سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: اے آئی یونیورسٹی کا قیام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 MAR 2026 5:49PM by PIB Delhi

حکومت نے موجودہ بجٹ میں سائنس و ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور ڈیپ ٹیک شعبوں میں نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینے کو اعلیٰ ترجیح دی ہے۔

 

اسی سلسلے میں، حکومت نے 3 نومبر 2025 کو ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن (آر ڈی آئی) اسکیم کا آغاز کیا، جس کے لیے چھ سال کی مدت میں 1 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد اسٹریٹجک اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں تحقیق و ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جن میں کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے ڈیپ ٹیک شعبے؛ زراعت، صحت اور تعلیم میں اے آئی کے استعمال؛ توانائی کی منتقلی اور موسمیاتی اقدامات؛ بایوٹیکنالوجی، بایو مینوفیکچرنگ، ادویات اور طبی آلات؛ اور ڈیجیٹل معیشت، بشمول ڈیجیٹل زراعت شامل ہیں۔

 

اس اسکیم کو انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کے تحت قائم ایک اسپیشل پرپز فنڈ (ایس پی ایف) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جس میں دو سطحی فنڈنگ ڈھانچہ اپنایا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ایس پی ایف فنڈ کو محفوظ رکھتا ہے اور اسے سیکنڈ لیول فنڈ مینیجرز(ایس ایل ایف ایمز) تک منتقل کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) اور بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل(بی آئی آر اے سی) کو ایس ایل ایف ایمز مقرر کیا گیا ہے، جنہوں نے فروری 2026 میں تجاویز طلب کی ہیں۔ مزید ایس ایل ایف ایمز ، بشمول فنڈ آف فنڈز کے لیے درخواستیں بھی طلب کی گئی ہیں اور ان کا جائزہ جاری ہے۔

یہ اسکیم ٹیکنالوجی ریڈینس لیول ٹی آر ایل 4 اور اس سے اوپر کی سطح پر ٹیکنالوجی کی ترقی کی حمایت کرتی ہے، جس میں اسٹارٹ اپس، کمپنیاں اور صنعت کی قیادت میں چلنے والے تحقیقی ادارے شامل ہیں۔

 

مزید برآں، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) نیشنل مشن آن انٹرڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز(این ایم۔آئی سی پی ایس) نافذ کر رہا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی)، روبوٹکس، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)، سائبر سکیورٹی اور کوانٹم ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں میں 25 ٹیکنالوجی انوویشن ہبز (ٹی آئی ایچز) قائم کیے گئے ہیں۔ اسی مشن کے تحت بھارت-جین (BharatGen) اقدام بھی نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بھارت کے لیے موزوں ملٹی موڈل اور کثیر لسانی جنریٹو اے آئی ماڈلز تیار کرنا ہے۔

 

اس کے علاوہ، انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن(اے این آر ایف) اپنے مشن فار ایڈوانسمنٹ ان ہائی امپیکٹ ایریاز(ایم اے ایچ اے) کے تحت سائنس اور انجینئرنگ کے لیے مصنوعی ذہانت کی حمایت کرتا ہے، جس کے ذریعے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیا جاتا ہے اور اے آئی  پر مبنی حل کی تیاری اور کمرشلائزیشن کو تیز کیا جاتا ہے۔

 

مزید یہ کہ، مرکزی کابینہ نے مارچ 2024 میں انڈیا اے آئی مشن  کی منظوری دی، جس کے لیے پانچ سال کے دوران 10,371.92 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاکہ ملک میں ایک مضبوط اور جامع اے آئی  نظام قائم کیا جا سکے۔ یہ مشن وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد جدت کو فروغ دینا، تحقیق اور اسٹارٹ اپس کی حمایت کرنا، ڈیٹا تک رسائی بہتر بنانا اور ذمہ دارانہ اے آئی  کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ اس مشن کے سات اہم ستون ہیں، جن میں کمپیوٹنگ صلاحیت، فاؤنڈیشن ماڈلز، ڈیٹا سیٹس پلیٹ فارم، ایپلیکیشن ڈیولپمنٹ، اسکلنگ، اسٹارٹ اپ فنانسنگ اور محفوظ و قابلِ اعتماد اے آئی  شامل ہیں۔

 

اسی مشن کے تحت بھارت-جین  جیسے اقدامات شروع کیے گئے ہیں، جو بھارت کا مقامی کثیر لسانی اور ملٹی موڈل لارج لینگویج ماڈل ہے اور 22 بھارتی زبانوں کی حمایت کرتا ہے۔ مزید برآں، ایک خودمختارایل ایل ایم ایکو سسٹم کی تیاری کی بھی منظوری دی گئی ہے، تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی اور ڈیجیٹل اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

 

آر ڈی آئی،این ایم۔آئی سی پی ایس اور انڈیا اے آئی اور مشن کے تحت پانچ سال کے لیے تفصیلی مالی مختصات درج ذیل ہیں:

 

نمبرشمار

مالی سال

بجٹ مختص (کروڑ  روپےمیں)

 

این ایم ۔ آئی سی پی ایس

1

2024-25

815

2

2025-26

750.6

 

آر ڈی آئی اسکیم

3

2025-26

20,000

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اجزاء

کل اخراجات (کروڑ روپے میں)

انڈیا اے آئی کمپیوٹنگ کی صلاحیت

4563.36

انڈیا اے آئی فاؤنڈیشن ماڈلز

1971.37

انڈیا اے آئی ڈیٹاسیٹس پلیٹ فارم

199.55

انڈیا اے آئی ایپلیکیشن ڈیولپمنٹ انیشیٹو

689.05

انڈیا اے آئی فیوچرا سکلز

882.94

انڈیا اے آئی اسٹارٹ اپ فنانسنگ

1942.5

محفوظ اور قابل اعتماد اے آئی 

20.46

انڈیا اے آئی اوور ہیڈز اور کنٹین جینسی @1%

102.69

کل

10,371.92

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حکومت ملک میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جن میں سینٹرز آف ایکسیلنس(سی او ایز) کا قیام اور متعلقہ ادارہ جاتی ڈھانچے شامل ہیں۔

اس سلسلے میں، مصنوعی ذہانت کے تین سینٹرز آف ایکسیلنس کو صحت، زراعت اور پائیدار شہروں جیسے اہم شعبوں میں منظور کیا گیا ہے، جو معروف تعلیمی اداروں بشمول انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹیز) میں قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز کا مقصد تحقیق پر مبنی جدت کو فروغ دینا، قابلِ توسیع اے آئی  حل تیار کرنا اور تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

اس کے علاوہ، انڈیا اے آئی مشن کے تحت اعلیٰ معیار کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر تک رسائی فراہم کرنے، تحقیق اور جدت کی حمایت کرنے اور عوامی فلاح کے لیے اے آئی  ایپلیکیشنز کی ترقی کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

حکومت تعلیم اور ہنرمندی کے شعبے میں بھی اے آئی  نظام کو مضبوط بنا رہی ہے، جس کے تحت سینٹرز آف ایکسیلنس کے قیام اور تعلیمی نظام میں اے آئی  کو شامل کرنے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ نوجوانوں کو صنعت کے مطابق مہارتیں فراہم کی جا سکیں اور ایک مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ وزارتِ تعلیم ایسے اقدامات کی حمایت کر رہی ہے، جن میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سینٹرز آف ایکسیلنس اور ہنرمندی کے پروگرام شامل ہیں، جن سے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

یہ معلومات وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی علوم، اور وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔

*******

ش ح۔ش ت۔ رض

U-4260


(ریلیز آئی ڈی: 2257810) وزیٹر کاؤنٹر : 18
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी