ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سوت کاتنے کی مل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 3:20PM by PIB Delhi

شماریات اور پروگرام کےنفاذ کی وزارت کے سالانہ صنعتی سروے کے مطابق تمل ناڈو سمیت مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں کتائی ملوں (اسپننگ ملز) کی کل تعداد، فعال اسپننگ ملز کی تعداد اور دیگر یونٹس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔ وزارتِ ٹیکسٹائل بند پڑی اسپننگ ملوں کے اعداد و شمار الگ سے محفوظ نہیں کرتی۔

ملک میں اسپننگ ملوں کی معاونت کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

ٹیکنالوجی کی اپگریڈیشن اور جدید کاری:

1. ترمیم شدہ ٹیکنالوجی اپگریڈیشن فنڈ اسکیم (اے ٹی یو ایف ایس) کے تحت ٹیکسٹائل یونٹس کو معیاری مشینری کی خریداری کے لئے قرض پر مبنی سرمایہ جاتی سبسڈی (سی آئی ایس) فراہم کی جاتی ہے، جس سے ملوں کی جدید کاری میں مدد ملتی ہے اور ان کے ماحولیاتی اثرات کم ہوتے ہیں۔

2. اسپننگ ملز کی جدید کاری کی اسکیمیں: اس مقصد کے لیے بعض ریاستیں خصوصی اقدامات کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر تمل ناڈو میں پانچ سال سے زیادہ پرانی مشینری کی تبدیلی کے لیے شرحِ سود میں رعایت دی جاتی ہے۔

3. منی ٹیکسٹائل پارک اسکیم: چھوٹی صنعتوں کے لیے بنیادی ڈھانچے، عمارتوں اور مشینری کی ترقی کے لیے سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔

خام مال کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام:

1.انڈین کاٹن کارپوریشن (سی سی آئی) کی معاونت: حکومت کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے تحت خریدے گئے کپاس کے ذخائر کو ایم ایس ایم ای درجے کی اسپننگ ملوں کو براہِ راست فروخت کرنے کے لیے سی سی آئی کو ہدایت دیتی ہے تاکہ خام مال کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

2.خصوصی فروخت / رعایتیں:سی سی  آئی،  ایم ایس ایم ایملوں، کوآپریٹو شعبے کی ملوں اور کھادی صنعتوں کو مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے رعایتیں فراہم کرتا ہے (مثال کے طور پر 300 روپے فی کینڈی)۔

3. دھاگا سپلائی اسکیم (وائی ایس ایس) :یہ اسکیم ہینڈ لوم بُنکروں کو “مل گیٹ قیمت” پر خام مال کی فراہمی یقینی بناتی ہے، جس سے دھاگے کی مستحکم طلب کو بالواسطہ سہارا ملتا ہے۔

4.کستوری کاٹن پہل: بھارتی کپاس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ اقدام برانڈنگ، ٹریس ایبلٹی (سراغ رسانی) اور سرٹیفیکیشن پر توجہ دیتا ہے، جس سے کھیت سے لے کر مل تک پوری سپلائی چین کو فائدہ پہنچتا ہے۔

مالی معاونت اور ترغیبات:

1. پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم: یہ اسکیم زیادہ قدر والی مصنوعی ریشے (ایم ایم ایف)کے کپڑوں اور ٹیکنیکل ٹیکسٹائل کی پیداوار کو فروغ دیتی ہے، جس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے اور ماحول دوست پیداوار کو تقویت ملتی ہے۔

2.ریاستی اور مرکزی ٹیکسوں و لیویز میں رعایت (آر او ایس سی ٹی ایل): اس اسکیم کے تحت برآمد شدہ ملبوسات اور تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات پر ٹیکس میں ریلیف فراہم کیا جاتا ہے، جس سے یارن کی ڈاؤن اسٹریم طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔

3. شرحِ سود میں توازن اسکیمیں:ایم ایس ایم ای برآمد کنندگان کی معاونت کے لیے پری شپمنٹ اور پوسٹ شپمنٹ قرضوں پر اضافی شرح سود کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

4.ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے خصوصی پیکیج (2016): اس میں اے ٹی یو ایف ایس کے تحت اضافی پیداوار سبسڈی، ای پی ایف کنٹریبیوشن میں معاونت اور ٹیکس میں رعایت جیسے اقدامات شامل ہیں۔

بنیادی ڈھانچے کی ترقی:

1.پی ایم-میترا پارک: عالمی معیار کے، پلگ اینڈ پلے سہولیات سے آراستہ 7 میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجنز اور اپیرل پارکس کی تعمیر، جس سے لاجسٹکس لاگت میں کمی آتی ہے اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔

2.انٹیگریٹڈ پروسیسنگ ڈیولپمنٹ اسکیم (آئی پی ڈی ایس): اس اسکیم کے تحت نئے اور جدید مشترکہ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس (سی ای ٹی پی) کے قیام کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ کتائی ملیں ماحولیاتی معیار پر عمل کر سکیں۔

3. سمرتھ اسکیم (ٹیکسٹائل سیکٹر میں استعداد کار کی ترقی کی اسکیم: اس کا مقصد طلب پر مبنی اور روزگار سے منسلک تربیت فراہم کر کے اس شعبے کے لیے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔

یہ تمام اقدامات مجموعی طور پر جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت، ہنر مند افرادی قوت، خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت اور غیر منظم سپلائی چینز جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

 

تیاری کیلئے آپریشنل کل اور دیگر یونٹس سوت کی کتائی (1311)اور

 

2019-2020

2020-2021

2021-2022

2022-23

2023-24

نمبر شمار

ریاست

فیکٹریوں کی تعداد

کام کر رہی فیکٹریاں

دیگر

فیکٹریوں کی تعداد

کارخانے چل رہے ہیں۔

دیگر

فیکٹریوں کی تعداد

کام کر رہی فیکٹریاں

دیگر

فیکٹریوں کی تعداد

کام کر رہی فیکٹریاں

دیگر

فیکٹریوں کی تعداد

کام کرن رہی فیکڑیاں

دیگر

1

آندھرا

پردیش

267

220

47

215

168

47

198

142

57

205

151

54

154

137

18

2

آسام

4

4

0

15

15

0

4

3

1

7

7

0

6

6

0

3

بہار

7

7

0

7

7

0

7

7

0

7

5

2

5

5

0

4

چندی گڑھ (یوٹی)

1

1

0

1

1

0

1

1

0

1

1

0

1

1

0

5

چھتیس گڑھ

5

5

0

7

7

0

6

6

0

6

6

0

7

7

0

6

دادرا اینڈ این

حویلی اور

دمن اور دیو

116

84

32

118

97

21

136

105

31

116

54

62

81

68

13

7

گجرات

450

363

87

429

321

108

483

303

180

499

337

162

516

357

159

8

ہریانہ

252

169

83

344

233

111

280

158

122

207

129

78

290

249

41

9

ہماچل

پردیش

28

28

0

35

35

0

39

19

20

37

28

10

30

22

9

10

جموں اور

کشمیر

15

14

1

11

11

0

11

10

1

13

13

0

6

6

0

11

جھارکھنڈ

2

1

1

2

2

0

2

2

0

2

2

0

2

2

0

12

کرناٹک

81

48

34

72

33

39

32

21

11

59

40

18

69

27

42

13

کیرالہ

74

62

12

79

69

10

51

51

0

99

94

5

64

51

13

14

مدھیہ

پردیش

53

52

1

58

47

12

64

59

5

54

49

5

43

42

1

15

مہاراشٹر

532

294

238

567

301

266

563

345

217

484

296

188

522

357

164

16

اوڈیشہ

7

7

0

7

7

0

8

6

2

7

4

3

3

3

0

17

پڈوچیری

16

13

3

19

19

0

18

18

0

14

14

0

16

14

3

18

پنجاب

273

210

64

280

213

66

269

177

93

231

177

53

316

235

81

19

راجستھان

269

226

43

306

265

40

241

210

31

324

324

0

319

203

116

20

تمل ناڈو

2,663

1,995

668

2,696

2,042

654

2,773

2,121

652

2,579

1,951

627

2,455

1,672

783

21

تلنگانہ

103

59

44

119

103

17

77

65

12

118

101

17

122

100

23

22

تریپورہ

2

2

0

2

0

2

1

0

1

 

 

 

 

 

 

23

اتر

پردیش

49

31

17

98

61

37

44

24

20

55

53

2

67

66

1

24

اتراکھنڈ

8

8

0

8

7

1

8

8

0

7

6

1

7

7

0

25

مغرب

بنگال

97

77

20

84

73

11

52

50

2

70

55

15

67

67

0

 

ہندوستان

5,373

3,979

1,394

5,575

4,134

1,441

5,368

3,911

1,457

5,199

3,895

1,303

5,166

3,702

1,464

 

ماخذ: سالانہ صنعتی سروے (اے ایس آئی، وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی)

نوٹ 1: دیگر میں ایسے کارخانے شامل ہیں جن کے پاس مستقل اثاثے موجود ہیں، لیکن وہ اپنا عملہ برقرار نہیں رکھ رہے، گزشتہ 3 سال سے پیداوار نہیں کر رہے، یا وجود میں نہیں ہیں، یا جن کی رجسٹری منسوخ ہو چکی ہے، یا جو سروے کے دائرہ کار سے باہر ہیں، وغیرہ۔

نوٹ 2: مذکورہ اعداد و شمار سالانہ صنعتی سروے کے ڈیٹا کوریج سے متعلق ہیں، جو پورے فیکٹری شعبے پر محیط ہے۔ اس میں وہ صنعتی اکائیاں (جنہیں ‘کارخانے’ کہا جاتا ہے) شامل ہیں جو فیکٹری ایکٹ 1948 کی دفعہ 2(ایم))(آئی) اور 2(ایم)(آئی آئی) کے تحت رجسٹرڈ ہیں، جہاں ‘فیکٹری’ اے ایس آئی کے لیے بنیادی شماریاتی اکائی ہے۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں ٹیکسٹائل کےوزیرگری راج سنگھ نے فراہم کیں۔

***

ش ح۔ ک ا ۔ ش ب ن

U.NO. 6605


(ریلیز آئی ڈی: 2257811) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी