار کو غذائی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ صحت مشن اس امر کو یقینی بنانے میں سنگِ بنیاد ثابت ہوگا کہ پیدا کی جانے والی خوراک آبادی کی صحت سے متعلق ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے مشن کے پانچ ترجیحی ستونوں کا بھی ذکر کیا اور نامیاتی و پائیدار زرعی طریقوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا، جو شہریوں کی صحت بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

بیداری کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کرنا کہ کیا کھانا چاہیے اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے، خصوصاً ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی طرزِ زندگی کی بیماریوں کے تناظر میں، نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ درست نقطۂ نظر اختیار کیا جائے تو خوراک خود دوا بن سکتی ہے، اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ صحت مشن اس وژن کو آگے بڑھانے اور "ون ہیلتھ" کے وسیع تر مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس پہل کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈی ایچ آر کے سکریٹری اور آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو بہل نے کہا کہ ہندوستان اس وقت غذائی قلت اور زائد غذائیت کے دوہرے بوجھ سے گزر رہا ہے، جس میں غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے زراعت کو صحتِ عامہ کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زراعت کو محض خوراک کی پیداوار تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے غذائیت اور صحت کے نتائج کے ایک کلیدی محرک کے طور پر ابھرنا چاہیے۔

ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زراعت، غذائیت اور صحت سے متعلق تحقیق کے انضمام سے ایسے غذائیت سے ہم آہنگ  غذائی نظام کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے جو غذائی تنوع کو بہتر بنائے، غذائی قلت کا تدارک کرے اور بیماریوں کی بہتر روک تھام و انتظام میں معاون ثابت ہو۔

انہوں نے ’صحت‘ پہل کے تحت اہم ترجیحی شعبوں کا خاکہ پیش کیا، جن میں بائیو فورٹیفائیڈ مصنوعات کی تشخیص، مربوط کاشتکاری کے نظام کو فروغ دینا، زرعی کارکنوں کی پیشہ ورانہ صحت پر توجہ مرکوز کرنا، اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ و انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے درمیان ’ون ہیلتھ مشن‘ کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔ نتائج پر مبنی نقطۂ نظر پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پہل سے غذائیت اور صحت کے نتائج سے متعلق مضبوط شواہد فراہم ہوں گے، توسیع پذیر اور مقامی سیاق و سباق سے ہم آہنگ ماڈلز تیار ہوں گے، بین شعبہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا، اور پالیسی و پروگرام کی مداخلتوں کی رہنمائی کے لیے ڈیٹا پر مبنی فریم ورک تشکیل پائے گا، جس کا مقصد آبادی کی صحت کو بہتر بنانا ہے۔

صحت‘ کا تصور ایک مشن موڈ پہل کے طور پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد زرعی تحقیق اور اختراع کو غذائیت، احتیاطی و فروغی صحت کی دیکھ بھال، غیر متعدی بیماریوں، کسانوں کی فلاح و بہبود اور ’ون ہیلتھ‘ سے متعلق قومی ترجیحات کے ساتھ حکمتِ عملی کے تحت ہم آہنگ کرنا ہے۔ یہ پہل صحت اور زراعت کے شعبوں کے درمیان ایک منظم اشتراک کی علامت ہے، جس کا مقصد غذائیت کے نتائج کو بہتر بنانا اور صحتِ عامہ کو مستحکم کرنے کے لیے مضبوط اور شواہد پر مبنی حل فراہم کرنا ہے۔

یہ مشن قومی اہمیت کے پانچ ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جن میں غذائی قلت سے نمٹنے اور غذائیت کی سطح بہتر بنانے کے لیے بائیو فورٹیفائیڈ اور غذائیت سے بھرپور فصلوں کی اقسام کی تیاری اور تشخیص؛ غذائی تنوع کو فروغ دینے، زرعی آمدنی میں اضافہ کرنے اور پائیداری پیدا کرنے کے لیے مربوط کاشتکاری کے نظام کو مضبوط بنانا؛ ہدف پر مبنی اور شواہد سے تقویت یافتہ مداخلتوں کے ذریعے زرعی کارکنوں کو پیشہ ورانہ صحت کے خطرات سے محفوظ بنانا؛ غذائیت بخش غذاؤں(فعّال غذاؤں) اور غذائیت سے بھرپور فصلوں کے فروغ کے ذریعے غیر متعدی بیماریوں کی روک تھام اور انتظام کے لیے زراعت پر مبنی حکمتِ عملیوں کو آگے بڑھانا؛ اور انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی نظام کے باہمی تعلق کے تناظر میں مربوط نگرانی، تشخیص اور تحقیق کے ذریعے ’ون ہیلتھ‘ تیاری کو مضبوط کرنا شامل ہیں۔

صحت‘ کا آغاز صحت کے لیے ایک مربوط نقطۂ نظر کو اپنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس میں زرعی تبدیلی کو صحتِ عامہ کے نتائج کے ایک اہم محرک کے طور پر بروئے کار لایا گیا ہے۔

جناب بھاگیرتھ چودھری، وزیرِ مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبود؛ ڈاکٹر منگی لال جاٹ، سکریٹری ڈی اے آر ای اور ڈائریکٹر جنرل، آئی سی اے آر؛ محترمہ انو نگر، ایڈیشنل سکریٹری، ڈی ایچ آر؛ اور ڈاکٹر ڈی۔ کے۔ یادَو، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (سی ایس)، آئی سی اے آر بھی اس تقریب میں موجود تھے۔

***

UR-6939

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2260038) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी