سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی  سوال: سائنس و ٹیکنالوجی، سائنسی و صنعتی تحقیقاتی کونسل اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے کے ذریعے چلائے جانے والے قومی پروگرام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAR 2026 3:52PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند نے ملک میں تحقیق و ترقی کے نظام کو مضبوط بنانے، جدت اور کاروباری آغاز کو فروغ دینےاور ٹیکنالوجی کو عملی سطح پر عام کرنے کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی)، کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) اور بایوٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی بی ٹی) کے ذریعے مختلف قومی پروگرام نافذ کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکنالوجی کی تیاری، اس کی منتقلی، اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی، دیہی اختراع کو فروغ دینا اور سائنسی بنیادوں پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے، تاکہ جامع اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) نے اپنے کاروباری آغاز کے پروگراموں کے ذریعے اسٹارٹ اپس کو ابتدا سے لے کر تجارتی سطح تک مکمل معاونت فراہم کی ہے۔ ان پروگراموں میں کئی اہم پہلو شامل ہیں، مثلاً ‘پریاس’ (یعنی نوجوان اور خواہشمند موجدین و اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی اور تیز رفتار ترقی) جس کے تحت ابتدائی مرحلے کے جدید خیالات کو عملی شکل دینے کے لیے مالی مدد دی جاتی ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں قائم ٹیکنالوجی بزنس انکیوبیٹرز کے ذریعے اسٹارٹ اپس کو رہنمائی اور سہولت فراہم کی جاتی ہے، سیڈ سرمایہ کاری کی صورت میں ابتدائی مالی معاونت دی جاتی ہے اور کاروبار کو تیزی سے وسعت دینے کے لیے معاونتی پروگرام بھی موجود ہیں۔

ڈی ایس ٹی نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں (درجہ دو اور درجہ تین) میں جامع ٹیکنالوجی بزنس انکیوبیٹرز بھی قائم کیے ہیں، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں اختراع کا نظام ابھی مکمل طور پر ترقی یافتہ نہیں۔ یہ مراکز ایسے کاروباری مواقع کو فروغ دیتے ہیں جن میں علاقائی توازن، خواتین کاروباری افراد، خصوصی صلاحیت رکھنے والے افراد اور محروم طبقات پر خاص توجہ دی جاتی ہے تاکہ اختراع اور ترقی کے مواقع سب کے لیے برابر ہو سکیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) نے یونیورسٹیوں میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والے مراکز (ٹی ای سی) کی معاونت کی ہے تاکہ صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی کو آسان بنانا اور تحقیقی نتائج کو عملی استعمال میں لانے کے نظام کو مستحکم کرنا ہے، جس کے نتیجے میں علاقائی سطح پر جدت اور نئی ٹیکنالوجیوں کا فروغ ممکن ہوا ہے۔

اسی طرح ڈی ایس ٹی نے اپنی “سائنس برائے مساوات، تفویض اختیارات اور ترقی” (ایس ای ای ڈی-سیڈ) کے تحت مختلف پروگرام شروع کیے ہیں جن کا مقصد سائنسی و تکنیکی حلوں کے ذریعے سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ ان پروگراموں کے ذریعے مقامی ضروریات کے مطابق سائنس پر مبنی حل اور مناسب ٹیکنالوجیز فراہم کی جاتی ہیں تاکہ پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔یہ پروگرام خاص طور پر معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کے لیے بنائے گئے ہیں، جن میں درج فہرست ذات و قبائل، معذور افراد، بزرگ شہری، معاشی طور پر کمزور طبقات اور خواتین شامل ہیں۔ ان کا مقصد ملک کے دور دراز، دیہی اور پسماندہ علاقوں تک سائنسی سہولیات اور ترقی کے ثمرات پہنچانا ہے۔ایس ای ای ڈی پروگرام کے تحت اہم اسکیموں میں نوجوان سائنس دانوں اور ٹیکنالوجسٹ کے لیے پروگرام، معذور اور بزرگ افراد کے لیے ٹیکنالوجی اقدام، خواتین کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی پروگرام، روزگار کے لیے اختراعات کو مضبوط بنانے اور فروغ دینے کے منصوبے، سائنس و ٹیکنالوجی و جدت کے مراکز، ریاستی سائنس و ٹیکنالوجی کونسلوں میں درج فہرست ذات و قبائل کے خصوصی سیل اور ان طبقات کے لیے تحقیق و ترقی کے منصوبے شامل ہیں۔

