ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا  کا  این آئی پی ای آر  ، موہالی کا دورہ ،  بایوفارما   کی تحقیق و اختراع کا جائزہ لیا


انہوں نے این آئی پی ای آر  کے طبی فوائد کے حامل  رس دار پودوں کے باغ کا افتتاح کیا اور قابل منتقلی تحقیق اور صنعت کے ساتھ تال میل  پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 MAY 2026 6:10PM by PIB Delhi

وزارت کیمیکل و کھاد اور صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، موہالی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیر  موصوف نے  این آئی پی ای آر کے طبی فوائد رکھنے والے رس دار پودوں کے باغ کا افتتاح کیا۔

جناب جے پی  نڈا نے ادارے کے تزویراتی وژن، تحقیقی ترجیحات اور اختراعی نظام کا جائزہ لیا۔  این آئی پی ای آر ،  موہالی کے ڈائریکٹر پروفیسر دلار پانڈا کی جانب سے  متعارف کردہ جامع پیشکش میں اہم کارکردگی  کےاشاریوں اور تحقیق کو مضبوط بنانے نیز صنعت سے روابط بڑھانے کے لائحۂ عمل کو اجاگر کیا گیا۔ادارے نے اپنے مراکزِ امتیاز بھی پیش کیے، جن میں بایوفارماسیوٹیکل شعبے اور ابھرتے ہوئے معالجاتی شعبوں میں جدید کام شامل تھا، ساتھ ہی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجارتی استعمال سے متعلق جاری اقدامات  کو بھی اجاگر  کیا گیا۔

جناب جے پی  نڈا نے  اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومتِ ہند ملک کو بایوفارماسیوٹیکل کی ترقیات میں عالمی سطح پر  صفِ اول میں لانے کے لیے پُرعزم ہے، خصوصاً  اے پی آئی، بنیادی خام مواد، ترکیبی انٹرمیڈیٹس اور حیاتیاتی ادویات کے شعبوں میں نمایاں مقام دلانے کے لیے پابند عہد ہے۔ انہوں نے تحقیقی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یقین دلایا کہ اس شعبے میں اختراع اور مؤثر عمل درآمد کو تیز کرنے کے لیے مسلسل پالیسی سپورٹ  اور مالی معاونت جاری رہے گی۔ انہوں نے قومی ترقی میں کردار ادا کرنے والے صلاحیت مند  اور صنعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ماہرین تیار کرنے میں ادارے کے کردار کی بھی ستائش کی۔

محکمہ ادویات کے سکریٹری جناب منوج جوشی نے اساتذہ اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے صنعت سے تال میل، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عملی تحقیقی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز طلب کیں۔ انہوں نے کارکردگی بڑھانے کے لیے انعامی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور تجویز دی کہ بیرونی مالی معاونت حاصل کرنے والے اساتذہ اور صنعتی سرپرستی میں ہونے والی تحقیق کے لیے ترغیبات دی جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف کاغذی پیٹنٹ سے آگے بڑھ کر عملی استعمال اور تجارتی نفاذ کی جانب قدم بڑھانا ضروری ہے تاکہ قومی سطح پر زیادہ اثرات مرتب ہوں۔

ادارے کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے پروفیسر دلار پانڈا نے تحقیقی معیارِ امتیاز اور ممتاز سابق طلبہ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک پر توجہ مرکوز رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ حکومت کے بایوفارما شکتی مشن کو آگے بڑھانے میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے، جس میں سیل اور جین علاج، حیاتیاتی مشابہ ادویات، طبی آلات، مصنوعی ذہانت پر مبنی فارما معلوماتیات، اور جدید ادویہ ترسیلی نظام پر جدید تحقیق شامل ہے۔ بایوفارماسیوٹیکلز اور ضابطہ جاتی امور میں نئے ماسٹر پروگراموں کا آغاز بھی مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے کی اہم کوشش قرار دیا گیا۔

اس دورے کے بعد کنونشن سینٹر کے داخلی حصے میں تکنیکی نمائش منعقد ہوئی، جہاں مرکزی وزیر نے عملی تحقیق کے نتائج ظاہر کرنے والے پوسٹر اور نمونوں کا مشاہدہ کیا۔ اس نمائش میں این آئی پی ای آر  کی جانب سے کیے گئے صنعتی اشتراکات، پیٹنٹس اور طبی تجربوں کے اقدامات پیش کیے گئے۔یہ دورہ اس امر کا مظہر ہے کہ حکومتِ ہند ایک مضبوط اور خود کفیل بایوفارماسیوٹیکل نظام قائم کرنے کے واسطے  دواسازی کی  تعلیم کو مضبوط بنانے، اختراع کو فروغ دینے، اور تحقیق و ترقی کو فروغ دینے  کے لیے مسلسل کوشاں ہے ۔

******

(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)

Urdu No-6558


(ریلیز آئی ڈی: 2257378) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी