کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

سینٹر فار ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ لاء  اور ساؤتھ ایشیا انٹرنیشنل اکنامک لاء نیٹ ورک کے زیرِ اہتمام کثیر جہتی تجارتی نظم و نسق کے مستقبل اور عالمی تجارتی تنظیم کے کردار پر ایک ورچوئل ٹریڈ ٹاک کا انعقاد

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 APR 2026 4:18PM by PIB Delhi

سینٹر فار ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ لاء (سی ٹی آئی ایل)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ نے ساؤتھ ایشیا انٹرنیشنل اکنامک لاء نیٹ ورک (ایس اے آئی ای ایل این) کی شراکت داری میں 27 اپریل 2026 کو ’’کثیر جہتی تجارتی نظم و نسق کا مستقبل اور ڈبلیو ٹی او کا کردار‘‘ کے عنوان پر ایک ورچوئل ٹریڈ ٹاک کا انعقاد کیا۔ اس ٹریڈ ٹاک میں حکومتِ ہند کی وزارتِ تجارت و صنعت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب امیتابھ کمار نے بطور مہمانِ خصوصی اور ہارورڈ لاء اسکول کے پروفیسر مارک وو ہنری ایل اسٹمسن پروفیسر آف لاء نے کلیدی مقرر کے طور پر شرکت کی۔

اس گفتگو کا محور خاص طور پر ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی، تکنیکی اور اقتصادی چیلنجوں کے تناظر میں کثیر جہتی تجارت کے نظم و نسق میں عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کا ابھرتے ہوئے کردار تھا۔ بحث کے دوران ڈبلیو ٹی او کے بنیادی افعال—نگرانی، گفت و شنید اور تنازعات کے حل—کا جائزہ لیا گیا اور موجودہ تجارتی حرکیات سے نمٹنے میں ان کی موثریت کا تخمینہ لگایا گیا۔

جناب امیتابھ کمار نے اپنے خطاب میں ایک قواعد پر مبنی کثیر جہتی ادارے کے طور پر ڈبلیو ٹی او کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اتفاقِ رائے پر مبنی فیصلہ سازی کی اہمیت اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ’’خصوصی اور امتیازی سلوک‘‘ کی مسلسل مطابقت پر زور دیا اور اس بات کی وضاحت کی کہ تمام ڈبلیو ٹی او ممبران کے لیے یکساں مواقع  برقرار رکھنے کے لیے یہ کیوں ضروری ہیں۔ انہوں نے کثیر جہتی طریقوں پر بڑھتے ہوئے انحصار اور غیر ٹیرف اقدامات  کی بھرمار سے متعلق خدشات کا بھی اظہار کیا۔

اس سیشن میں ڈبلیو ٹی اوکے تنازعات کے حل کے طریقۂ کار کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا، بالخصوص 2019 سے اپیلٹ باڈی کے مسلسل غیر فعال ہونے پر بات کی گئی۔ بحث کے دوران اہم اصولوں جیسے کہ سب سے پسندیدہ ملک (ایم ایف این)  کی ذمہ داریوں میں کمی اور تجارتی اقدامات میں قومی سلامتی کے استثنیٰ کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی غور کیا گیا۔

پروفیسر مارک وو نے ڈبلیو ٹی او کے ادارہ جاتی افعال کا تخمینہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کمیٹیوں اور تجارتی پالیسی کے جائزوں کے ذریعے نگرانی کا کام جاری ہے، لیکن مذاکرات کو اب بھی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اپیلٹ باڈی کی معطلی کی وجہ سے تنازعات کے حل کا نظام اب بھی متاثر ہے اور اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ کس طرح عبوری میکانزم، جیسے کہ ملٹی پارٹی انٹرم اپیل آربیٹریشن ارینجمنٹ (ایم پی آئی اے) جزوی حل فراہم کرتے ہیں۔

پروفیسر وو نے ڈبلیو ٹی او پر اثر انداز ہونے والے وسیع تر ساختی عوامل کا بھی جائزہ لیا، جن میں جغرافیائی سیاسی مقابلہ، تکنیکی کایا پلٹ اور عالمی اقتصادی عدم توازن شامل ہیں۔ اس گفتگو میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ یہ عوامل کثیر جہتی تجارتی نظام کے لیے ایک عبوری دورکا سبب بن رہے ہیں، جس کے اثرات ڈبلیو ٹی او کے مستقبل کے کردار اور کارکردگی پر مرتب ہوں گے۔

اس ٹریڈ ٹاک کی نظامت پروفیسر جیمز جے نیڈومپارا، پروفیسر اور ہیڈ،سی ٹی آئی ایل اور انڈیا چیئر، ڈبلیو ٹی او چیئرز پروگرام نے کی۔

اس سیشن کا اختتام شرکاء کے ساتھ ایک انٹرایکٹو مباحثے پر ہوا، جس میں تنازعات کے حل، اتفاقِ رائے پر مبنی فیصلہ سازی اور کثیر جہتی تجارتی نظم و نسق کے مستقبل کے رخ سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

******

ش ح۔ ک ح –م ش

U.NO.6439

 


(ریلیز آئی ڈی: 2256494) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी