دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جموں و کشمیر کے لیے بڑی پیش رفت: دیہی ترقی کو تیز کرنے کے لیے 3,566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کو منظوری


سری نگر میں بڑا اعلان: شیوراج سنگھ چوہان نے اسٹیج پر عمر عبداللہ کو پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی-4) کی منظوری کا خط سپرد کیا

خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب اہم قدم: دین دیال انتودیہ یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت 4,568 کروڑ روپے سے زائد کی منظوری جاری

دل کے دُواربھی کھلے ہیں، دلی کے دُوار بھی کھلے ہیں: شیوراج سنگھ چوہان

’’ترقی یافتہ جموں و کشمیر ہی ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد ہے‘‘: شیوراج سنگھ چوہان نے سڑکوں، روزگار، رہائش اور زراعت کے لیے جامع لائحۂ عمل پیش کیا

کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، ہر گاؤں سڑک سے جڑے گا: مربوط کھیتی باڑی اور سائنسی زراعت پر خصوصی زور

’’8,000 کروڑ روپے کی منظوری ایک تاریخی قدم ہے‘‘: عمر عبداللہ نے تیز رفتار عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے جموں و کشمیر میں ہمہ گیر تبدیلی کی یقین دہانی کرائی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 APR 2026 2:12PM by PIB Delhi

جموں و کشمیر میں دیہی بنیادی ڈھانچے، خواتین کو بااختیار بنانے اور زراعت پر مبنی خوشحالی کے فروغ کو آج بڑی تقویت ملی جب زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے سری نگر کے ایس کے آئی سی سی (شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر) میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی-4) (بیچ دوم) کے تحت منظور شدہ منصوبوں کی منظوری کا خط جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کے حوالے کیا۔اس موقع پر دین دیال انتودیہ یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت 24 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 4,568.23 کروڑ روپے سے زائد کی ’’مدر منظوری‘‘ بھی جاری کی گئی۔اس پروگرام میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ، نائب وزیرِ اعلیٰ سریندر کمار چودھری، جموں و کشمیر کے وزیر برائے زراعت، دیہی ترقی، پنچایتی راج، امداد باہمی اور انتخابات جاوید احمد ڈار، قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما، ارکانِ پارلیمنٹ، متعدد اراکینِ اسمبلی، وزارتِ دیہی ترقی کے سیکریٹری روہت کنسل، جموں و کشمیر حکومت کے سینئر افسران اور بڑی تعداد میں دیہی عوام، کسانوں اور مستفید خواتین نے شرکت کی۔

عوام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کسی رسمی حیثیت یا عہدے کے احساس کے ساتھ نہیں بلکہ خدمت کے جذبے کے تحت آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند صرف سڑکیں بنانے تک محدود نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے ’’دل کے دروازے بھی کھلے ہیں اور دلی کے دروازے بھی کھلے ہیں‘‘۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی-4) کے پہلے مرحلے میں جموں و کشمیر کو ترجیح دی گئی تھی اور اب دوسرے مرحلے میں بھی اسے فوقیت دی گئی ہے، جو اس خطے کے لیے مرکز کی مضبوط وابستگی اور سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ایک ہی سال کے اندر جموں و کشمیر کے لیے تقریباً 8,000 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری ایک تاریخی کامیابی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جیسے جیسے منظور شدہ سڑکوں پر تعمیراتی کام آگے بڑھے گا، مرکزی حکومت باقی درکار راستوں کے لیے بھی مثبت فیصلے کرتی رہے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقصد صرف سڑکوں کی تعمیر نہیں بلکہ ہر گاؤں، بستی اور دور دراز علاقے کو ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑنا ہے، کیونکہ سڑکیں لوگوں کو اسکولوں، اسپتالوں، منڈیوں اور روزگار کے مواقع کے قریب لے آتی ہیں۔

خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ دین دیال انتودیہ یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت 24 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے لیے 4,568.23 کروڑ روپے سے زائد کی ’’مدر منظوری‘‘ جاری کی گئی ہے۔جموں و کشمیر کی خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقصد صرف ’’لکھپتی دیدیوں‘‘ کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انہیں مضبوط اور خودمختار کاروباری خواتین (انٹرپرینیورز) میں تبدیل کرنا ہے۔اس موقع پر شیوراج سنگھ چوہان اور عمر عبداللہ نے ’’لکھپتی دیدیوں‘‘ کو اعزاز سے بھی نوازا۔

زراعت اور کسانوں سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے جموں و کشمیر میں چھوٹی زمینوں، دشوار گزار جغرافیائی حالات اور موسمی خطرات جیسے چیلنجز کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت اس خطے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ٹھوس اقدامات کرے گی، جن میں بہتر اقسام کے معیاری اور صحت مند پودے لگانے کے سازو سامان کا فروغ، اعلیٰ معیار کی نرسریوں کا قیام اور سائنسی بنیادوں پر فصلوں کی تنوع کاری کو آگے بڑھانا شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (بھارتی کونسل برائے زرعی تحقیق) کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو جموں و کشمیر بھیجا جائے گا، جو وہاں کے موسم، مٹی، آبی وسائل اور زرعی امکانات کا تفصیلی مطالعہ کرے گی اور ایک جامع روڈمیپ تیار کرے گی۔

مربوط کھیتی باڑی (انٹیگریٹڈ فارمنگ) کو کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا ایک مؤثر ماڈل قرار دیتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ صرف اناج، پھل یا سبزیوں پر انحصار کرنے کے بجائے کسان مویشی پروری، ماہی پروری، بھیڑ اور بکری پالنا، شہد کی مکھیوں کی پرورش اور دیگر معاون سرگرمیوں کو شامل کر کے اپنی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر ایک جامع پروگرام تیار کرے گی، جس کے ذریعے زراعت کو زیادہ منافع بخش، پائیدار اور روزگار پیدا کرنے والا شعبہ بنایا جا سکے۔

اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انہیں جموں و کشمیر کا سچا دوست اور خیر خواہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا:’’میں دل کی گہرائیوں سے شیوراج سنگھ چوہان کا سری نگر میں خیر مقدم کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ آپ جموں و کشمیر کے عوام کے حقیقی دوست اور ہمدرد ہیں۔ ‘ماما’ کے طور پر جو محبت آپ کو ملی ہے، وہ بالکل بجا ہے اور آپ پر خوب جچتی ہے۔ ہم نے بھی آپ کو اسی محبت اور اعتماد کے ساتھ قبول کیا ہے۔ آپ نے ہمارے تعلقات کو مضبوط بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے آپ کی حمایت اور وابستگی قابلِ ستائش ہے۔‘‘

عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران شیوراج سنگھ چوہان نے جموں و کشمیر کی ضروریات کے حوالے سے مسلسل حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے تقریباً 8,000 کروڑ روپے کی منظوری کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی مرحلے میں اتنی بڑی منظوری نہایت اہمیت کی حامل ہے اور ریاستی حکومت اس پر تیزی سے عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کے جغرافیائی حالات، بکھری ہوئی آبادی اور پہاڑی علاقوں کے چیلنجز کے پیش نظر سڑکوں کا رابطہ نہایت انقلابی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے ابتدائی مراحل نے پہلے ہی دور دراز علاقوں کو اسکولوں، اسپتالوں، منڈیوں اور بنیادی سہولیات سے جوڑ دیا ہے، جبکہ چوتھا مرحلہ باقی ماندہ بستیوں کو جوڑنے کے لیے نہایت اہم ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت منظور شدہ منصوبوں پر پوری سنجیدگی سے عمل کرے گی، مرکزی معاونت اور مشترکہ وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے دیہی عوام، کسانوں، باغبانوں اور خود امدادی گروپوں سے وابستہ خواتین کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لائے گی۔

***

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

U.No-6397


(ریلیز آئی ڈی: 2256235) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati