سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سائنس دان بلیک ہولز کے گرد ماحول سے نکلنے والے ماورائے کہکشاں جیٹس کی حیرت انگیزمختلف ظاہری شکلوں کی تحقیق کر رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 MAY 2026 4:53PM by PIB Delhi
بین الاقوامی فلکی طبیعیات دانوں کی ایک ٹیم نے انتہائی بڑے بلیک ہولز کے ماحول سے نکلنے والے ماورائے کہکشاں جیٹس کی مختلف ظاہری شکلوں کے پیچھے موجود راز کے بارے میں نئی بصیرت حاصل کی ہے۔ انہوں نے ظاہر کیا ہے کہ پلازما کی ترکیب ان جیٹس کی شکل و صورت کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ دریافت ریلیٹوسٹک جیٹس میں موجود مادّے کی نوعیت کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے اور اس معمہ کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
بہت سی دور دراز کہکشاؤں کے مراکز میں انتہائی بڑے بلیک ہولز موجود ہوتے ہیں جن کی کمیت ہمارے سورج سے لاکھوں سے لے کر اربوں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بلیک ہولز صرف مادہ کو نگلنے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات ایک طاقتور انجن کی طرح کام کرتے ہیں اور پلازما اور توانائی کی باریک شعاعیں خارج کرتے ہیں جنہیں “جیٹس” کہا جاتا ہے۔یہ ماورائے کہکشاں جیٹس تقریباً روشنی کی رفتار کے قریب رفتار سے خلا میں خارج ہوتے ہیں اور ہزاروں نوری سال تک پھیل سکتے ہیں۔ یہ مختلف قسم کی شعاعیں خارج کرتے ہیں، جن میں کم توانائی والی ریڈیو لہروں سے لے کر انتہائی بلند توانائی والی گاما شعاعیں شامل ہوتی ہیں۔
فلکیات دان ایک طویل عرصے سے ماورائے کہکشاں جیٹس کی ریڈیو تصاویر میں نمایاں فرق کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ فرق سب سے پہلے 1974 میں برنارڈ فیناروف اورجولیا ریلے نے دریافت کیا تھا۔ انہوں نے ریڈیو جیٹس کو مجموعی طور پر دو بڑی اقسام ایف آر I اور ایف آر IIمیں تقسیم کیا۔
ایف آر I جیٹس کو “کور-برائٹینڈ” کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جیٹس اپنے مرکزی حصے (بلیک ہول کے قریب) میں سب سے زیادہ روشن ہوتے ہیں، اور جیسے جیسے یہ باہر کی طرف بڑھتے ہیں، آہستہ آہستہ مدھم اور پھیلے ہوئےڈھانچے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
اس کے برعکس، آیف آر II جیٹس کو “ایج-برائٹینڈ” کہا جاتا ہے۔ یہ جیٹس مرکزی حصے کے قریب نسبتاً مدھم ہوتے ہیں، لیکن بہت دور تک ایک تنگ اور منظم شکل میں برقرار رہتے ہیں۔ آخر میں یہ اردگرد موجود گیس سے ٹکراتے ہیں اور اپنے سرے (tips) پر انتہائی روشن “ہاٹ اسپاٹس” بناتے ہیں، جو بہت زیادہ توانائی کے اخراج کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سائنس دان طویل عرصے سے اس بات پر بحث کرتے آ رہے ہیں کہ ایف آر I اور ایف آر II جیٹس کے درمیان یہ فرق آخر کیوں پیدا ہوتا ہے۔ کیا اس کی وجہ خود بلیک ہول کی خصوصیات ہیں، یا اس کے گرد موجود ماحول، یا پھر جیٹ کی اپنی اندرونی خصوصیات جیسے اس کی رفتار، درجہ حرارت اور مقناطیسی میدان کی طاقت؟
دی ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں جناب پریش کمار ترپاٹھی ، ڈاکٹر اندرانیل چٹوپادھیائے ، اور آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنسز (اے آر آئی ای ایس) کے جناب سنجیت دیبناتھ ، پولینڈ کے نیکولاس کوپرنیکس ایسٹرونومیکل سینٹر کے ڈاکٹر راج کشور جوشی ، کولکاتہ کی پریذیڈنسی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ریتابن چٹرجی ، اور ایم جے پی آر یو بریلی کے ڈاکٹر ایم سلیم خان نے جدید کمپیوٹر سمیلیشنز کا استعمال کیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ ان اختلافات کا راز جیٹ کی ساخت اور اس کے ماحول کی وجہ سے ہو سکتا ہے ۔ تحقیقی ٹیم نے اے آر آئی ای ایس میں عددی اور نظریاتی فلکی طبیعیات گروپ کے ذریعہ تیار کردہ عددی تخروپن کوڈ کا استعمال کرتے ہوئے کلوپارسیک پیمانے پر ان جیٹ طیاروں کے بڑے تھری ڈی میگنیٹو ہائیڈروڈائنامک (ایم ایچ ڈی) تخروپن کا مظاہرہ کیا ۔ خاص طور پر یہ کوڈ صورت حال سے مشابہ مساوات کو شامل کرتا ہے ، جو جیٹ کے مختلف علاقوں میں آنے والے درجہ حرارت کی ایک بہت بڑی حد کو درست طریقے سے سنبھال سکتا ہے ۔
ٹیم نے دریافت کیا کہ ‘‘کنک عدم استحکام’’ نامی ایک رجحان ان طاقتور ، تنگ جیٹ طیاروں کی تشکیل میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے ، جس کی وجہ سے وگلز (چھوٹے موڑ) پیدا ہوتے ہیں ۔ خلا میں اگر یہ گھماؤ اس سے زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے کہ جیٹ آگے بہہ سکتا ہے ، تو جیٹ بیم خلل ڈالتا ہے ، اپنی توانائی کو ایک مبہم، پھیلے ہوئے بادل میں ضم کر دیتا ہے-جو کہ ایف آر آئی جیٹ کی کلاسک شکل ہے ۔ فلکیاتی جیٹ طیارے عام مادے سے نہیں بنے ہوتے ہیں۔ اس کے بجائے ، وہ پلازما ، الیکٹرانوں سمیت چارج شدہ ذرات کا ایک سوپ ، پوزیٹرون (الیکٹرانوں کا اینٹی میٹر جڑواں)اور بعض اوقات پروٹون جیسے بھاری ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ مطالعہ کے سب سے اہم نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ جیٹ پلازما کی ساخت اس کی قسمت کا تعین کر سکتی ہے ۔
جیٹ زیادہ تر الیکٹرانوں اور پروٹونوں (ہیڈونک پلازما)سے بنائے جا سکتے ہیں-ایک مرکب جس میں پوزیٹرون شامل ہوتے ہیں (الیکٹران کا اینٹی میٹر جڑواں-لیپٹونک/مخلوط پلازما)

شکل: الیکٹران-پروٹون اور مخلوط پلازما جیٹ کے لیے جیٹ ٹریسر کی ڈی 3 وولیوم رینڈرنگ
سمولیشنز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جیٹس جو پوزیٹرونز سے بھرپور ہوتے ہیں یعنی لیپٹون-رچ ،نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے یہ جیٹس پھیلنے لگتے ہیں اور ان کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
ایسے جیٹس اکثر سیدھی لکیر میں قائم نہیں رہ پاتے اورکنک عدم استحکام کے باعث مڑنے اور الجھنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً یہ اپنی توانائی کو ایک ہی جگہ مرکوز رکھنے کے بجائے آہستہ آہستہ پھیلا دیتے ہیں، جس سے ایک مدھم اور منتشرساخت بنتی ہے۔ یہی وہ شکل ہے جو ایف آر I جیٹس میں دیکھی جاتی ہے، جہاں جیٹ کسی روشن “ہاٹ اسپاٹ” پر ختم ہونے کے بجائے بتدریج مدھم ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس، وہ جیٹس جو زیادہ تر الیکٹران اور پروٹون پر مشتمل ہوتے ہیں، زیادہ مستحکم ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ساخت کو بہتر طریقے سے برقرار رکھ سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ ایک مورفولوجی سے دوسری میں منتقل بھی ہو سکتے ہیں، یعنی اپنی “شناخت” بدل سکتے ہیں۔یہ نتائج اس اہم خیال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم دوربینوں سے دیکھتے ہیں، وہ دراصل کسی بھی جیٹ کی مکمل زندگی کا صرف ایک لمحاتی عکس ہو سکتا ہے۔ حقیقت میں یہ ایک طویل، مسلسل اور ارتقا پذیر کائناتی عمل ہے جو وقت کے ساتھ اپنی شکل بدلتا رہتا ہے۔
اشاعت: https://doi.org/10.3847/1538-4357/ae38e2
***
ش ح۔ش ب ۔ اش ق
U- 6716
(ریلیز آئی ڈی: 2258454)
وزیٹر کاؤنٹر : 11