وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
حکومتِ ہند کے محکمہ مویشی پروری و ڈیری نے اخلاقی اور ذمہ دارانہ تحقیق کے فروغ کے لیے لیبارٹری اینیمل ویلفیئر(لیبارٹری جانوروں کی فلاح و بہبود) کے موضوع پرایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAY 2026 8:08PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کے محکمہ مویشی پروری و ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی) کے تحت کمیٹی فار کنٹرول اینڈ سپرویشن آف ایکسپیریمنٹس آن اینیملز (سی سی ایس ای اے) نے آج نئی دہلی میں "لیبارٹری اینیمل ویلفیئر(لیبارٹری جانوروں کی فلاح وبہبود) : پالیسیاں اور بہترین طریقۂ کار" کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کا مقصد لیبارٹری جانوروں کی فلاح و بہبود ) لیبارٹری اینیمل ویلفیئر(کے معیارات کو مضبوط بنانا، اخلاقی اور ذمہ دارانہ تحقیقی طریقوں کو فروغ دینا، اور پالیسی سازوں، سائنس دانوں، ویٹرنری ماہرین، ریگولیٹری حکام اور ملک بھر کے ادارہ جاتی نمائندوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔
اس کانفرنس نے لیبارٹری میں جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کے استعمال میں انسانی اور اخلاقی طریقوں، ریگولیٹری فریم ورک کے مؤثر نفاذ، لیبارٹری جانوروں کی فلاح و بہبود میں پیش رفت، ادارہ جاتی تعمیل، اور قومی و بین الاقوامی بہترین طریقوں کو اپنانے پر غور و خوض کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
اس تقریب میں ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ (عرف للن سنگھ )بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس موقع پر ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیرِ مملکت پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل، ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیرِ مملکت جناب جارج کورین، اور محکمہ مویشی پروری و ڈیری کے سکریٹری جناب نریش پال گنگوار بھی موجود تھے۔
عزت مآب مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ جانوروں پر مبنی تحقیق سائنسی ترقی، ویکسین سازی اور ادویات کی دریافت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، لیکن اخلاقی اور انسانی طریقوں کے ذریعے جانوروں کے لیے کم سے کم درد اور تکلیف کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے تحقیقی اداروں اور جانوروں کے مراکز میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے معیارات کو منظم کرنے میں سی سی ایس ای اے کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرتے ہوئے بین الاقوامی معیارات کے مطابق تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے پر زور دیا اور ڈیری سیکٹر کی ترقی اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کے لیے ایف ایم ڈی جیسے مؤثر ٹیکہ کاری پروگراموں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیرِ مملکت پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل نے کہا کہ سائنسی ترقی کو ہمدردی اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا وژن نہ صرف تحقیق میں اختراع کو فروغ دینا ہے بلکہ ہر جاندار کے لیے وقار، دیکھ بھال اور اخلاقی سلوک کو بھی یقینی بنانا ہے۔
ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیرِ مملکت جناب جارج کورین نے اس بات پر زور دیا کہ سائنسی ترقی ہمیشہ ہمدردی اور اخلاقی اقدار کی رہنمائی میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی تکنیکی ترقی صرف اختراع میں نہیں بلکہ ہر جاندار کے لیے وقار، دیکھ بھال اور احترام کو یقینی بنانے میں بھی مضمر ہے۔
جناب نریش پال گنگوار، آئی اے ایس، سکریٹری، محکمہ مویشی پروری و ڈیری، حکومتِ ہند نے کہا کہ جیسے جیسے ہندوستان تیز رفتار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، صحت سے متعلق چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں، جس سے سائنسی تحقیق پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ انہوں نے سائنسی ترقی اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے درمیان محتاط توازن اور ہم آہنگی قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ترقی حساسیت اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھے۔
کانفرنس میں ملک بھر کے تحقیقی اداروں، یونیورسٹیوں، ادارہ جاتی جانوروں کی اخلاقیات کی کمیٹیوں، ویٹرنری پیشہ ور افراد، نامزد اراکین، سی سی ایس ای اے اور اے ڈبلیو بی آئی کے اراکین، اور مختلف سرکاری ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ قومی کانفرنس نے سائنسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جانوروں کے ساتھ انسانی سلوک اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتے ہوئے ذمہ دارانہ، اخلاقی اور شفاف تحقیقی طریقوں کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ ہند کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔
افتتاحی اجلاس کے علاوہ ایک تکنیکی اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس کا موضوع "پالیسیاں اور جانوروں و ان کی فلاح و بہبود سے متعلق تحقیق کے بہترین طریقے" تھا۔ اس اجلاس میں لیبارٹری اینیمل سائنس کے ماہرین اور پیشہ ور افراد نے سی سی ایس ای اے کی خدمات اور تعاون کو سراہا۔
کانفرنس کا اختتام ایک انٹرایکٹو سیشن پر ہوا، جس میں شرکاء اور سی سی ایس ای اے کے اراکین نے ادارہ جاتی سطح پر درپیش مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔ کمیٹی نے ان مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں اور اس بات پر زور دیا کہ جانوروں کی فلاح و بہبود اور معیاری تحقیق کو برقرار رکھنے کے لیے خود احتسابی اور سی سی ایس ای اے کے رہنما خطوط پر عمل درآمد نہایت اہم ہے۔
***
UR-6936
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2260035)
وزیٹر کاؤنٹر : 10