صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزارتِ صحت کی طرف سے بہترین طریقۂ کار سے متعلق قومی سربراہی اجلاس میں آر بی ایس کے 2.0 رہنما اصول جاری
تازہ کاری شدہ خاکہ ’’چار ڈی‘‘ کے پہلے سے قائم طریقۂ کار — پیدائشی نقائص، امراض، غذائی کمی اور نشوونما میں تاخیر — کو مزید مضبوط اور وسیع بناتا ہے، جبکہ جدید دور کے صحت سے متعلق چیلنجوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے
نظرثانی شدہ رہنما اصولوں میں آر بی ایس کے 2.0 کے تحت پیدائش سے 18 برس تک کے بچوں کے لیے مربوط نگہداشت کا جامع نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں زندگی کے مختلف مراحل پر مبنی نقطۂ نظر کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ڈیجیٹلائزیشن اور پروگرام کی مؤثر عمل آوری کے نظام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 MAY 2026 2:34PM by PIB Delhi
ملک میں بچوں کی صحت سے متعلق خدمات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے حال ہی میں منعقدہ "عوامی صحت خدمات کی فراہمی میں بہترین طریقۂ کار اور اختراعات" سے متعلق قومی سربراہی اجلاس میں راشٹریہ بال سواستھیا کاریہ کرم (آر بی ایس کے) 2.0 رہنما اصول جاری کیے۔
آر بی ایس کے 2.0 رہنما اصول بھارت کے نمایاں اطفال صحت جانچ پروگرام میں ایک بڑی پیش رفت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ رہنما اصول ایک دہائی سے زائد عرصے کے نفاذ کے تجربے کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں اور ابھرتی ہوئی صحت ترجیحات کو شامل کرتے ہوئے پروگرام کے دائرۂ کار کو مزید وسیع کرتے ہیں۔ تازہ کاری شدہ خاکہ "چار ڈی" طریقۂ کار — پیدائشی نقائص، امراض، غذائی کمی اور نشوونما میں تاخیر — کو مزید مضبوط اور وسیع بناتا ہے، جبکہ غیر متعدی امراض، ذہنی صحت کے مسائل اور رویّے سے متعلق خدشات جیسے جدید دور کے صحت چیلنجوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
نظرثانی شدہ رہنما اصولوں میں احتیاطی، فروغی اور علاجی نگہداشت کا ایک جامع و مربوط نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو پیدائش سے لے کر 18 برس تک کے بچوں کے لیے پروگرام کے پہلے سے موجود زندگی کے مختلف مراحل پر مبنی نقطۂ نظر کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ اس میں ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہ تبدیلی بھارت میں بچوں کی صحت سے متعلق بدلتی ضروریات اور محض بقا نہیں بلکہ ہمہ جہت نشوونما و ترقی کو یقینی بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
آر بی ایس کے 2.0 کی ایک نمایاں خصوصیت جانچ کے دائرۂ کار میں توسیع ہے، جس کے تحت اب نشوونما سے متعلق عوارض، ذہنی صحت کے مسائل اور ذیابیطس و بلند فشارِ خون جیسے غیر متعدی امراض کے خطراتی عوامل سمیت مختلف بیماریوں اور مسائل کی جانچ کی جائے گی۔ جانچ کی خدمات حسبِ سابق آنگن واڑی مراکز اور اسکولوں میں موبائل ہیلتھ ٹیموں کے ذریعے فراہم کی جائیں گی، تاکہ ہر بچے تک رسائی اور بیماریوں کی بروقت شناخت یقینی بنائی جاسکے۔
رہنما اصولوں میں حوالہ جاتی نظام اور مسلسل نگہداشت کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے، جس کے تحت برادری کی سطح پر جانچ سے لے کر طبی مراکز میں تشخیص اور علاج تک واضح طریقۂ کار طے کیا گیا ہے۔ ایک مؤثر حوالہ جاتی نگرانی نظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جن بچوں میں کسی بیماری یا صحت مسئلے کی نشاندہی ہو، اُن کی مکمل علاجی مرحلے تک مسلسل نگرانی کی جائے، تاکہ علاج ادھورا نہ رہ جائے اور بروقت طبی مداخلت ممکن ہوسکے۔
حکومت کی ڈیجیٹل صحت پالیسی کے مطابق آر بی ایس کے 2.0 میں ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈ، فوری معلوماتی نظام اور نگرانی، جائزے اور خدمات کی فراہمی کے لیے مربوط پلیٹ فارم متعارف کرائے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ ڈیجیٹل اختراعات پروگرام کی کارکردگی، جوابدہی اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو ہر سطح پر مزید مؤثر بنائیں گی۔
رہنما اصول مختلف شعبوں کے باہمی اشتراک کو بھی فروغ دیتے ہیں، جس کے تحت صحت، تعلیم اور خواتین و اطفال کی ترقی سے وابستہ نظاموں کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ جامع اور مربوط خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ اسکول، آنگن واڑی مراکز اور برادری کی سطح کے پلیٹ فارم جانچ، بیداری اور بعد از علاج نگہداشت کے اہم مراکز کے طور پر کام کریں گے۔
ابتدائی شناخت کو مضبوط بنانے، حوالہ جاتی نظام کو بہتر کرنے اور مسلسل نگرانی کو یقینی بنانے کے ذریعے توقع ہے کہ آر بی ایس کے 2.0 سے بچوں کی صحت کے نتائج میں نمایاں بہتری آئے گی، بیماریوں کے بوجھ میں کمی ہوگی اور ملک بھر کے بچوں کی مجموعی فلاح و بہبود کو فروغ ملے گا۔
آر بی ایس کے 2.0 رہنما اصولوں کا اجرا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت ہر بچے کے لیے قابلِ رسائی، مساوی اور معیاری صحت خدمات کی فراہمی کے لیے مسلسل پُرعزم ہے، جس میں بروقت مداخلت، مسلسل نگہداشت اور طویل مدتی صحت نتائج پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6584
(ریلیز آئی ڈی: 2257628)
وزیٹر کاؤنٹر : 13