PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کا اے آئی لمحہ


مزید 20ہزار  جی پی یوز بھارت کی مصنوعی ذہانت میں قیادت کے اگلے مرحلے کا محرک

प्रविष्टि तिथि: 17 FEB 2026 10:31PM by PIB Delhi

1.png

بھارت مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک فیصلہ کن اور پُراعتماد پیش رفت کی تیاری کر رہا ہے۔ 17 فروری 2026 کو، نئی دہلی میں 16 سے 20 فروری تک منعقد ہونے والے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران، مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے اعلان کیا کہ بھارت اپنی کمپیوٹ صلاحیت کو موجودہ 38ہزار گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یو) سے آگے بڑھاتے ہوئے آئندہ چند ہفتوں میں مزید 20ہزار جی پی یوز کا اضافہ کرے گا۔یہ اعلان محض تکنیکی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ ایک اسٹریٹجک قدم تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت واضح حکمتِ عملی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور خود کو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی صفِ اول کی طاقتوں میں مضبوطی سے شامل کرنے کی جانب گامزن ہے۔

2.png

یہ اعلان سمٹ کے دوسرے دن سامنے آیا، جس کا موضوع تھا  ‘‘سروجن ہتایہ، سروجن سکھایہ’’  یعنی ‘سب کی بھلائی، سب کی خوشحالی’۔ اس تقریب کو پہلے ہی دنیا کے سب سے بڑا اےآئی اجتماع قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت منڈپم کے اندر ایک غیر معمولی جوش و خروش محسوس کیا جا رہا تھا، جہاں گفتگو جرات مندانہ، مستقبل پرمبنی اور عملی اقدامات پرمبنی تھی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ کمپیوٹ انفراسٹرکچر میں توسیع بھارت کی اے آئی حکمتِ عملی کے اگلے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں زیادہ صلاحیت کے ساتھ ذمہ دارانہ استعمال کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ موضوع محض علامتی نہیں تھا بلکہ اسی نے امپیکٹ سمٹ 2026 کے مجموعی مزاج کی تشکیل کی۔

عالمی سطح پر بھارت کا نقطۂ نظر نمایاں اور منفرد ہے۔ بہت سے ممالک میں جدید اے آئی انفراسٹرکچر چند بڑی کمپنیوں تک محدود ہے، جو یہ طے کرتی ہیں کہ اختراع کے مواقع کس کو ملیں گے۔ اس کے برعکس، بھارت ایک مختلف ماڈل تشکیل دے رہا ہے، جو 10,300 کروڑ  روپے سے زائد کے  انڈیا اے آئی مشن  پر مبنی ہے۔ اس مشن کے تحت رسائی کو وسیع کیا جا رہا ہے اور عوامی مفاد کے لیے ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اس اقدام کے تحت 38,000 سے زائد جدید جی پی یوز کو محض 65 روپے فی گھنٹہ کی شرح پر دستیاب کیا گیا ہے، جس سے اسٹارٹ اپس، محققین، طلبہ اور عوامی اداروں کے لیے کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ اس پالیسی کے پسِ منظر میں ایک مضبوط تصور کارفرما ہےاور وہ یہ ہےکہ ٹیکنالوجی کو سب کے لیے عام بنانا چاہیے۔

مرکزی وزیر کے مطابق مصنوعی ذہانت اُس عمل کو آگے بڑھا رہی ہے جسے انہوں نے پانچواں صنعتی انقلاب قرار دیا۔ اس کے اثرات زراعت، صحت، تعلیم، صنعت، حکمرانی اور ماحولیاتی اقدامات سمیت ہر شعبے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بھارت اس انقلاب کو محض دیکھ نہیں رہا بلکہ اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ جی پی یوز کی صلاحیت میں اضافہ ایک ایسے ملک کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے عزائم کو مضبوط انفراسٹرکچر اور وژن کو مؤثر عملدرآمد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

سمٹ کا افتتاح 16 فروری 2026 کو ہوا، جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو کا افتتاح کیا۔ یہ ایک علامتی اور بامعنی لمحہ تھا، جہاں عالمی سطح کی اہم ٹیکنالوجی گفتگو گلوبل ساؤتھ میں، بھارت کی قیادت میں جاری تھی۔ اس سے یہ پیغام واضح ہوا کہ مصنوعی ذہانت میں قیادت اب روایتی طاقت کے مراکز تک محدود نہیں رہی بلکہ نئی آوازیں بھی عالمی ایجنڈا تشکیل دے رہی ہیں۔

اس سمٹ میں غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے، جس میں 20 سے زائد سربراہانِ مملکت، 60 وزراء اور 500 عالمی اے آئی قائدین شریک ہیں۔ پالیسی ساز ماہرینِ ٹیکنالوجی کے ساتھ مکالمہ کر رہے ہیں، جبکہ اختراع کار، ماہرینِ تعلیم اور صنعت کے رہنما باہمی تبادلۂ خیال میں مصروف ہیں۔ یوں یہ سمٹ خیالات، شراکت داریوں اور عزم کا ایک مرکزی پلیٹ فارم بن چکی  ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ دنیا صرف بھارت کے اے آئی سفر کا مشاہدہ ہی نہیں کر رہی بلکہ اس میں بھرپور شمولیت اختیار کر رہی ہے۔

 

یہ جوش و خروش رسمی اجلاسوں سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ سمٹ کے پہلے ہی دن بھارت بھر میں ڈھائی لاکھ سے زائد طلبہ نے ذمہ دارانہ اختراع کے لیے اے آئی کے استعمال کا عہد کیا۔ اس اقدام کو گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل کروانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ طلبہ کی اجتماعی شرکت کی یہ تصویر ایک ایسے ملک کی عکاسی کرتی ہے جو ذمہ داری اور امید کے ساتھ اے آئی کو اپنا رہا ہے۔ ایک نئی نسل آگے بڑھ رہی ہے، جو قیادت کے لیے تیار ہے۔

سرمایہ کاری کی رفتار بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عزت مآب  وزیر جناب اشونی ویشنو نے پُراعتمادی کا اظہار کیا کہ آئندہ دو برسوں میں بھارت کے اے آئی ایکو سسٹم میں 200 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ وینچر کیپیٹل فرمیں اے آئی اسٹیک کی تمام سطحوں پر ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس میں سرمایہ لگا رہی ہیں، جبکہ بڑے حل اور اہم ایپلی کیشنز کو بھی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ دلچسپی کا یہ پیمانہ عالمی سطح پر بھارت کے اے آئی مستقبل پر اعتماد کی واضح علامت ہے۔

سرمایہ کاری کے اعتماد کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر تکنیکی صلاحیت بھی مضبوطی سے ابھر رہی ہے۔ بھارت کے خودمختار اے آئی ماڈلز اس سمٹ کی ایک نمایاں خصوصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہاں پیش کیے گئے کئی ماڈلز کو عالمی معیار کے مطابق سخت جانچ سے گزارا گیا ہے اور جب ان کا تقابل بین الاقوامی نظاموں سے کیا گیا تو متعدد بھارتی ماڈلز مختلف پیمانوں پر بہتر قرار پائے۔ یہ محض تدریجی پیش رفت نہیں بلکہ مسابقتی برتری کی عکاسی ہے، جو اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ بھارت اپنی منفرد صلاحیتوں کے ساتھ ایک سنجیدہ عالمی اے آئی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس کی تصدیق ہو رہی ہے۔ اسٹینفورڈ نے بھارت کو دنیا کے سرفہرست تین اے آئی ممالک میں شامل کیا ہے۔ بھارت کو تیزی سے ایک ایسے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں صلاحیت، پالیسی اور انفراسٹرکچر یکجا ہو رہے ہیں۔ 38,000 سے بڑھ کر 58,000 سے زائد جی پی یوز تک توسیع اسی بنیاد کو مزید مضبوط بناتی ہے اور ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ بھارت قیادت کے لیے تیاری کر رہا ہے۔

اس قیادت کے مرکز میں “سب کے لیے دستیاب کرانے” کا تصور ہے۔ اے آئی کے استعمال کو سب کے لیےعام کرنا صرف تیار شدہ ایپلی کیشنز تک رسائی تک محدود نہیں بلکہ اس میں کمپیوٹنگ طاقت، ڈیٹا سیٹس اور ماڈل ایکو سسٹم تک رسائی بھی شامل ہے۔ جب یہ بنیادی وسائل بڑے پیمانے پر اور مناسب لاگت پر دستیاب ہوں تو اختراع فروغ پاتی ہے۔ اسٹارٹ اپس جرات مندانہ تجربات کر سکتے ہیں، محققین بڑے خیالات کو آزما سکتے ہیں اور عوامی ادارے ایسی اے آئی خدمات فراہم کر سکتے ہیں جو لاکھوں لوگوں تک پہنچیں۔ یوں انفراسٹرکچر خود بااختیاری کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

3.jpg

 

سمٹ کا فکری ڈھانچہ تین بنیادی “سوتر” (اصولوں) پر قائم ہے۔ پہلا ہے  انسان ، جو اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ اے آئی کو انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے، اس طرح کے اس کا تمام تر تنوع اور وقار و شمولیت برقرار رہے۔ دوسرا ہے  سیارہ، جو اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ اختراع ماحولیاتی ذمہ داری اور پائیداری سے ہم آہنگ ہو۔ تیسرا ہے  ترقی  جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ اے آئی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات میں منصفانہ طور پر تقسیم ہوں۔ یہ تینوں اصول مل کر بلند عزائم کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

ان اصولوں کی بنیاد پر غور و فکر کو سات “چکروں” کے تحت منظم کیا گیا ہے، جو فلسفے کو عملی اقدامات میں ڈھالتے ہیں۔  ہیومن کیپیٹل چکر  ایک منصفانہ اے آئی ری اسکلنگ نظام کی تشکیل اور افرادی قوت کو اے آئی معیشت کے لیے تیار کرنے پر مرکوز ہے۔  شمولیت برائے سماجی بااختیاری چکر  ایسے مشترکہ اے آئی حل تلاش کرتا ہے جو آخری سطح تک خدمات کی مؤثر فراہمی کو مضبوط بنائیں۔ یہ مباحث نہایت عملی اور مستقبل پر نگاہ رکھنے والے ہیں۔

 محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی چکر  عالمی اصولوں کو قابلِ عمل اور ہم آہنگ حکمرانی کے فریم ورک میں ڈھالنے پر توجہ دیتا ہے، تاکہ داخلی نگرانی کو مضبوط بناتے ہوئے اختراع کو بھی فروغ دیا جا سکے۔  لچیلا پن، اختراع اور کارکردگی چکر  بڑے پیمانے پر اے آئی نظاموں سے وابستہ ماحولیاتی اور وسائل کے چیلنجز کا احاطہ کرتا ہے، تاکہ ترقی پائیدار رہے۔ یہ امور ثانوی نہیں بلکہ طویل مدتی قیادت کے لیے نہایت اہم ہیں۔

 سائنس چکر  کا مقصد صحت، زراعت اور موسمیاتی شعبوں میں دریافت کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اے آئی سے فائدہ اٹھانا اور تحقیق تک رسائی میں عدم مساوات کو کم کرنا ہے۔  اے آئی وسائل کوسب کے لیے عام کرنے سے متعلق  چکر  عالمی اے آئی ویلیو چین میں مساوی شرکت کا تصور پیش کرتا ہے۔ جبکہ  معاشی ترقی اور سماجی بھلائی کے لیے اے آئی چکر  ایسے اہم استعمالات کی نشاندہی کرتا ہے جو معیشتوں اور معاشروں میں نمایاں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ہر چکر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت اے آئی کو قابلِ پیمائش نتائج سے جوڑنے کے لیے پُرعزم ہے۔

نتائج کے تئیں یہی عزم سمٹ کے دوران ایک اہم اعلان کی صورت میں بھی سامنے آیا۔ حکومتِ ہند نے 6 شعبہ جاتی  اے آئی امپیکٹ کیس بُکس  جاری کیں، جن میں صحت، توانائی، صنفی بااختیاری، تعلیم، زراعت اور قابلِ رسائی خدمات جیسے ترجیحی شعبوں میں 170 سے زائد نافذ شدہ اور قابلِ توسیع اے آئی اختراعات کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ کیس بُکس محض ابتدائی نمونے یا آزمائشی منصوبے نہیں بلکہ ایسے حلوں کی دستاویز ہیں جو پہلے ہی نتائج فراہم کر رہے ہیں، اور جنہیں وسیع پیمانے پر دہرایا اور پھیلایا جا سکتا ہے۔