قومی اختراعی ادارہ (این آئی ایف)، جو سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) کے تحت کام کرتا ہے، نے دیہی سطح پر ہونے والی ٹیکنالوجی کی اختراعات اور روایتی علم کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ادارہ مقامی موجدین کی اختراعات کو تلاش کرتا ہے، ان کی معاونت کرتا ہے اور انہیں وسعت دیتا ہے۔ این آئی ایف اختراعات کی تکنیکی جانچ، دانشورانہ ملکیت کے حقوق کے تحفظ اور پائیدار دیہی اختراعات کو عام کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ سماجی، معاشی اور ماحولیاتی مسائل کا حل ممکن بنایا جا سکے۔

سائنسی و صنعتی تحقیقاتی کونسل (سی ایس آئی آر) نے اپنی قومی تجربہ گاہوں کے نظام کے تحت تحقیق و ترقی کے کاموں کو فروغ دیا ہے۔ اس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، دیہی سطح پر اختراع، اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی اور سائنس پر مبنی روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں، جو ملک کے مختلف علاقوں میں کیے جا رہے ہیں۔

مزید برآں، سی ایس آئی آر نے “یو بی اے-وِبھَا نیٹ ورک کے ذریعے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا” کے نام سے ایک منصوبہ بھی نافذ کیا ہے۔ یہ منصوبہ اُنت بھارت ابھیان اور وِگْیان بھارتی (وبھا) کے تعاون سے انجام دیا گیا۔ اس کے تحت ملک کی مختلف ریاستوں میں سی ایس آئی آر کی ٹیکنالوجیز پر مبنی نمائشوں اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔

ان سرگرمیوں میں تقریباً 3400 افراد نے شرکت کی، جن میں خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی)، غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کے ارکان اور مختلف علاقوں کے کسان شامل تھے۔ یہ پروگرام آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے منعقد کیے گئے، جن کا مقصد جدید سائنسی ٹیکنالوجی کو دیہی معیشت اور روزگار سے جوڑنا تھا۔

حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی بی ٹی) نے “بایوٹیک-کسان” پروگرام نافذ کیا ہے، جو ایک قومی سطح کا کسان مرکوز منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاقائی ضروریات کے مطابق جدید سائنسی ٹیکنالوجی کی عملی نمائش کے ذریعے کسانوں کو بااختیار بنانا ہے۔مزید برآں، بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی)، جوڈی بی ٹی کے تحت کام کرتی ہے، نے ملک گیر سطح پر مختلف پروگرام اور اسکیمیں شروع کی ہیں تاکہ اسٹارٹ اپس، اختراع کاروں، انکیوبیشن مراکز، یونیورسٹیوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو معاونت فراہم کی جا سکے۔ یہ ادارہ ایسے قومی پروگراموں کی نگرانی بھی کرتا ہے جن کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی، دیہی اختراع، اسٹارٹ اپس کی ترقی اور سائنس پر مبنی روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ ملک میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں جامع اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

سائنسی و صنعتی تحقیقاتی کونسل (سی ایس آئی آر) کے ذیلی اداروںسی ایس آئی آر-سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسنل اینڈ ایرو میٹک پلانٹس (سی ایس آئی آر-سی آئی ایم پی اے)، لکھنؤ اور سی ایس آئی آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹو میڈیسن (سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم)، جموں نے “بُنڈیل کھنڈ خطے میں خوشبودار فصلوں کی کاشت، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کا مظاہرہ” کے عنوان سے ایک منصوبہ 2017 سے 2021 کے دوران نافذ کیا۔

یہ منصوبہ بُنڈیل کھنڈ کے 14 اضلاع، بشمول مدھیہ پردیش کے پنّا اور کھجوراہو، میں چلایا گیا۔ اس میں خوشبو اور ذائقہ ترقیاتی مرکز (ایف ایف ڈی سی)، کَنّوج اور بُنڈیل کھنڈ یونیورسٹی، جھانسی کے تعاون سے کام کیا گیا۔اس پروگرام کے تحت 100 سے زائد تربیتی اور آگاہی پروگرام منعقد کیے گئے جن سے 8,000 سے زیادہ کسان اور دیہی نوجوان مستفید ہوئے۔ تقریباً 2,000 ایکڑ زمین پر لیمن گراس، پالمرُوسا، تلسی اور ویٹیور جیسی خوشبودار فصلوں کی کاشت کی گئی اور 25 فیلڈ ڈسٹلیشن یونٹس نصب کیے گئے تاکہ ضروری تیل تیار کیا جا سکے۔مزید یہ کہ 1,000 دیہی خواتین کو اگربتی اور خوشبو دار کونز بنانے کی تربیت دی گئی جو ڈسٹلیشن کے کچرے سے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس پروگرام نے بُنڈیل کھنڈ میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سائنس پر مبنی روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ادویاتی و خوشبودار پودوں کے شعبے میں 10 سے زائد کاروباری اداروں کے قیام میں مدد فراہم کی۔

مزید برآں، سائنسی و صنعتی تحقیقاتی کونسل (سی ایس آئی آر) کا ذیلی ادارہ ‘قومی ادارۂ سائنسی ابلاغ و پالیسی تحقیق (سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر) اپنے صنعتی شراکت دار کے ساتھ مل کر “کسان سبھا ایپ” چلاتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کسانوں، ٹرانسپورٹرز اور منڈی کے تاجروں کو آپس میں جوڑتا ہے تاکہ زرعی پیداوار کی خرید و فروخت اور مارکیٹنگ آسان ہو سکے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے کٹنی اور پنّا اضلاع کے 236 کسان رجسٹر ہو چکے ہیں۔

یہ تمام اسکیمیں اور پروگرام ملک گیر سطح پر “تجاویزکی دعوت”(کالز فارپروپوزل) کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں، جن کے تحت اہل ادارے، یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے اور اختراع کار اپنی تجاویز متعلقہ اسکیموں کے لیے جمع کراتے ہیں۔ منصوبوں کا انتخاب موصول ہونے والی تجاویز کی قابلیت اور مطابقت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

حکومت ان اداروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے جو پسماندہ اور ابھرتے ہوئے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تاکہ وہ اختراع، انکیوبیشن اور ٹیکنالوجی کی عملی منتقلی سے متعلق قومی پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں۔ اس کا مقصد ملک کے مختلف خطوں تک ان پروگراموں کا دائرہ وسیع کرنا اور علاقائی سطح پر جدت کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی)، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے(ڈی بی ٹی) اور سی ایس آئی آر کے مختلف پروگراموں کے ذریعے ملک بھر میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، انکیوبیشن کی سہولت اور سائنس پر مبنی روزگار کے اقدامات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ان میں انکلوسیو ٹیکنالوجی بزنس انکیوبیٹرز، تکنیکی مظاہرے کے منصوبے، دیہی اختراع کے پروگرام اور بایوٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی پروگرام شامل ہیں۔ ساتھ ہی حکومت، تعلیمی اداروں اور مقامی تنظیموں کے درمیان تعاون کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔ان اقدامات کا مقصد تحقیق کے نتائج کو قابلِ استعمال ٹیکنالوجی، کاروباری اداروں اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ مقامی معیشت کو فروغ دیا جا سکے اور مختلف علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

*****

ش ح۔م م۔ ف ر

U-6758


(ریلیز آئی ڈی: 2258719) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी