سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
این ایچ اے آئی (نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا) نے قومی شاہراہوں کی تعمیر اور دیکھ بھال میں مصروف افرادی قوت کو شدید گرمی (ہیٹ ویو) کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 APR 2026 4:50PM by PIB Delhi
شدیدلو(ہیٹ ویو)اور موجودہ موسمِ گرما میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے پیش نظر، این ایچ اے آئی (نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا) نے جامع رہنما اصول جاری کیے ہیں، جن کا مقصد افرادی قوت کی صحت کا تحفظ اور ہیٹ ویو کے دوران قومی شاہراہوں کے صارفین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ہدایات این ایچ اے آئی کے دائرۂ اختیار میں آنے والے تعمیراتی مقامات، مرمتی کاموں اور ٹول پلازوں پر لازمی حفاظتی اقدامات کو واضح کرتی ہیں۔ بہترین عملی طریقوں کی بنیاد پر یہ حفاظتی اقدامات فوری طور پر تمام ٹھیکیداروں، کنسیشنائرز اور ٹول وصولی ایجنسیوں کی جانب سے نافذ کیے جائیں گے تاکہ کارکنوں اور عملے کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔
تعمیراتی اور مرمتی منصوبوں کے لیے ہدایات
این ایچ اے آئی نے ٹھیکیداروں اور کنسیشنائرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ مزدوروں کے لیے کام کے اوقات اس طرح ترتیب دیں کہ دوپہر 12 بجے سے 4 بجے تک کے شدید گرمی والے اوقات سے بچا جا سکے۔ بھاری مشقت والے اور حرارت پیدا کرنے والے کام جیسے اسفالٹ بچھانا اور ویلڈنگ وغیرہ صبح سویرے یا شام کے اوقات میں انجام دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شدید گرمی کی صورت میں باقاعدہ وقفوں کے ساتھ لازمی آرام (کولنگ بریکس) کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
مزدوروں کی موافقت (اکلائمٹائزیشن) پر خصوصی زور دیا گیا ہے، تاکہ نئے یا واپس آنے والے کارکنوں کو 3 سے 5 دن کے دوران بتدریج سخت کاموں کا عادی بنایا جائے۔ کارکنوں کو ہیٹ اسٹروک سمیت گرمی سے متعلق بیماریوں کی شناخت اور فوری ردعمل کی تربیت بھی دی جائے گی۔
سائٹ پر مناسب سہولتوں کو یقینی بنانے کے لیے سایہ دار عارضی آرام گاہیں، مناسب ہوا داری اور ٹھنڈے و صاف پینے کے پانی کی بلا تعطل فراہمی لازمی قرار دی گئی ہے۔ ابتدائی طبی مراکز، گشت کرنے والی گاڑیاں اور سائٹ سپروائزرز کو او آر ایس (اورل ری ہائیڈریشن سالٹس) اور گلوکوز کا ذخیرہ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اگرچہ حفاظتی آلات کا استعمال لازمی ہے، تاہم سانس لینے کے قابل کاٹن پر مبنی ہائی وِزیبلٹی واسٹس کے استعمال کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
ہنگامی تیاری کے اقدامات کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ این ایچ اے آئی کی پیٹرول ایمبولینسز میں آئس پیک، ٹھنڈا پانی اور آئی وی فلوئڈز موجود رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ روٹ پیٹرولنگ یونٹس (آر پی یوز) کو بھی نگرانی کی فریکوئنسی بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ گرمی سے متاثرہ مسافروں اور گاڑیوں کے اوورہیٹنگ جیسے مسائل میں فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
ٹول پلازوں اور آپریشنز کے لیے ہدایات
ٹول آپریشنز کے حوالے سے این ایچ اے آئی نے ہدایت دی ہے کہ عملے کو شدید گرمی کے اوقات، یعنی صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک، بیرونی ماحول میں کم سے کم رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے شفٹوں کو بہتر انداز میں ترتیب دے کر اور باری باری ڈیوٹی (روٹیشنل روسٹر) کے نظام کے تحت کام کیا جائے گا۔ رات کے اوقات کو اُن انتظامی اور دیکھ بھال کے کاموں کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے گا جن میں مصروف شاہراہ لینز پر موجودگی ضروری نہیں ہوتی۔ ٹول پلازہ کے عملے کو گرمی سے متعلق صحت کے مسائل کی شناخت اور فوری ردعمل کی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ وہ عملے اور مسافروں کی مدد کر سکیں۔
اس کے علاوہ ٹول بوتھس، آرام گاہوں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنڈ کولنگ رومز قائم کیے جائیں گے۔ لینز کے قریب اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے عملے کے لیے عارضی شیڈز اور سایہ دار چھتوں کی تنصیب بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ تمام ٹول مقامات پر ٹھنڈے پینے کے پانی کی بلا تعطل فراہمی کے ساتھ ساتھ او آر ایس (اورل ری ہائیڈریشن سالٹس) اور گلوکوز کی دستیابی بھی لازمی ہوگی۔
ان ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے این ایچ اے آئی کے فیلڈ افسران ہر ہفتے منصوبہ جاتی مقامات اور ٹول پلازوں کا معائنہ کریں گے۔
یہ اقدامات ہیٹ ویو کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیں گے جبکہ قومی شاہراہوں کی تعمیر اور آپریشنز بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں گے۔ این ایچ اے آئی ملک بھر میں افرادی قوت کی فلاح و بہبود اور شاہراہ استعمال کرنے والوں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح دینے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
***
( ش ح ۔ م م ۔ م ا )
U.No-6411
(ریلیز آئی ڈی: 2256303)
وزیٹر کاؤنٹر : 13