یہ پیش رفت صرف دستاویزات سازی تک محدود نہیں رہی۔ عملی نفاذ کایہی جذبہ سمٹ کے اعلیٰ سطحی پینل مباحثوں میں بھی  جھلکتا تھا، جہاں اصولوں اور آزمودہ ماڈلز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، انہیں بہتر بنایا گیا اور مختلف شعبوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا۔ ریل ٹیل کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ نے عوامی صحت میں اے آئی کے استعمال پر دو خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا، جن میں بھارت اور اس سے آگے کے لیے جامع صحت خدمات اور سب کے لیے قابلِ رسائی صحت نظام پر غور کیا گیا۔ ماہرین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ اے آئی کس طرح عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے اور مختلف خطوں تک اس کی رسائی کو بہتر کر سکتا ہے۔

سمٹ کے دوسرے دن “نظم ونسق میں اے آئی: حکومتی کارکردگی میں انقلاب ” کے عنوان سے ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں عالمی محققین اور اعلیٰ پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ اس نشست میں اس بات پر غور کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو کس طرح بڑے پیمانے پر عوامی خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گفتگو محض تجرباتی منصوبوں یا نظری امکانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس نتائج، سخت جانچ اور ذمہ دارانہ نفاذ پر مرکوز رہی۔ زور اس بات پر دیا گیا کہ حکومتی سطح پر نظامی تیاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ اے آئی کا انضمام سوچ سمجھ کر، قابلِ توسیع اور ذمہ دارانہ طریقے سے کیا جا سکے۔

صرف نظاموں اور خدمات کی فراہمی پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ اس کا دائرہ انسان اور مستقبل کے روزگار تک بھی وسیع ہوا۔ اے آئی کے دور میں روزگار کے مستقبل پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں، ماہرینِ تعلیم اور اختراع کاروں  نے شرکت کی۔ اس گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محدود تکنیکی مہارتوں سے آگے بڑھ کر انسانی صلاحیتوں پر مبنی مہارتیں اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ بھارت کی آبادیاتی قوت کو اس تناظر میں ایک نمایاں برتری کے طور پر بار بار اجاگر کیا گیا۔

‘‘الگورتھم  سے نتائج تک ’’کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کمپیوٹنگ صلاحیت، ماڈلز اور ڈیٹا کو ایسے قابلِ عمل حلوں میں ڈھلنا چاہیے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں، حکمرانی کو مضبوط بنائیں اور شہریوں کو ٹھوس فوائد فراہم کریں۔ اسی طرح‘‘بھارت کے خودمختاراے آئی اور ڈیٹاکے اثرات کا جائزہ’’  کے موضوع پر گفتگو میں اس پہلو کا جائزہ لیا گیا کہ بھارت کس طرح اے آئی کے صرف صارف ہونے سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر اثرانداز ہونے والے نظاموں کا خالق بن سکتا ہے۔

ان تمام مباحثوں کے دوران ایک حقیقت واضح طور پر سامنے آئی کہ اس پیمانے کے عزائم کے لیے اسی درجے کے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔

جیسے جیسے سمٹ آگے بڑھ رہا ہے، 20ہزار  جی پی یوز کا اضافہ ایک نمایاں سنگِ میل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ پیمانے، رسائی اور سب سے بڑھ کر عزم و یقین کی علامت ہے۔ بھارت محض تدریجی پیش رفت پر اکتفا نہیں کر رہا بلکہ تیز رفتاری اور واضح مقصد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو وسعت دے رہا ہے۔ انفراسٹرکچر کی توسیع، عالمی تعاون اور مضبوط اخلاقی فریم ورک کو یکجا کرتے ہوئے بھارت خود کو ایک نمایاں عالمی اے آئی طاقت کے طور پر منوا رہا ہے، جو ایک ایسے مستقبل کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے جہاں اختراع کے ذریعے فلاح، خوشحالی اور مشترکہ ترقی کو فروغ ملے۔

حوالے

Click here to see PDF

  **********

ش ح۔ ک ح۔ت ا

U. No- 6501


(रिलीज़ आईडी: 2257062) आगंतुक पटल : 26
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali