نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

اٹل اختراع مشن نے ریاست اور مرکز کے درمیان مضبوط تعاون کے ذریعے علاقائی انکیوبیٹرز کو مستحکم کرنے کے لیے اے آئی ایم سمواد – وسطی ہندوستان کی میزبانی کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAY 2026 6:38PM by PIB Delhi

اٹل اختراع مشن (اے آئی ایم) - نیتی آیوگ نے آج راجہ رمنّا سینٹر فار ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی (آر آر سی اے ٹی) اندور، مدھیہ پردیش میں ریجنل اے آئی ایم  سمواد' کے سینٹرل انڈیا ایڈیشن کا کامیابی سے انعقاد کیا، جس میں حکومت، صنعت، اکیڈمیہ، انکیوبٹرز، اسٹارٹ اپس اور وسیع تر اختراعی ایکو سسٹم کے کلیدی شراکت داروں کو ایک جگہ جمع کیا گیا۔

اس اجتماع کا مقصد اسٹیٹ اور سینٹر کے تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے میں ایک مربوط انکیوبیٹر نیٹ ورک قائم کرنا تھا، جبکہ اختراعی ایکو سسٹم کے اہم شراکت داروں کے ساتھ روابط کو مزید گہرا کرنا تھا۔ اس اقدام کی توجہ جامع انٹرپرینیورشپ کے فروغ اور حکومت، صنعت، اکیڈمیہ اور اسٹارٹ اپس کے درمیان مضبوط شراکت داری کے ذریعے اختراع کی رفتار کو تیز کرنے پر بھی مرکوز تھی۔

اس علاقائی اجتماع میں مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش کے نمائندوں سمیت اسٹارٹ اپ کونسلز، انکیوبیٹرز، صنعت کے لیڈرز، سی ایس آر شراکت دار اور ایکو سسٹم کو فعال بنانے والے دیگر اداروں نے شرکت کی۔

اس سمواد میں انکیوبیشن ایکو سسٹم کی مضبوطی، ریاست کی قیادت میں چلنے والے اختراعی اقدامات کی توسیع اور حکومتوں، اکیڈمیہ، انکیوبیٹرز اور صنعت کے درمیان تعاون بڑھانے پر اعلیٰ سطحی مشاورت کی گئی۔ ان سیشنز کی توجہ اختراع پر مبنی معاشی ترقی کو فعال بنانے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں اسٹارٹ اپس کے لیے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز تھی۔

اس اقدام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشن ڈائریکٹر، اٹل اختراع مشن، نیتی آیوگ دیپک بگلا نے کہا، "اٹل اختراع مشن کے مشن ڈائریکٹر دیپک بگلا نے اس بات پر زور دیا کہ انکیوبٹرز ایک متحرک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جو آئیڈیاز کو اثر انگیز منصوبوں میں تبدیل کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اٹل اختراع مشن ڈی ایس ٹی، ڈی بی ٹی اور ڈی پی آئی آئی ٹی کے تعاون سے بہتر بنیادی ڈھانچے، مینٹرشپ، فنڈنگ تک رسائی کے ذریعے اس ایکو سسٹم کو مضبوط بنا رہا ہے، اور اے آئی ایم  سمواد' جیسے باہمی تعاون کے اقدامات اختراع کو فروغ دے رہے ہیں، انٹرپرینیورز کو بااختیار بنا رہے ہیں اور وِکست بھارت کے وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔"

اس کنکلیو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے آئی آئی ایم اندور کے ڈائریکٹر ہمانشو رائے نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کا اسٹارٹ اپ ارتقاء ایک نازک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، اور کہا کہ قوم اب "سروس کے نظریے سے سائنس کے نظریے کی طرف بڑھ رہی ہے۔" انہوں نے نوٹ کیا کہ ڈیپ ٹیک کی ترقی کے لیے ایکو سسٹم کو 'پیشینٹ کیپیٹل' (صبر آزما سرمایہ کاری) اور ایک ایسے کلچر کو اپنانا ہوگا جو فوری منافع کے بجائے گہری ریسرچ کو ترجیح دے۔

راجہ رمنّا سینٹر فار ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر اور اے آئی سی پائی ہب کے چیئرمین وراج بھانگے نے نئی نسل کے اسٹارٹ اپس کی رہنمائی اور تعاون میں انکیوبٹرز کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوان انٹرپرینیورز، اداروں اور ایکو سسٹم کو فعال بنانے والوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں ' اے آئی ایم  سمواد' کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا تاکہ باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے، اور یہ کہ یہ مشترکہ اقدام اسٹارٹ اپس، نوجوانوں اور انڈسٹری کے لیے نئے مواقع کھولے گا۔

مدھیہ پردیش اسٹارٹ اپ سینٹر کی ایگزیکٹو ہیڈ ڈاکٹر ابھا رشی نے اس بات پر زور دیا کہ انکیوبٹرز ہمارے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کا دھڑکتا ہوا دل ہیں؛ ان کی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرنا ملک بھر میں ایک زیادہ مضبوط اور پائیدار اختراعی منظر نامے کی جانب پہلا قدم ہے۔

اس کے علاوہ، جناب منیش ورما کی قیادت میں "انکیوبیشن سینٹرز میں مؤثر ٹیم اور کلچر کی تعمیر" پر ایک خصوصی سیشن منعقد ہوا، جس کی توجہ انکیوبٹر کے پیچھے موجود افرادی قوت اور کلچر کو مضبوط بنانے پر تھی، جو انٹرپرینیورشپ کے لیے ایک ایسا پائیدار انجن تیار کرے گا جو مارکیٹ کی کسی بھی تبدیلی کا مقابلہ کر سکے۔

ہندوستانی انکیوبٹرز کے منظر نامے کے ارتقاء پر بات کرتے ہوئے، سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ انڈیا کے ڈائریکٹر جناب سندیپ گپتا نے اس بات پر زور دیا کہ انکیوبیشن سینٹرز کے لیے اگلی منزل "گرانٹس سے گروتھ" کی طرف منتقلی ہے، جس میں مالی طور پر مستحکم اور پیشہ ورانہ طور پر منظم ماڈلز پر توجہ دی جائے گی۔

اس تقریب کی ایک بڑی خاص بات مدھیہ پردیش اور راجستھان میں انکیوبٹرز کے اسٹیٹ چیپٹرز کا آغاز تھا، جنہیں بالترتیب 'مدھیہ پردیش انکیوبیشن کنسورشیم' اور 'تھار انکیوبیشن الائنس' کے طور پر لانچ کیا گیا۔

علاقائی 'ا ے آئی ایم   سمواد' علم کے تبادلے، اسٹریٹجک تعاون اور پالیسی مکالمے کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جو اختراع پر مبنی ترقی کی پرورش اور مقامی اقدامات اور قومی شراکت داری کے ذریعے ہندوستان کے انٹرپرینیوریل منظر نامے کو مضبوط بنانے کے لیے 'اے آئی ایم' کے عزم کو تقویت دیتا ہے۔

اس کنکلیو میں موجود دیگر معززین میں پراتیک دیش مکھ (پروگرام ڈائریکٹر اے آئی ایم)، ڈاکٹر سی پی پال (ہیڈ اے آئی سی پائی ہب اور سیکریٹری ڈی آئی اے)، پرساد مینن (صدر آئی ایس بی اے)، ڈپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) سے چندر شیکھر یادو، اسٹارٹ ان یو پی کے اسٹارٹ اپ ہیڈ روی پانڈے، آئی اسٹارٹ راجستھان کے پروگرام لیڈ دھول سنگھل، آئی آئی ایم لکھنؤ ای آئی سی کے گروتھ ایکسپرٹ اور مینٹر منیش ورما اور سی ایف اے سے سندیپ گپتا سمیت دیگر شامل تھے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  6928)


(ریلیز آئی ڈی: 2259997) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी