پنچایتی راج کی وزارت
مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’سشکت پنچایت-نیتری ابھیان خواتین کو زمینی سطح کی جمہوریت کی قیادت سنبھالنے کی ذمہ داری دیتا ہے
پنچایتوں میں خواتین کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے ’نربھے رہو‘ پہل شروع
ماڈل وومن فرینڈلی گرام پنچایتوں اور تبدیلی کی رہنمائی کرنے والی کہانیوں کا مجموعہ جاری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 9:53PM by PIB Delhi
پنچایتی راج کی وزارت نے نئی دہلی میں 'سشکت پنچایت-نیتری ابھیان' کے حوالے سے پنچایتوں کی منتخب خواتین نمائندوں کی ایک قومی کانفرنس منعقد کی۔اس مہم کے آغاز کا ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ اس تقریب میں پنچایتی راج اور ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیرِ مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے شرکت کی۔ اس موقع پر حکومتِ ہند کے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پنچایتی راج کی وزارت کے سیکرٹری جناب ویک بھاردواج بھی موجود تھے۔


اس تقریب کے دوران “بہترین عملی اقدامات” پر مشتمل ایک مجموعہ جاری کیا گیا، جس میں ماڈل خواتین دوست گرام پنچایتوں کے تجربات اور بھارت میں زمینی سطح پر خواتین کی قیادت پر مبنی کہانیاں شامل تھیں۔ یہ مواد خصوصی تربیتی ماڈیول کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد منتخب خواتین نمائندوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔اسی موقع پر وزارت کی جانب سے “نِربھیا پہل” کے تحت “نِربھے رہو” پروگرام بھی شروع کیا گیا، جس کا مقصد پنچایتوں میں خواتین کی حفاظت اور بااختیاری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔تقریب میں 24 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے منتخب “مثالی خواتین پنچایت رہنماؤں” کو ان کی شاندار خدمات کے صلے میں اعزاز سے نوازا گیا۔
مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ “سشکت پنچایت-نیتری ابھیان” اس قومی عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد خواتین کو زمینی سطح کی جمہوریت کی قیادت میں مرکزی مقام دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی 14.5 لاکھ سے زائد منتخب خواتین نمائندے صرف شریک نہیں بلکہ حکمرانی کی حقیقی معمار ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں خواتین کی بااختیاری کے لیے کیے گئے اقدامات، خصوصاً “ناری شکتی وندن ادھینیئم” کا بھی ذکر کیا۔
وزیر موصوف نے خواتین نمائندوں پر زور دیا کہ وہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے اپنی قیادت، مالی انتظام وانصرام اور حکمرانی کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائیں۔ انہوں نے پنچایت نظام میں مصنوعی ذہانت پر مبنی “سبھا سار” پلیٹ فارم کے استعمال کا بھی حوالہ دیا، جو پنچایتوں کے کام کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں 46 فیصد منتخب نمائندے خواتین ہیں، جو مقامی سطح کی حکمرانی میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح علامت ہے۔
جناب راجیو رنجن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت نے مقامی اداروں کے لیے مالی تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق سولہویں مالیاتی کمیشن نے 2026–31 کے لیے دیہی مقامی اداروں کو 4,35,236 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ تیرہویں مالیاتی کمیشن کے دوران یہ رقم صرف 65,160 کروڑ روپے تھی۔


پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ دیہی حکمرانی کے مستقبل کی تشکیل میں خواتین کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی دفعات اور ریزرویشن کے نظام نے خواتین کو پنچایتی راج اداروں میں قیادت کے مواقع دیے ہیں، جس سے مقامی سطح کی حکمرانی میں نئے اور متنوع نقطہ نظر سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے “راشٹریہ گرام سوراج ابھیان” کے تحت جاری صلاحیت سازی پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بڑے پیمانے پر تربیتی اقدامات منتخب نمائندوں، خاص طور پر خواتین کو، مؤثر قیادت اور بہتر مقامی انتظام کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین پنچایت نمائندوں کی قیادت ناری شکتی کے اصل جذبے کی عکاس ہے، اور دیہی سطح پر خواتین کو بااختیار بنانا ایک منصفانہ اور خود کفیل بھارت کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
اس موقع پر سیکریٹری وویک بھاردواج نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں 10 مارچ 2026 کو مرکزی کابینہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جل جیون مشن کے تحت دیہی گھروں تک نل کے پانی کی فراہمی نے تقریباً 9 کروڑ دیہی خواتین کو روزانہ پانی لانے کی مشقت سے آزاد کیا ہے۔ اس تبدیلی کے باعث خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں میں شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ماڈل ویمن فرینڈلی گرام پنچایتس” اور “سشکت پنچایت-نیتری ابھیان” جیسے اقدامات دیہی سطح پر خواتین کی قیادت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق 2025–26 کے دوران 7.18 لاکھ سے زائد منتخب خواتین نمائندوں کو تربیت دی گئی ہے، جبکہ 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 744 ماڈل ویمن فرینڈلی گرام پنچایتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار دیہی حکمرانی میں خواتین کی قیادت کی طرف مسلسل پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔
محترمہ آندریا ایم وجنار، کنٹری ریپریزنٹیٹو (یو این ایف پی اے انڈیا) نے کہا کہ بھارت کا پنچایتی راج نظام خواتین کی سیاسی شمولیت کو نمایاں طور پر آگے بڑھا رہا ہے، جہاں 14 لاکھ سے زائد منتخب خواتین نمائندے دیہی سطح کی حکمرانی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “ماڈل ویمن فرینڈلی گرام پنچایتس” جیسے اقدامات نمائندگی کو مؤثر حکمرانی میں بدلنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں، کیونکہ یہ منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں صنفی مساوات کو شامل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پنچایتوں میں مضبوط خواتین قیادت نہ صرف جامع ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ خواتین اور لڑکیوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ڈاکٹر پلوّی جین گوِل (نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت کے نوجوانوں کے امور کے محکمہ کی سکریٹری اور محترمہ میتا راجیو لوچن (سیکریٹری، پسماندہ طبقات کی قومی کمیشن ) نے تقریب میں ہونے والی پینل مباحثوں کی صدارت کی۔ اس کانفرنس میں ملک بھر سے پنچایتی راج اداروں کے مختلف درجوں سے 700 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا، جن میں زیادہ تر منتخب خواتین نمائندے شامل تھیں۔
“نِربھے رہو” کے بارے میں اہم نکات
“نِربھے رہو ” اقدام نِربھیا فنڈ کے تحت شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد پنچایتوں میں خواتین کی حفاظت اور بااختیاری کو مضبوط بنانا ہے۔
اس کے اہم نکات یہ ہیں:
تقریباً 14.5 لاکھ منتخب خواتین نمائندوں کو قانونی حقوق اور قیادت کے حوالے سے تربیت دینا ہے،تقریباً 17.5 لاکھ مرد منتخب نمائندوں کو صنفی مساوات اور جوابدہی کے بارے میں حساس بنانا اوردیہی علاقوں میں اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا ہےتاکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے خواتین دوست اور محفوظ پنچایتوں کا ماحول قائم کیا جا سکے۔
یہ اقدامات مجموعی طور پر دیہی سطح پر خواتین کی قیادت، تحفظ اور شمولیت کو مزید مؤثر بنانے کی سمت ایک منظم کوشش کی نمائندگی کرتے ہیں۔


Compendium on Model Women Friendly Panchayats
Championing Change: Stories of Women Leading Grassroots Democracy in India (English)
Championing Change: Stories of Women Leading Grassroots Democracy in India (Hindi)
ش ح۔ م م ع۔ ج
uno- 6613
(ریلیز آئی ڈی: 2257847)
وزیٹر کاؤنٹر : 7