وزیراعظم کا دفتر
گجرات کے پربھاس پاٹن میں سومناتھ امرت مہوتسو کے موقع پر وزیراعظم کی تقریر کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAY 2026 3:26PM by PIB Delhi
جے سومناتھ!
جے سومناتھ!
ہر ہر مہادیو!
گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپندر بھائی پٹیل، نائب وزیر اعلیٰ بھائی ہرش سنگھوی جی، گجرات حکومت کے وزراء، اراکینِ پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی، دیگر معزز شخصیات، خواتین و حضرات!
آج پربھاس پاٹن کا یہ مقدس خطہ ایک غیر معمولی روشنی سے معمور ہے۔ مہادیو کا یہ دیدار، یہ حسن و جمال، زمین و آسمان سے ہوتی ہوئی پھولوں کی بارش، زعفرانی پرچموں کی یہ شان، فن، موسیقی اور رقص کی شاندار پیشکشیں، وید منتروں کا اچّار، گربھ گرہ میں جاری شیو پنچاکشری کا مسلسل جاپ اور اس سب کے ساتھ سمندر کی لہروں کی گونج—یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کائنات ایک ساتھ کہہ رہی ہو: جے سومناتھ! جے جے سومناتھ!
ساتھیو،
وقت خود جس کی مرضی سے ظاہر ہوتا ہے، جو خود لا زماں ہیں، جو خود وقت کی صورت ہیں—آج ہم انہی دیوا دھیو دیو مہادیو کی مورتی کی تنصیب کے پچھتر سال منا رہے ہیں۔ یہ کائنات جن سے وجود پاتی ہے اور جن میں سمٹ جاتی ہے—یَتو جائتے پالیتے یہے وشوہ، تمیشم بھجے لییتے یتروشوم—آج ہم ان کے دھام کی ازسرِنو تعمیر کا جشن منا رہے ہیں۔ جو ہلاہل کو پی کر نِیل کنٹھ ہو گئے ، آج انہی کی پناہ میں یہاں سومناتھ امرت مہوتسو منایا جا رہا ہے۔ یہ سب بھگوان شیو کی ہی لیلا ہے۔
ساتھیو،
دادا سومناتھ کے گہرے عقیدت مند کے طور پر میں کئی بار یہاں آیا ہوں، کئی بار ان کے سامنے نت مستک ہوا ہوں۔ لیکن آج جب یہاں آ رہا تھا تو وقت کا یہ سفر ایک خوشگوار احساس دے رہا تھا۔ ابھی کچھ ہی ماہ پہلے میں یہاں آیا تھا، تب ہم سومناتھ سوابھیمان پرب منا رہے تھے۔ پہلے انہدام کے ہزار سال بعد بھی سومناتھ کے ابدی ہونے کا فخر اور آج اس جدید شکل کی پران پرتِشٹھا کے پچھتر سال—ہم صرف دو تقریبات کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ ہمیں ہزار سالہ امرت یاترا کو محسوس کرنے کا موقع شیو جی نے عطا کیا ہے۔
ساتھیو،
پچھتر سال پہلے آج ہی کے دن سومناتھ مندر کی ازسرِنو تعمیر کوئی عام موقع نہیں تھا۔ اگر 1947 میں بھارت آزاد ہوا تو 1951 میں سومناتھ کی پران پرتِشٹھا نے بھارت کی آزاد شعور کا اعلان کیا۔ آزادی کے وقت سردار ولبھ بھائی پٹیل نے 500 سے زائد ریاستوں کو جوڑ کر ایک بھارت کی جدید شکل قائم کی۔ اسی کے ساتھ سومناتھ کی تعمیر نو کے ذریعے انہوں نے دنیا کو بتایا کہ بھارت صرف آزاد نہیں ہوا بلکہ اپنے قدیم وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کے راستے پر بھی آگے بڑھ چکا ہے۔
ساتھیو،
اس لیے آج میں صرف پچھتر برس کی جھلک نہیں دیکھ رہا۔ میں یہاں دیکھ رہا ہوں،تباہی میں تخلیق کے عزم کو، جسے سومناتھ نے سچ کر دکھایا۔ میں یہاں دیکھ رہا ہوں،باطل پر حق کی فتح کو، جسے پربھاس پاٹن نے بار بار جیا ہے۔ میں یہاں دیکھ رہا ہوں،ہزاروں برس کی روحانی بیداری کو، جس نے انسانیت کو فلاح کا پیغام دیا اور میں یہاں دیکھ رہا ہوں،بھارت کی اس ابدی صورت کو، جسے صدیوں کی منفی کوششیں نہ مٹا سکیں اور نہ شکست دے سکیں اور میں یہاں دیکھ رہا ہوں کہ سومناتھ امرت مہوتسو صرف ماضی کا جشن نہیں، بلکہ آنے والے ایک ہزار برس کے لیے بھارت کی تحریک کا تہوار بھی ہے۔ میں تمام ہم وطنوں کو، دادا سومناتھ کے کروڑوں عقیدت مندوں کو اس مہوتسو کی دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
آج کا دن ایک اور وجہ سے بھی نہایت اہم ہے۔ 11 مئی 1998، یعنی آج ہی کے دن ملک نے پوکھرن میں ایٹمی تجربہ کیا تھا۔ اس روز بھارت نے تین ایٹمی تجربات کیے۔ ہمارے سائنس دانوں نے بھارت کی صلاحیت اور قوت کو دنیا کے سامنے پیش کیا، جس سے پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ دنیا کو یہ احساس ہوا کہ بھارت کی حیثیت کیا ہے اور جیسے ہی یہ خبر پھیلی، بڑی عالمی طاقتیں بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے میدان میں آ گئیں۔ مختلف پابندیاں عائد کر دی گئیں اور معاشی مشکلات پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ایسے حالات میں کوئی بھی ملک دباؤ میں آ سکتا تھا، لیکن ہم ایک مختلف مٹی کے لوگ ہیں۔ 11 مئی کے بعد دنیا ہم پر ٹوٹ پڑی، لیکن 13 مئی کو مزید دو ایٹمی تجربات کیے گئے، جنہوں نے دنیا کو یہ واضح کر دیا کہ بھارت کا سیاسی عزم کتنا مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ اس وقت پوری دنیا کا دباؤ بھارت پر تھا، مگر اٹل جی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ثابت کیا کہ ہمارے لیے ملک سب سے پہلے ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت بھارت کو جھکا نہیں سکتی اور نہ ہی دباؤ میں لا سکتی ہے۔
ساتھیو،
ملک نے پوکھرن کے ایٹمی تجربات کو ’’آپریشن شکتی‘‘ کا نام دیا، کیونکہ شیو اور شکتی کی پوجا ہماری روایت کا حصہ ہے۔ اَردھ ناریشور شیو بھی شکتی کے بغیر مکمل نہیں سمجھے جاتے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب چاند پر بھارت کا مشن کامیاب ہوا تو جہاں چاند پر روور اترا، اس جگہ کا نام ’’شیو شکتی پوائنٹ‘‘ رکھا گیا، کیونکہ ہماری آستھا میں چاند کا تعلق شیو سے اور شیو کا شکتی سے جڑا ہوا ہے۔ اور یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ چاند کے نام سے ہی اس جیوتر لنک کو ہم سومناتھ کہتے ہیں۔
ساتھیو،
شیو اور شکتی کی ہماری آرادھنا کا یہی تصور آج ملک کی سائنسی ترقی کے لیے بھی تحریک بن رہا ہے اور ہم اسے حقیقت میں بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ میں اس موقع پر بھگوان سومناتھ کے قدموں میں تمام ہم وطنوں کو آپریشن شکتی کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
جب میں پچھلی بار یہاں آیا تھا تو میں نے کہا تھا کہ جس کے نام میں ہی ’’سوم‘‘ یعنی امرت شامل ہو، اسے کون مٹا سکتا ہے؟ تاریخ کے طویل دور میں اس مندر نے کئی حملے برداشت کیے۔ محمود غزنوی اور علاؤالدین خلجی جیسے حملہ آور آئے اور انہوں نے سومناتھ مندر کی شان و شوکت کو مٹانے کی کوشش کی۔ وہ اسے ایک مادی ڈھانچہ سمجھ کر بار بار توڑتے رہے، مگر ہر بار یہ دوبارہ کھڑا ہو جاتا رہا، کیونکہ انہیں ہمارے قومی فکر کی قوت کا اندازہ نہیں تھا۔ ہم وہ لوگ ہیں جو جسم کو فانی سمجھتے ہیں، لیکن اس کے اندر موجود روح کو ابدی مانتے ہیں اور شیو تو خود تمام ارواح کے مرکز ہیں۔ اسی لیے مختلف ادوار میں مختلف شخصیات کی عزم و ہمت میں شیو کی جھلک ظاہر ہوتی رہی۔ راجہ بھوج، راجہ بھیم دیو اول، راجہ کمارپال، راجہ مہی پال اول اور راجہ راؤ کھنگار جیسے کئی شیو بھکتوں نے مختلف ادوار میں سومناتھ مندر کی تعمیرِ نو کی۔ لکولیش اور سوم شرما جیسے منیشیوں نے پربھاس پاٹن کی وراثت کو محفوظ رکھا اور اسے شیو بھکتی اور فلسفے کا عظیم مرکز بنایا۔ بھاو برہس پتی ، پاشوپتا چاریوں اور دیگر علماء نے اس تیرتھ کی روحانی روایت کو زندہ رکھا۔ اسی طرح وِشال دیو اور تریپورانتک جیسے شخصیات نے اس خطے کی فکری اور تہذیبی شعور کی حفاظت کا مقدس کام انجام دیا۔
ساتھیو،
ویر ہمیر جی گوہل، ویر ویگڑا جی بھیل، پُنّیہ شلوک اہلیابائی ہولکر جی، بڑودہ کے گائیکواڑ، جام صاحب مہاراجہ دگوجے سنگھ جی،ایسی کتنی ہی عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے سومناتھ کی خدمت میں اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا۔ میں اس موقع پر سردار ولبھ بھائی پٹیل، ڈاکٹر راجندر پرساد، جناب کے ایم منشی جی سمیت تمام معروف اور غیر معروف عظیم روحوں کو عقیدت اور احترام کے ساتھ نمن کرتا ہوں۔ ان کا تذکرہ ہمیں یہ تحریک دیتا ہے کہ ہمیں نہ صرف اپنی تہذیبی وراثت کو آگے بڑھانا ہے، بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے سپرد بھی کرنا ہے۔
ساتھیو،
ہمارے ثقافتی مقامات ہزاروں سال سے بھارت کی شناخت رہے ہیں۔ ہمیں ایک نہایت شاندار ورثہ ملا ہے، لیکن افسوس کہ کئی دہائیوں تک ہم اس کی اہمیت کو پوری طرح نہ سمجھ سکے۔ دنیا میں کئی مثالیں ایسی ہیں جہاں غیر ملکی حملہ آوروں نے قومی شناخت سے جڑے مقامات کو تباہ کیا، لیکن جب ان ممالک کے لوگوں کو موقع ملا تو انہوں نے اپنی شناخت کو دوبارہ سنوارا اور بحال کیا۔ مگر ہمارے یہاں قومی خودداری سے جڑے معاملات پر بھی سیاست ہوتی رہی۔ سومناتھ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔آزادی کے بعد پہلے ہی فرائض میں سے ایک تھا کہ سومناتھ مندر کی بحالی کی جائے۔ اسی لیے سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر راجندر پرساد جی نے اس کے لیے بھرپور کوششیں کیں، لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ انہیں اس عمل میں پنڈت نہرو جی کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا، لیکن یہ سردار صاحب کی مضبوط خواہش اور عزم تھا کہ شدید مخالفت کے باوجود وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ نتیجتاً سومناتھ مندر کی تعمیرِ نو بھی ہوئی اور ملک نے صدیوں کے داغ کو بھی دھو ڈالا۔
ساتھیو،
افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں آج بھی ایسی سوچ موجود ہے جو قومی خودداری کے مقابلے میں خوشامد اور مفاد پرستی کو ترجیح دیتی ہے۔ رام مندر کی تعمیر کے موقع پر بھی ہم نے دیکھا کہ کس طرح اس کی مخالفت کی گئی۔ ہمیں ایسی ذہنیت سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ ہمیں تنگ نظری پر مبنی سیاست کو پیچھے چھوڑ کر ترقی اور ورثے کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔
ساتھیو،
پچھلے برسوں میں مجھے سومناتھ ٹرسٹ کے صدر کے طور پر سومناتھ دادا کی خدمت کا جو موقع ملا، اس مندر اور اس علاقے کی ترقی کے لیے جو تاریخی کام ہوئے ہیں، آج ہم سب اس تبدیلی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اس خدمت کا مجھے ذاتی طور پر بھی فائدہ ہوا ہے۔ آج ملک کے تمام مقدس تیرتھوں کی ترقی کے لیے جو مواقع مجھے مل رہے ہیں، وہ بھی بھگوان سومناتھ کی ہی کرپا اور آشیرواد کا نتیجہ ہیں۔
ساتھیو،
آج کاشی میں صدیوں بعد بابا وشوناتھ دھام کی اتنی شاندار توسیع ہوئی ہے۔ آج اجین میں مہاکال مہالوک کے عظیم مناظر بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ کیدارناتھ دھام کی دوبارہ تعمیر بھی ہوئی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، ایودھیا میں500 سال کا انتظار بھی پورا ہوا ہے۔ آج وہاں ایک عظیم الشان مندر میں رام للا کی پرتِشٹھا ہو چکی ہے۔
ساتھیو،
ایسے کتنے ہی مقدس تیرتھ، مٹھ، مندر اور خطے ہیں جن کی عظمت ہم نے پرانوں میں سنی تھی، آج وہاں ہمیں اس شاندار روایت کے درشن ہو رہے ہیں اور یہ سب کچھ پچھلے 10 سے 12 برسوں میں ہوا ہے۔
ساتھیو،
ہمارے تہذیبی مراکز کی نظراندازی ملک کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے تیرتھ نہ صرف بھارت کے روحانی اور سماجی نظام کے مراکز ہیں بلکہ یہ معاشی ترقی کے بھی اہم ذرائع رہے ہیں۔ آج آپ دیکھیں تو چار دھام سڑک منصوبہ، گووند گھاٹ سے ہیم کنڈ صاحب تک روپ وے منصوبہ، کرتار پور راہداری، بدھ سَرکٹ کی ترقی،ان سب کے ذریعے تیرتھ مقامات پر معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سومناتھ کا احاطہ بھی اس کی ایک روشن مثال ہے۔ آج سومناتھ مندر ٹرسٹ سے سینکڑوں خاندان وابستہ ہیں۔ ہزاروں افراد کی روزی روٹی اس علاقے سے جڑی ہوئی ہے۔ ملک اور دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے عقیدت مند نہ صرف یہاں آتے ہیں بلکہ گجرات کے دوسرے حصوں کا بھی رخ کرتے ہیں، جس سے ترقی کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔
ساتھیو،
ہماری عقیدت ہمیں زندگی جینے کا طریقہ بھی سکھاتی ہے، کیونکہ ہم مانتے ہیں: “سروَم کھلویدم برہْم” ،یعنی یہ پوری کائنات، ہر شے دراصل الٰہی مظہر ہے۔ اس لیے ہماری عقیدت درختوں میں بھی ہے، ندیوں میں بھی، جنگلات میں بھی اور پہاڑوں میں بھی ہم تقدس کا احساس رکھتے ہیں۔آج جب دنیا قدرتی طرزِ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے تو ہمیں اپنی اس طاقت کو پہچاننا ہوگا۔ ہمیں اپنے تیرتھوں اور مندروں کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کی عظمت کے تحفظ کے لیے بھی بیدار رہنا ہوگا۔ ہمیں ایسا طرزِ زندگی اپنانا ہوگا جس سے فطرت اور ماحول دونوں کی حفاظت ہو۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے مقدس مقامات کو پوری دنیا کے لیے ایک مثال کے طور پر ترقی دینی ہوگی۔ ہمیں ان تمام عہدوں کو اپنی عقیدت کے ساتھ جوڑ کر عملی زندگی میں اپنانا ہوگا۔
ساتھیو،
جب نئی نسلیں اپنی تاریخ، اپنی آستھا اور اپنی تہذیبی قدروں سے جڑتی ہیں تو قوم کی خودی اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔ آج بھارت جس اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اس میں ہماری اس تہذیبی تسلسل کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ جدیدیت ہو یا وراثت، بھارت میں یہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ ساتھ ساتھ آگے بڑھنے والی طاقتیں ہیں، جو ایک دوسرے میں زندگی اور توانائی بھر دیتی ہیں۔ سومناتھ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی قوم تبھی طویل عرصے تک مضبوط رہ سکتی ہے جب وہ اپنی جڑوں سے جڑی رہے۔ جب ہم اپنی وراثت کو آنے والی نسلوں تک اسی عقیدت اور اعتماد کے ساتھ منتقل کرتے ہیں تو وہ اسے اور بھی آگے بڑھاتی ہیں۔ 75 سال پہلے جب اس دوبارہ تعمیر شدہ سومناتھ مندر میں پران پرتِشٹھا ہوئی تھی تو بھارت نے ایک نئی بیداری کا سفر شروع کیا تھا۔ آج 75 سال بعد وہی سفر ایک وسیع تر شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ ہمیں اسے مزید بلندیوں تک لے جانا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ہمارے تمام عزم و ارادوں کی تکمیل میں دادا سومناتھ کا آشیرواد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے۔ میں ایک بار پھر تمام ہم وطنوں کو، وراثت پر یقین رکھنے والے ہر شہری کو اس موقع پر دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میرے ساتھ بولیے—
جے سومناتھ۔
جے سومناتھ۔
ہر ہر مہادیو۔
************
ش ح۔م م۔ش ت
(U: 6912)
(ریلیز آئی ڈی: 2259838)
وزیٹر کاؤنٹر : 6